نبی ﷺ نے ’بیع مزابنہ‘ سے منع فرمایا، بیع مزابنہ سے مراد معلوم مقدار والی شے کی مجہول مقدار والی شے سے فروخت ہے۔ اس کی ممانعت اس لیے ہے کیونکہ اس میں ضرر ہوتا ہے اور اس میں دونوں فروخت کردہ اشیاء کی مقدار میں جہالت ہوتی ہے جو ربا کا سبب بنتی ہے۔اس کی کئی مثالیں دی گئی ہیں جو اس کی وضاحت کرتی ہیں۔ مثلاً کوئی شخص اپنے باغ کے پھل کو اگر وہ کھجور ہو تو اسے ٹوٹی ہوئی خشک کھجور کے عوض میں بیچ دے اور اگر انگور ہو تو اسے ناپ کر کشمش کے بدلے بیچ دے اور اگر کھیتی ہو تو اسے ناپ کر اسی جنس کی خوراک سے بیچ دے۔ آپ ﷺ نے ان تمام قسم کی بیوع کو ان میں پوشیدہ مفاسد اور نقصانات کی وجہ سے منع فرمایا۔
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، للشيخ إسماعيل الأنصاري، مطبعة السعادة، الطبعة الثانية 1392هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام، تحقيق محمد صبحي حسن حلاق، مكتبة الصحابة، الشارقة، الطبعة العاشرة 1426هـ. خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل بن عبد العزيز المبارك، الطبعة: الثانية، 1412هـ - 1992م. صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة، (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.