سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوتی ہےجب وہ (دودھ) انتڑیوں کو پھاڑ دے (یعنی آنتوں میں پہنچ کر غذا کا کام کرے) اوریہ دودھ چھڑانے سے پہلے ہو۔

عن أم سلمة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا يُحَرِّمُ من الرَّضَاعَةِ إلا ما فَتَقَ الْأَمْعَاءَ في الثَّدْيِ، وكان قَبْلَ الْفِطَامِ».
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ (دوودھ) انتڑیوں کوپھاڑ دے (یعنی آنتوں میں پہنچ کر غذا کا کام کرے) اور یہ دودھ چھڑانے سے پہلے ہو“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صرف وہی رضاعت باعثِ حرمت ہوتی ہے جس میں دودھ آنتوں تک پہنچ کر انہیں وسیع کر دے۔ باقی رہا وہ تھوڑا سا دودھ جو آنتوں تک نہ پہنچے اور نہ ہی انہیں کھول پائے اور کشادہ کر سکے تو اس طرح کی رضاعت حرمت کا باعث نہیں ہوتی ۔ چنانچہ مؤثر رضاعت وہی ہوتی ہے جو کمر عمری میں دودھ چھڑا لینے سے پہلے پہلے ہو۔

حوالہ

- تسهيل الالمام، للشيخ صالح الفوزان، طبعة الرسالة، الطبعة الأولى، 1427ه – 2006م. - فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى، 1427ه - 2006م. - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام. مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة. الطبعة: الخامِسَة، 1423هـ - 2003م. - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية، الطبعة الأولى، 1435هـ - 2014م. - مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للتبريزي، الناشر: دار الكتب العلمية، ط.1، سنة النشر: 1422ه - 2001م. - إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، للشيخ الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي – بيروت، الطبعة الثانية، 1405هـ - 1985م. - سنن الترمذي، للإمام الترمذي، تحقيق: أحمد محمد شاكر وآخرون، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر- الطبعة الثانية، 1395هـ - 1975م. - فتح الباري شرح صحيح البخاري، لابن حجر العسقلاني، الناشر: دار المعرفة - بيروت، 1379.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
رضاعت کی شرائط

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com