سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

حقیقی بے نیازی کا بیان، اور اللہ تعالی نے جو کچھ دے رکھا ہے اس پر راضی رہنے کی ترغیب

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ليس الغِنَى عن كَثرَة العَرَض، ولكن الغِنَى غنى النفس».
ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”امیری سامان کی کثرت سے نہیں ہوتی بلکہ حقیقی امیری تو دل کی امیری کا نام ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ امیری اصل میں کثرت مال کا نام نہیں ہے بلکہ حقیقی امیری تو دل کی امیری ہوتی ہے۔ جب بندہ اس مال پر اکتفاء اور قناعت کر لے جو اسے دیا گیا ہو اور اسی پر راضی ہوجائے اور مزید کی حرص اس میں نہ رہے اور نہ ہی وہ بہت زیادہ اس کی تلاش میں لگے تو وہ امیر ترین شخص بن جاتا ہے۔

حوالہ

1-شرح صحيح مسلم (140/7). 2-فتح الباري (272/11). 3-كنوز رياض الصالحين (5/8).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
فضائل و آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com