سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میں نے رسول اللہ ﷺ کو میدان عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ جس مُحرم کو جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے اور جس کے پاس تہبند نہ ہو وہ شلوار پہن لے۔

عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: «سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب بِعَرَفَاتٍ: من لم يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الخُفَّيْنِ، ومن لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ السَّرَاوِيلَ -للمحرم-».
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو میدان عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے سنا آپﷺ فرما رہے تھے: ”جس مُحرم کو جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے اور جس کے پاس تہبند نہ ہو وہ شلوار پہن لے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کر رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے عرفہ کے دن مقام عرفات میں خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں لوگوں کو جوتے نہ ملنے کی صورت میں موزے پہننے کی اجازت دی اور اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ ٹخنوں کے نیچے سے انہیں کاٹ دیا جائے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے لوگوں کو اجازت دی کہ جسے تہبند نہ ملے وہ شلوار ہی پہن لے اور اس میں بھی آپ ﷺ نے اسے پھاڑنے کا حکم نہیں دیا۔ یہ شارع (اللہ سبحانہ وتعالیٰ) کی پُر حکمت ذات کی طرف سے دی گئی ایک سہولت تھی۔

حوالہ

عمدة الأحكام، تأليف: عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي، تحقيق: محمود الأرناؤوط، دار الثقافة العربية ومؤسسة قرطبة، الطبعة الثانية، 1408هـ. تيسير العلام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق محمد صبحي بن حسن حلاق، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة العاشرة، 1426 هـ. تأسيس الأحكام شرح عمدة الأحكام، تأليف: أحمد بن يحي النجمي: نسخة إلكترونية لا يوجد بها بيانات نشر. تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة الأولى: 1426هـ. صحيح البخاري ، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري ، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ صحيح مسلم ، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
محظوراتِ احرام

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com