اصل بات تو یہی ہے کہ جھوٹ حرام ہے۔ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جھوٹ سے بچو۔ کیونکہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی دوزخ کی طرف۔ آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کے درپہ رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں کذاب لکھ دیا جاتا ہے“۔ (صحیح مسلم)۔ تاہم جھوٹ سے تین امور مستثنی ہیں: 1. وہ جھوٹ جس کا مقصد لوگوں کے مابین صلح کرانا ہو۔ 2. جنگ میں جھوٹ بولنا۔ 3. خاوند اور بیوی کا آپس میں جھوٹ بولنا۔ یہ تین امور ہیں جن میں از روئے حدیث جھوٹ بولنا جائز ہے کیونکہ ان میں فائدہ ہے اور ان سے کوئی برائی جنم نہیں لیتی۔ اول: جھگڑنے والے دو افراد یا دو قبیلوں کے مابین اصلاح کے لیے جھوٹ بولنا بایں طور کہ وہ اچھی بات دوسرے تک پہنچائے اور ان میں سے ہر ایک سے کہے کہ دوسرا اس کی تعریف کر رہا تھا اور اس کا اچھے انداز میں ذکر کر رہا تھا حالانکہ اس نے ایسی کوئی بھی بات نہ سنی ہو تاہم اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ ان دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لائے اور ان کے مابین موجود نفرت و وحشت کو دور کرے۔ ایسا کرنا جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ اس کا مقصد اصلاح پیدا کرنا اور دلوں میں موجود دشمنی، رنجش اور نفرت کا ازالہ ہو۔ دوم: دورانِ جنگ جھوٹ بولنا۔ وہ اس طرح کہ وہ ایسے ظاہر کرے کہ اس میں بہت طاقت ہے اور ایسی گفتگو کرے جس سے اس کے ساتھیوں کی بصیرت تیز ہو اور اس کے دشمن کو دھوکا لگے۔ یا پھر یہ کہے کہ مسلمانوں کا لشکر بہت زیادہ ہے اور انہیں بہت کمک مل گئی ہے۔ یا کہے کہ اپنے پیچھے دیکھو، فلاں تمہارے پیچھے تمہیں مارنے کے لیے آ رہا ہے ۔۔۔ یہ سب جائز ہے کیونکہ اس میں اسلام اور مسلمانوں کا بہت فائدہ ہے۔ سوم: آدمی کا اپنی بیوی سے جھوٹ بولنا یا بیوی کا اپنے شوہر سے جھوٹ بولنا۔ مثلاً وہ اس سے کہے تم مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو اور مجھے تمہاری جیسی عورت اچھی لگتی ہے یا اسی طرح کے اور الفاظ کہے جن سے ان دونوں کے مابین الفت و محبت جنم لے۔ اسی طرح بیوی کا بھی اپنی شوہر سے اس طرح کی باتیں کہنا جائز ہے کیونکہ اس میں بہت فوائد مضمر ہیں۔ تاہم میاں بیوی کے مابین جھوٹ کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ ایسا ہو جس سے الفت و محبت اور ان کی باہمی معاشرت کو دوام حاصل ہو۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں تک شوہر کا اپنی بیوی سے اور بیوی کا اپنے شوہر سے جھوٹ بولنا کا تعلق ہے تو اس سے مراد وہ جھوٹ ہے جو اظہار محبت کے لیے بولا جائے یا کسی ایسی شے کا وعدہ کرتے ہوئے بولا جائے جس کا مہیا کرنا اس کے لیے لازمی نہ ہو وغیرہ۔ مرد یا عورت کا اپنے اوپر واجب ہونے والی ذمہ داریوں سے چھٹکارا پانے کے لیے یا پھر کسی ایسی شے کے ہتھیانے کے لیے ایک دوسرے کو دھوکا دینا جو ان کی نہیں ہے تو اس طرح کے جھوٹ کے حرام ہونے پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ حافط ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ بیوی یا شوہر کے ساتھ جھوٹ بولنے سے مراد وہ جھوٹ ہے جس کا مقصد شوہر یا بیوی پر آنے والی کسی ذمہ داری کا اسقاط نہ ہو یا اس کا مقصد کوئی ایسی شے لینا نہ ہو جو شوہر یا بیوی کی نہ ہو۔
كنوز رياض الصالحين أ. د . حمد بن ناصر بن عبد الرحمن العمار دار كنوز اشبيليا ـ الطبعة الأولى : 1430 هـ بهجة الناظرين الشيخ: سليم بن عيد الهلالي دار ابن الجوزي نزهة المتقين د . مصطفى سعيد الخن ـ د. مصطفى البغا ـ محي الدين مستو ـ علي الشرجبي ـ محمد أمين لطفي. مؤسسة الرسالة ، بيروت الطبعة الأولى : 1397 هـ 1977 م الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ 1987م شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح بن محمد العثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426 هـ. رياض الصالحين، د. ماهر بن ياسين الفحل، الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت، الطبعة: الأولى، 1428 هـ - 2007 م. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري، دار طوق النجاة، الطبعة : الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي - بيروت. المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي، دار إحياء التراث العربي - بيروت، الطبعة: الثانية، 1392. منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، المؤلف: حمزة محمد قاسم، راجعه: الشيخ عبد القادر الأرناؤوط، عني بتصحيحه ونشره: بشير محمد عيون، الناشر: مكتبة دار البيان، دمشق - الجمهورية العربية السورية، مكتبة المؤيد، الطائف - المملكة العربية السعودية، عام النشر: 1410 هـ - 1990 م. فتح الباري شرح صحيح البخاري، المؤلف: أحمد بن علي بن حجر العسقلاني الشافعي، الناشر: دار المعرفة - بيروت، 1379، رقم كتبه وأبوابه وأحاديثه: محمد فؤاد عبد الباقي، قام بإخراجه وصححه وأشرف على طبعه: محب الدين الخطيب، عليه تعليقات العلامة: عبد العزيز بن عبد الله بن باز. معالم السنن، وهو شرح سنن أبي داود، حمد بن سليمان الخطابي، الناشر: المطبعة العلمية - حلب، الطبعة: الأولى 1351 هـ - 1932 م. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، المؤلف: علي بن (سلطان) محمد، أبو الحسن نور الدين الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت - لبنان الطبعة: الأولى، 1422هـ.