سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ یا رسول اللہ! میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے ہاں کوئی (چور یا فاجر و فاسق شخص) نہ گھس آئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا تو وہ وہاں سے (کسی اور جگہ ) منتقل ہو گئیں۔

عن فاطمة بنت قيس، قالت: قلت: يا رسول الله، زوجي طَلَّقَنِي ثلاثا، وأخاف أن يُقْتَحَمَ عَلَيَّ، قال: «فأمَرَها، فَتَحَوَّلَتْ».
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے ہاں کوئی (چور یا فاجر و فاسق شخص) نہ گھس آئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا تو وہ وہاں سے (کسی اور جگہ ) منتقل ہو گئیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کو بتایا کہ اگر وہ دورانِ عدت اسی گھر میں رہیں جس میں ان کے شوہر نے انہیں طلاق دی ہے تو انہیں اندیشہ ہے کہ کہیں کوئی فاجر یا چور وغیرہ زبردستی ان کے ہاں نہ گھس آئے۔ اس پر نبی ﷺ نےانہیں حکم دیا کہ وہ وہاں سے کسی اور جگہ منتقل ہو جائیں حالانکہ وہ ہنوز طلاق کی عدت میں تھیں کیونکہ اس کی ضرورت تھی۔

حوالہ

- فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى، 1427ه - 2006م. - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ - 2003م. - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية، الطبعة الأولى، 1435هـ - 2014م. - صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت. - منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي، ط1، 1428ه. - شرح سنن النسائي المسمى «ذخيرة العقبى في شرح المجتبى»، للأثيوبي، دار المعراج الدولية للنشر - دار آل بروم للنشر والتوزيع، الطبعة الأولى.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
مطلقہ عورت کی عدت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com