عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعتق صفية، وجعل عِتْقَهَا صَدَاقَهَا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفیّہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرکے ان کی آزادی کو ان کا مہر بنا دیا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
صفیہ بنت حُيی کے والد بنو نضیر کے سردار تھے۔ ان کی بیٹی صفیّۃ كنانة بن ابی حقيق کی بیوی تھیں۔ ان کا شوہر خیبر کی لڑائی میں مارا گیا اور آپ ﷺ نے خیبر کو فتح کر لیا۔ عورتیں اور بچے مسلمانوں کے غلام بن گئے۔ ان میں صفیۃ بھی تھیں۔ وہ دِحیہ بن خلیفہ الكلبي رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں۔ آپ ﷺ نے انھیں صفیہ کے بدلے میں دوسری باندی دے دی اور ان (صفیہ) کی دل دہی نیز شوہر کے انتقال پر شفقت کا برتاؤ کرتے ہوئے انھیں اپنے لیے چن لیا۔
آپ ﷺ کی شرافت و احسان مندی تھی کہ آپ نے انھیں ایک حقیر باندی کی حیثیت سے فائدہ نہیں اٹھایا؛ بلکہ غلامی کی ذلت سے بچایا۔ عزت افزائی کی اور امہات المؤمنین میں شامل کر لیا۔ اس لیے کہ آپ نے انہیں آزاد کرکے ان سے شادی کی اور آزادی ہی کو ان کا مہر بنایا۔
حوالہ
- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
- صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
- الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري-مطبعة السعادة-الطبعة الثانية 1392ه.
- تيسير العلام شرح عمدة الأحكام-عبد الله البسام-تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426ه.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى عبد الرحمن بن عوف، وعليه ردَعْ ُزَعفَرَان. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «مَهْيَمْ؟ فقال: يا رسول الله تزوجت امرأة، فقال: ما أصدقتها؟ قال: وَزْنُ نواة من ذهب قال: بارك الله لك، أَوْلِمْ ولو بشاة».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ کو دیکھا کہ ان پر زعفرانی رنگ چڑھا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: تو نے اسے بطور مہر کیا دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ایک گٹھلی کے ہم وزن سونا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی سے کیوں نہ ہو۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر کچھ زعفران کا نشان لگا دیکھا۔ جب کہ مردوں کے لیے وہ خوشبو اچھی ہوتی ہے جس کی مہک تو خوب پھیلے لیکن اس کا نشان مخفی رہے، (جب کہ زعفران میں یہ خوبی نہیں ہوتی اور وہ عورتوں کی خوشبو مانی جاتی ہے)۔آپ ﷺ نے ناپسندیدگی کے انداز میں ان پر لگے اس زعفرانی رنگ کے نشان کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ ان کی نئی نئی شادی ہوئی ہے اور ان پر یہ رنگ ان کی بیوی سے لگ گیا ہے۔چنانچہ اس پر آپ ﷺ انہیں رخصت دے دی۔ چونکہ آپ ﷺ صحابہ پر بہت شفقت اور مہربانی فرمایا کرتے تھے اس لیے آپﷺ ان کے احوال پر نظر رکھا کرتے تھے تاکہ انہیں اچھی حالت پر باقی رہنے دیں اور بری حالت سے انہیں منع کریں۔ آپ ﷺ نے ان سے اپنی بیوی کو دیے گئے مہر کے بارے میں پوچھا۔
انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے کھجور کی ایک گٹھلی برابر سونا بطور مہر دیا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی اور انہیں اپنی شادی کی وجہ سے ولیمہ کرنے کا حکم دیا اگرچہ ایک بکری ہى سے ہو۔
حوالہ
- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
- صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
- الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري-مطبعة السعادة-الطبعة الثانية 1392ه.
- تيسير العلام شرح عمدة الأحكام-عبد الله البسام-تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426ه.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن سهل بن سعد الساعدي رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جاءته امرأة فقالت: إني وَهَبْتُ نفسي لك: فقامت طويلا، فقال رجل: يا رسول الله، زَوِّجْنِيهَا، إن لم يكن لك بها حاجة. فقال: هل عندك من شيء تُصْدِقُهَا؟ فقال: ما عندي إلا إِزَارِي هذا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إِزَارُكَ إن أَعْطَيْتَهَا جلست ولا إِزَارَ لك، فالْتَمِسْ شيئا قال: ما أجد. قال: الْتَمِسْ ولو خَاتَمًا من حَدِيدٍ. فالْتَمَسَ فلم يجد شيئا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم هل معك شيء من القرآن؟ قال: نعم. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : زَوَّجْتُكَهَا بما معك من القرآن».
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت نے آکر عرض کیا کہ میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا۔ پھر وہ کافی دیر کھڑی رہی (اور آپ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا) تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو اس کی حاجت نہ ہو تو اس سے میری شادی کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کوئی چیز ہے؟، اس نے عرض کیا: میرے پاس میرے اس تہبند کے سوا کچھ نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اپنا تہبند اسے دے دو گے تو تم بغیر تہبند کے رہ جاؤ گے، لہذا تم کوئی اور چیز تلاش کرو، اس نے عرض کیا: میں کوئی چیز نہیں پا رہا ہوں۔ آپ نے (پھر) فرمایا: تم تلاش کرو، بھلے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔ چناں چہ اس نے تلاش کیا لیکن اسے کوئی چیز نہیں ملی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں کچھ قرآن یاد ہے؟، اس نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہاری شادی اس عورت سے ان سورتوں کے بدلے کر دی جو تمہیں یاد ہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
کچھ احکام نبی ﷺ کے ساتھ مخصوص ہیں جو دوسروں کے لئے جائز نہیں:
انہیں میں سے آپ ﷺ کا نکاح کرنا بغیر کسی مہر کے اس عورت سے جو خود سے اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کر دیے، چناں چہ آپ ﷺ کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور اس نے اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کر دیا اس امید میں کہ شاید وہ آپ کی ایک بیوی بن سکے۔
آپ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا لیکن وہ آپ کے دل میں جگہ نہ بنا سکی، لیکن آپ ﷺ نے اسے واپس نہیں کیا تاکہ وہ شرمندہ نہ ہو، لھذا آپ ﷺ نے اس سے اعراض کیا، تو وہ بیٹھ گئی تو ایک شخص کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو حاجت نہیں تو اس سے میرا نکاح کرا دیجئے۔
چوں کہ نکاح میں مہر ضروری ہے اس لئے آپ ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا: کیا تمہارے پاس اسے مہر میں ادا کرنے کے لئے کچھ ہے؟
وہ بولا: میرے اس تہبند کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔
اور اگر وہ اپنا ازار اسے مہر میں دے دیتا تو ننگا بچتا، اس کے پاس کوئی ازار نہیں رہتا، اسی لئے آپ ﷺ نے فرمایا: ”تلاش کرو چاہے لو ہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو“۔
جب اس کے پاس(تلاش کرنے کے باوجود) کچھ نہ ملا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تجھے کچھ قرآن یا د ہے؟“ کہنے لگا: ہاں۔
آپ ﷺ نے اس سے کہا: جو کچھ تجھے قرآن یاد ہے اسی کے یا د کرانے کے بدلے میں نے اس کے ساتھ تیرا نکاح کر دیا۔
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام لفيصل بن عبد العزيز آل المبارك ، ط2، 1412هـ.
الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381ه
الإفهام في شرح عمدة الأحكام لابن باز، تحقيق: سعيد القحطاني، ط1، مؤسسة عبد العزيز بن باز الخيرية، 1434هـ.
صحيح البخاري، ط1، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي سلمة بن عبد الرحمن، أنه قال: سألت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم : كم كان صَداقُ رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قالت: «كان صَدَاقُهُ لأزواجه ثِنْتَيْ عشرة أُوقِيَّةً ونَشَّاً»، قالت: «أتدري ما النَّشُّ؟» قال: قلت: لا، قالت: «نصف أُوقِيَّةٍ، فتلك خمسمائة درهم، فهذا صَدَاقُ رسول الله صلى الله عليه وسلم لأزواجه».
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتےہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی اہلیہ اُمُّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ ﷺکی بیویوں کا مہر کتنا ہوتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: اپنی بیویوں کے لیے آپ کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نَش تھا۔ پھر انہوں نے پوچھا: جانتے ہو نش کیا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا: آدھا اوقیہ، بایں ہمہ یہ کل 500 درہم بنتے ہیں اور یہی اپنی بیویوں کے لیے رسول اللہ ﷺکا مہر تھا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
حدیث کا موضوع حق مہر میں تخفیف کا استحباب ہے۔ حق مہر اگرچہ مشروع ہے لیکن بہترین حق مہر وہی ہے جس کی ادائیگی آسان ہو اور وہ عورتیں بھی بہترین ہیں جو تھوڑے حق مہر پر رضا مند ہو جاتی ہیں۔ اس حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی بیویوں کو زیادہ سے زیادہ ساڑھے بارہ اوقیہ حق مہر دیا ہے۔ رسول اللہﷺ عادات و عبادات میں کامل نمونہ ہیں۔
ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، اس حساب سے یہ ساڑھے پانچ سو درہم بنتے ہیں۔ یہ آج کے لوگوں کے بالکل برعکس ہے جو لمبے چوڑے حق مہر باندھتے ہیں اور عورت نیز اس کے ورثاء کو جو مال ودولت دیتے ہیں اس پر فخر کرتے ہیں، خواہ خاوند غریب ہو یا امیر وہ یہی چاہتا ہے کہ اس معاملے میں وہ کسی سے پیچھے نہ رہے اور یہی شادی میں تاخیر کا سبب بن جاتا ہے۔
حوالہ
- صحيح الإمام مسلم, تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي – بيروت.
- توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
- بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م.
- فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن ابن عباس رضي الله عنهما أن عليًّا قال: تزوجتُ فاطمةَ رضي الله عنها ، فقلتُ: يا رسول الله، ابْنِ بِي، قال: «أَعْطِها شيئًا» قلت: ما عندي مِن شيء، قال: «فأينَ دِرْعُكَ الحُطَمِيَّة؟» قلت: هي عندي، قال: «فأعطها إياه».
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا مجھے ملنے کا موقع عنایت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کچھ (تحفہ) دو“، میں نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے! آپ نے فرمایا: ”تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے؟“، میں نے کہا یہ تو میرے پاس ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا ”وہی اسے دے دو“۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے چچازاد بھائی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنھا کا نکاح کیا اور انھیں اس بات کا حکم دیا کہ مہر کے طور پر اپنی بیوی کو کچھ دیں تاکہ ان کی دلجوئی کا سامان رہے اور انھیں چاہت اور قدردانی کا احساس ہو اور جب انھیں کوئی چیز نہیں ملی تو آپ ﷺ نے ان کی زرہ کے تعلق سے پوچھا تاکہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کو مہر کے طور پر وہی زرہ دے دیں اور اس کے معمولی ہونے کے باوجود وہ چیز ان کا مہر ہوجائے۔
”الحُطَمِيَّة“ یہ قبلیۂ حُطمہ بن محارب کی جانب منسوب ہے جو کہ عبد القیس قبلیہ کی شاخ ہے یہ لوگ زرہ بناتے تھے۔
حوالہ
- سنن أبي داود , ت: محمد محي الدين, المكتبة العصرية.
- سنن للنسائي, تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة, مكتب المطبوعات الإسلامية الطبعة: الثانية، 1406.
- مسند أحمد، تحقيق شعيب الأرنؤوط، الناشر: مؤسسة الرسالة الطبعة : الأولى ، 1421 هـ - 2001 م.
- صحيح أبي داود - الأم للألباني , مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الطبعة: الأولى، 1423 هـ.
- توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة.الطبعة: الخامِسَة، 1423هـ - 2003م.
- بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م.
- شرح سنن النسائي المسمى «ذخيرة العقبى في شرح المجتبى» للإثيوبي, دار آل بروم، الطبعة: الأولى.
- نيل الأوطار للشوكاني , ت: عصام الدين الصبابطي, دار الحديث، الطبعة: الأولى، 1413هـ.
- فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام للشيخ ابن عثيمين- المكتبة الإسلامية القاهرة - تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي- الطبعة الأولى 1427.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن علقمة، والأسود، قالا: أُتِيَ عبد الله في رجل تَزوجَ امرأة ولم يَفرض لها، فتُوفي قبل أن يَدخل بها، فقال عبد الله: سَلُوا هل تجدون فيها أثرا؟ قالوا: يا أبا عبد الرحمن، ما نجد فيها - يعني أثرا - قال: أقول برأيي فإن كان صوابا فمن الله، «لها كمَهْرِ نسائها، لا وَكْسَ ولا شَطَطَ، ولها الميراث، وعليها العِدَّة»، فقام رجل، من أشجع، فقال: في مثل هذا قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم فينا، في امرأة يقال لها بِرْوَع بنت وَاشِقٍ تزوجت رجلا، فمات قبل أن يَدخل بها، «فقضى لها رسول الله صلى الله عليه وسلم بمِثل صَداق نسائها، ولها الميراث، وعليها العِدَّة» فرفع عبد الله يَديْهِ وكبَّر.
علقمہ اور اسود سے روایت ہے، دونوں کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایسے شخص کا معاملہ پیش کیا گیا، جس نے ایک عورت سے شادی تو کی، لیکن اس کا مہر متعین نہہیں کیا اور اس سے خلوت سے پہلے مر گیا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں سے پوچھو کہ کیا تم لوگوں کے سامنے (رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں) ایسا کوئی معاملہ پیش آیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اے ابوعبد الرحمٰن! ہم کوئی ایسی نظیر نہیں پاتے۔ توانھوں نے کہا: میں اپنی عقل ورائے سے کہتا ہوں؛ اگردرست ہو تو سمجھو کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ ”اسے مہر مثل دیا جائے گا؛ نہ کم اور نہ زیادہ۔ اسے میراث میں اس کا حق وحصہ دیا جائے گا اور اسے عدت بھی گزارنی ہو گی“۔ (یہ سن کر) اشجع (قبیلے) کا ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: ہمارے یہاں کی ایک عورت بِرْوع بنت واشق کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی فیصلہ دیا تھا۔ اس عورت نے ایک شخص سے نکاح کیا، وہ شخص اس کے پاس جانے سے پہلے انتقال کر گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے خاندان کی عورتوں کے مہر کے مطابق اس کے مہر کا فیصلہ کیا اور (بتایا کہ) اسے میراث بھی ملے گی اور یہ عدت بھی گزارے گی۔ (یہ سن کر) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیے اور اللہ اکبر کہا۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت شادی کے بعد مہر متعین ہونے سے پہلے شوہر کے فوت ہو جانے سے مکمل مہر کی مستحق ہوگی؛ اگرچہ دخول و خلوت نہ حاصل ہوئی ہو۔ اگر مہر متعین نہیں کیا گیا ہے تو خاندان کی دیگر عورتوں کے مہر کے مطابق اس کا مہر متعین کیا جائے گا۔ یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ایسی عورتوں پرعدت ہے؛ کیوں کہ اس کا نکاح ہوچکا ہے، اگر شوہر کی وفات ہو جائے تو اس پر وفات وسوگ کی عدت واجب ہوگی، گرچہ دخول وخلوت نہ ہوئی ہو۔ اسی طرح وہ میراث کی مستحق ہوگی؛ کیوں کہ وہ بیوی ہے، شوہر کے اس سے شادی کرنے کی وجہ سے۔
حوالہ
- سنن أبي داود , ت: محمد محي الدين, المكتبة العصرية
- سنن الترمذي, ت:محمد فؤاد عبد الباقي , مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الطبعة: الثانية، 1395 هـ
- سنن ابن ماجه، ت: محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء الكتب العربية
- سنن للنسائي, تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة, مكتب المطبوعات الإسلامية الطبعة: الثانية، 1406
- مسند أحمد، تحقيق شعيب الأرنؤوط. الناشر : مؤسسة الرسالة الطبعة : الأولى ، 1421 هـ - 2001 م
- صحيح أبي داود - الأم للألباني , مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الطبعة: الأولى، 1423 هـ
- توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام. مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة.الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م
- بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر. دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م
- شرح سنن النسائي المسمى «ذخيرة العقبى في شرح المجتبى» للإثيوبي, دار آل بروم , الطبعة: الأولى
- نيل الأوطار للشوكاني , ت: عصام الدين الصبابطي, دار الحديث، الطبعة: الأولى، 1413هـ
- البدرُ التمام شرح بلوغ المرام للمَغرِبي, ت: علي بن عبد الله الزبن, دار هجر, الطبعة: الأولى 1428 هـ
فتاوى اللجنة الدائمة - المجموعة الأولى- : اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء- جمع وترتيب: أحمد بن عبد الرزاق الدويش.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «خير النكاح أيْسَرُه»، وقال النبي صلى الله عليه وسلم لرجل: أتَرضى أن أُزَوِّجَكَ فُلانة «قال: نعم، قال لها: أترْضَين أن أُزوِّجَكِ فلانا» قالت: نعم، فزوجها رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ولم يَفرض صداقًا، فدخل بها، فلم يُعطها شيئًا، فلما حضرتْهُ الوفاة قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم زوجني فلانة، ولم أُعطها شيئًا، وقد أعطيتها سَهمي من خَيبر، فكان له سهم بخيبر فأخذتْهُ فباعتْهُ فبلغ مائة ألف.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "سب سے بہتر نکاح وہ ہے جس میں آسانی زیادہ ہو"۔ نبی ﷺ نے ایک آدمی سے پوچھا: کیا تم اس بات پر رضامند ہو کہ میں فلاں عورت سے تمہارا نکاح کردوں؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں۔ پھر آپ ﷺ نے اس عورت سے پوچھا کہ کیا تمہیں یہ بات قبول ہے کہ میں فلاں شخص سے تمہاری شادی کردوں؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اس کی شادی کر دی اور حق مہر مقرر نہ کیا۔ اس شخص نے اس عورت سے جماع کر لیا لیکن (بطور حق مہر) اسے کچھ نہ دیا۔ اپنی وفات کے وقت کہنے لگا کہ رسول اللہ ﷺ نے فلاں عورت سے میری شادی کرائی تاہم (بطور حق مہر) میں نے اسے کچھ نہیں دیا۔ اب میں خیبر کی زمین سے میرا جو حصہ بنتا ہے وہ اسے دیتا ہوں۔ خیبر کی زمین میں سے اس شخص کا ایک حصہ تھا جو اس عورت نے لے کر بیچ دیا اور جس کی قیمت ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اس حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے نکاح کو آسان بنانے پر ابھارا اور وضاحت فرمائی کہ نکاح کی افضلیت حق مہر کم ہونے کے ساتھ ہے اور یہ کہ کم حق مہر کے عوض نکاح کرنا مستحب ہے اور بہت زیادہ حق مہر خلافِ افضل ہے اگرچہ یہ جائز ضرور ہے۔ کیونکہ جب حق مہر کم ہو گا تو جو شخص نکاح کرنا چاہے گا اس کے لئے اس میں دشوار ی نہیں ہو گی اور یوں نکاح کی کثرت ہو گی جو کہ ایسا عمل ہے جس کی ترغیب دی گئی ہے اور غریب لوگ بھی شادی کر سکیں گے اور اس سے نسل انسانی میں اضافہ ہو گا جو کہ نکاح کا اہم مقصد ہے۔ پھر عقبہ رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کے سامنے یہ بات رکھی کہ آپ ﷺ اس کی شادی ایک عورت سے کر ديتے ہیں اور پھر یہی بات عورت کے سامنے بھی رکھی۔ جب دونوں اطراف نے رضامندی کا اظہار کر دیا تو نبی ﷺ نے ان کی شادی کرا دی ۔ مرد نے عورت کے لیے حق مہر مقرر نہ کیا اور (بطور حق مہر) اسے کچھ دیے بغیر ہی اس سے مباشرت کر لی۔ جب اس شخص کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنی غنیمت میں ملنے والی خیبر کی زمین میں سے ایک حصہ اسے بطور مہر دے دیا۔ عورت نے اسے لے کر بیچ دیا جس کی قیمت ایک لاکھ ہوئی۔
حوالہ
- سنن أبي داود , ت: محمد محي الدين, المكتبة العصرية.
- ضعيف أبي داود - الأم للألباني , مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الطبعة: الأولى، 1423 هـ.
- توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام. مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة.الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ.
- سبل السلام للصنعاني، نشر: دار الحديث.
- شرح سنن النسائي المسمى «ذخيرة العقبى في شرح المجتبى» للإثيوبي, دار آل بروم , الطبعة: الأولى.
- نيل الأوطار للشوكاني , تحقيق: عصام الدين الصبابطي , دار الحديث، مصر الطبعة: الأولى، 1413هـ.
- التَّحبير لإيضَاح مَعَاني التَّيسير للصنعاني، ت: محَمَّد صُبْحي حَلّاق, مَكتَبَةُ الرُّشد، الطبعة: الأولى، 1433 هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com