صفیہ بنت حُيی کے والد بنو نضیر کے سردار تھے۔ ان کی بیٹی صفیّۃ كنانة بن ابی حقيق کی بیوی تھیں۔ ان کا شوہر خیبر کی لڑائی میں مارا گیا اور آپ ﷺ نے خیبر کو فتح کر لیا۔ عورتیں اور بچے مسلمانوں کے غلام بن گئے۔ ان میں صفیۃ بھی تھیں۔ وہ دِحیہ بن خلیفہ الكلبي رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں۔ آپ ﷺ نے انھیں صفیہ کے بدلے میں دوسری باندی دے دی اور ان (صفیہ) کی دل دہی نیز شوہر کے انتقال پر شفقت کا برتاؤ کرتے ہوئے انھیں اپنے لیے چن لیا۔ آپ ﷺ کی شرافت و احسان مندی تھی کہ آپ نے انھیں ایک حقیر باندی کی حیثیت سے فائدہ نہیں اٹھایا؛ بلکہ غلامی کی ذلت سے بچایا۔ عزت افزائی کی اور امہات المؤمنین میں شامل کر لیا۔ اس لیے کہ آپ نے انہیں آزاد کرکے ان سے شادی کی اور آزادی ہی کو ان کا مہر بنایا۔
- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري-مطبعة السعادة-الطبعة الثانية 1392ه. - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام-عبد الله البسام-تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426ه.