سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

رضاعت کی شرائط

2 احادیث

ایک یا دو بار دودھ چوسنے (پینے) سے حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا تُحَرِّمُ الْمَصَّة وَالْمَصَّتَان».
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا: ”ایک یا دو بار دودھ چوسنے (پینے) سے حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت نہیں ہوتی“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، نبی ﷺ سے یہ روایت بیان فرماتی ہیں کہ ماں کے علاوہ کسی اور خاتون کی پستان سےایک یا دو مرتبہ دودھ چوسنے (پینے) سے وہ بچہ، اس خاتون کا رضاعی بیٹا نہیں ہوگا اور نہ اس کے اور اس خاتون کے مابین رضاعی حرمت ثابت ہوگی، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں حرمتِ رضاعت کی شرائط مکمل نہیں ہیں کیونکہ حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت کی صورت میں رضاعی بیٹے کے لیے جائز نہیں کہ وہ رضاعی ماں یا اس سے ثابت ہونے والے محارم یا اس کے شوہر کے محارم سے نکاح کرے جو اس کے دودھ کی ملکیت رکھتا ہے، اس کا ان کے ساتھ خلوت وتنہائی میں رہنا جائز ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ سفر میں ان کا محرم بنے۔ اسی اعتبار سے دودھ چوسنے کی اتنی کم تعداد سے رضاعت کے باب میں حرمت ثابت نہیں ہوتی اور پانچ رضعات کا ثابت ہونا ضروری ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی دوسری حدیث ۔۔۔ (دس مرتبہ دودھ پینے سے حرمت رضاعت کا حکم منسوخ ہوکر پانچ بار دودھ پینے سے حرمت رضاعت کا حکم نازل ہوگیا)ـ ــــــ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔

حوالہ

صحيح مسلم بن الحجاج، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت. توضيح الأحكام من بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، الطبعة الخامسة، 1423ه. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، تحقيق وتخريج وتعليق: سمير بن أمين الزهيري - الناشر: دار الفلق - الرياض - الطبعة السابعة، 1424هـ. سبل السلام، محمد بن إسماعيل الصنعاني، الناشر: دار الحديث. منحة العلام في شرح بلوغ المرام - تأليف عبد الله الفوزان، طبعة دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1428ه. توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام - تأليف عبد الله البسام- مكتبة الأسدي -مكة المكرمة- الطبعة الخامِسَة، 1423هـ - 2003م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف الشيخ صالح الفوزان، عناية عبد السلام السليمان - مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى. فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية، القاهرة، تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي- الطبعة الأولى، 1427ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوتی ہےجب وہ (دودھ) انتڑیوں کو پھاڑ دے (یعنی آنتوں میں پہنچ کر غذا کا کام کرے) اوریہ دودھ چھڑانے سے پہلے ہو۔

عن أم سلمة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا يُحَرِّمُ من الرَّضَاعَةِ إلا ما فَتَقَ الْأَمْعَاءَ في الثَّدْيِ، وكان قَبْلَ الْفِطَامِ».
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ (دوودھ) انتڑیوں کوپھاڑ دے (یعنی آنتوں میں پہنچ کر غذا کا کام کرے) اور یہ دودھ چھڑانے سے پہلے ہو“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صرف وہی رضاعت باعثِ حرمت ہوتی ہے جس میں دودھ آنتوں تک پہنچ کر انہیں وسیع کر دے۔ باقی رہا وہ تھوڑا سا دودھ جو آنتوں تک نہ پہنچے اور نہ ہی انہیں کھول پائے اور کشادہ کر سکے تو اس طرح کی رضاعت حرمت کا باعث نہیں ہوتی ۔ چنانچہ مؤثر رضاعت وہی ہوتی ہے جو کمر عمری میں دودھ چھڑا لینے سے پہلے پہلے ہو۔

حوالہ

- تسهيل الالمام، للشيخ صالح الفوزان، طبعة الرسالة، الطبعة الأولى، 1427ه – 2006م. - فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى، 1427ه - 2006م. - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام. مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة. الطبعة: الخامِسَة، 1423هـ - 2003م. - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية، الطبعة الأولى، 1435هـ - 2014م. - مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للتبريزي، الناشر: دار الكتب العلمية، ط.1، سنة النشر: 1422ه - 2001م. - إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، للشيخ الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي – بيروت، الطبعة الثانية، 1405هـ - 1985م. - سنن الترمذي، للإمام الترمذي، تحقيق: أحمد محمد شاكر وآخرون، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر- الطبعة الثانية، 1395هـ - 1975م. - فتح الباري شرح صحيح البخاري، لابن حجر العسقلاني، الناشر: دار المعرفة - بيروت، 1379.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com