سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اے اولاد اسماعیل! تم تیر اندازی کرو، کیونکہ تمہارے باپ تیر انداز تھے۔

عن سَلَمَة بن الأكْوَع رضي الله عنه قال: مَرَّ النبي صلى الله عليه وسلم على نَفَرٍ يَنْتَضِلُون، فقال: «ارْمُوا بَنِي إسماعيل، فإن أبَاكُم كان رَامِياً».
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کا ایسی جماعت پر سے گزر ہوا جو بطور مقابلہ تیر اندازی کر رہی تھی، تو آپ ﷺ نے (انہیں دیکھ کر) فرمایا: ”اے اولادِ اسماعیل! تم تیر اندازی کرو، کیوں کہ تمہارے باپ (اسماعیل علیہ السلام) بھی تیر انداز تھے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ کا گزر اپنے چند ساتھیوں پر ہوا جو تیراندازی کا مقابلہ کر رہے تھے کہ کون اپنے ساتھی پر سبقت لے جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی تائید کی اور یہ کہہ کر ان کا حوصلہ بڑھایا کہ اے اولادِ اسماعیل تیر اندازی کرو، یعنی اس کو لازم پکڑو اور اس پر قائم رہو کیوں کہ اے اولاد اسماعیل! یہ تمہارے اوپر اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ اور آپ اس سے عربوں کو مراد لے رہے تھے، کیوں کہ تمہارے باپ اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام ایک اچھے اور بہترین تیر انداز تھے۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين, بإشراف حمد العمار, دار كنوز إشبيليا, الطبعة الأولى, 1430هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ 1987م. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
جہاد کے احکام اور مسائل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com