سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

مطلقہ عورت کی عدت

2 احادیث

کیوں نہیں، تم اپنی کھجوروں کا پھل توڑو، ممکن ہے کہ تم (اس سے) صدقہ کرو یا کوئی اور اچھا کام کرو۔

عن جابر بن عبد الله قال: طُلِّقَتْ خالتي، فأرادت أن تَجُدَّ نَخْلَهَا، فَزَجَرَهَا رجل أن تخرج، فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «بلى فَجُدِّي نَخْلَكِ، فإنك عسى أن تَصَدَّقِي، أو تفعلي معروفا».
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میری خالہ کو طلاق دی گئی، انہوں نے (دورانِ عدت) اپنی کھجوروں کا پھل توڑنے کا ارادہ کیا تو ایک آدمی نے انہیں باہر نکلنے پر ڈانٹا، تو وہ نبیﷺ کے پاس آئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، تم اپنی کھجوروں کا پھل توڑو، ممکن ہے کہ تم (اس سے) صدقہ کرو یا کوئی اور اچھا کام کرو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جابر رضی اللہ عنہ کی خالہ کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی، انہوں نے دورانِ عدت میں اپنے کھجوروں کا پھل توڑنا چاہا تو ایک شخص نے انہیں اس سے منع کر دیا، پس انہوں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے بتایا کہ ان کے نکلنے میں کوئی حرج و گناہ نہیں ہے، اور یہ اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ مطلقہ بائنہ اپنی عدت گزاری میں متوفیٰ عنہا (جس کا شوہر فوت ہو گیا ہو) کی عدت گزاری کی طرح نہیں ہے، مطلقہ جب چاہے اپنی ضرورت کے مطابق باہر نکل سکتی ہے، اسی کے ساتھ عمومی طور پر عورت کا اپنے گھر میں رہنا ہی زیادہ افضل و بہتر ہے اور ازحد حفاظت و صیانت کا باعث ہے، اس لیے کہ نبی ﷺکا فرمان ہے کہ ”عورتوں کا گھر ان کے لیے بہتر ہے“۔ یہ فرمان عبادت، مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے اور بھلائی کی باتیں سننے کے متعلق ہے، تو پھر اس کے ماسوا کے بارے میں کیا حکم ہو گا؟!

حوالہ

- فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى، 1427ه - 2006م. - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ - 2003م. - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر. دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية، الطبعة الأولى، 1435هـ - 2014م. - صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت. - منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي، ط1، 1428هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ یا رسول اللہ! میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے ہاں کوئی (چور یا فاجر و فاسق شخص) نہ گھس آئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا تو وہ وہاں سے (کسی اور جگہ ) منتقل ہو گئیں۔

عن فاطمة بنت قيس، قالت: قلت: يا رسول الله، زوجي طَلَّقَنِي ثلاثا، وأخاف أن يُقْتَحَمَ عَلَيَّ، قال: «فأمَرَها، فَتَحَوَّلَتْ».
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے ہاں کوئی (چور یا فاجر و فاسق شخص) نہ گھس آئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا تو وہ وہاں سے (کسی اور جگہ ) منتقل ہو گئیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کو بتایا کہ اگر وہ دورانِ عدت اسی گھر میں رہیں جس میں ان کے شوہر نے انہیں طلاق دی ہے تو انہیں اندیشہ ہے کہ کہیں کوئی فاجر یا چور وغیرہ زبردستی ان کے ہاں نہ گھس آئے۔ اس پر نبی ﷺ نےانہیں حکم دیا کہ وہ وہاں سے کسی اور جگہ منتقل ہو جائیں حالانکہ وہ ہنوز طلاق کی عدت میں تھیں کیونکہ اس کی ضرورت تھی۔

حوالہ

- فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى، 1427ه - 2006م. - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ - 2003م. - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية، الطبعة الأولى، 1435هـ - 2014م. - صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت. - منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي، ط1، 1428ه. - شرح سنن النسائي المسمى «ذخيرة العقبى في شرح المجتبى»، للأثيوبي، دار المعراج الدولية للنشر - دار آل بروم للنشر والتوزيع، الطبعة الأولى.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com