اس حدیث میں نبی ﷺ حرام بیع کی کچھ اقسام سے منع فرما رہے ہیں۔ کیوںکہ اس میں بائع و مشتری یا ان کے علاوہ کسی اور کو نقصان ہوتا ہے۔ اول: اشیا خوردنی اور جانور وغیرہ پر مشتمل سامانِ تجارت لے کر (بیرون شہر سے) آنے والے لوگوں سے جا ملنا ممنوع ہے؛ بایں طور کہ آدمی ان کے منڈی تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کے پاس جا کر ان سے سامان تجارت خرید لے۔ اس میں امکان ہے کہ ان کی قیمتوں سے عدم واقفیت کی بنا پر وہ ان سے دھوکہ کرلے اور انھیں ان کے باقی رزق سے محروم کر دے، جس کے لیے انھوں نے اتنی مشقت اٹھائی، صحراؤں اور جنگلات کو عبور کیا اور خطرات برداشت کیے۔ یوں وہ ان لوگوں کے لیے لقمۂ تر بن جائے، جنھوں نے اس کے لیے کچھ بھی کاوش نہیں کی۔ دوم: کوئی دیہاتی یا کسی بستی کا باشندہ شہر میں اپنا سامان تجارت لے کر آئے، تاکہ اسے اس دن کی قیمت پر یا پھر کسی ایسے بھاؤ پر بیچ کر واپس لوٹ جائے، جس کی اسے ضرورت ہو یا جو اس کے لیے کافی ہو۔ ایسے میں اس کے پاس کوئی شہری شخص آ کر کہے کہ اس سامان کو میرے پاس رکھ دو، تا کہ اسے میں تھوڑا تھوڑا کر کے زیادہ دام پر بیچ دوں۔ ایسا کرنے سےشہر کے باشندوں کو نقصان ہوتا ہے۔ چنانچہ شریعت نے شہر میں آنے والے اجنبی فروخت کنندہ اور شہر کے باشندوں دونوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا ہے۔
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ. الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ. خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، فيصل بن عبد العزيز النجدي، الطبعة: الثانية، 1412 هـ - 1992م. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.