عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: «بينما رجل واقف بِعَرَفَةَ، إذ وقع عن راحلته، فَوَقَصَتْهُ -أو قال: فَأوْقَصَتْهُ- فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : اغْسِلُوهُ بماء وسدر، وكَفِّنُوهُ في ثوبيه، ولا تُحَنِّطُوهُ، ولا تُخَمِّرُوا رأسه؛ فإنه يُبْعَثُ يوم القيامة مُلبِّياً».
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: ایک شخص میدان عرفہ میں تھا کہ اپنی سواری سے گر پڑا اور اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ یا (وَقَصَتْہُ کے بجائے یہ لفظ ) فَأوْقَصَتْهُ (پس اُس نے اس ہڈی کو توڑ دیا اور وہ فوت ہوگیا) کہا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر اس کے دونوں کپڑوں میں اسے کفن دے دو۔اسے نہ خوشبو لگاؤ اور نہ ہی اس کا سر ڈھانپو۔ اسے قیامت کے دن اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ وہ تلبیہ پڑھتا ہو گا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص عرفہ کے میدان میں اپنی سواری پر حالت احرام میں کھڑا تھا کہ اس سے گر پڑا جس سے اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا۔ نبی ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ اسے دیگر مُردوں کی طرح پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دیں اور اسے اس کی ازار اور چادر ہی میں کفن دیں جسے اس نے احرام کے طور پر پہن رکھا تھا۔
چونکہ وہ حالتِ احرام میں تھا اور اس پر آثارِ عبادت ابھی موجود تھے اس وجہ سے نبی ﷺ نے صحابہ کو اسے خوشبو لگانے اور اس کا سر ڈھانپنے سے منع فرمایا اور انہیں اس کی حکمت بھی بتا دی کہ جس حالت پر اس کی موت واقع ہوئی ہے اللہ تعالی اسی حال میں اسے روز قیامت اٹھائے گا یعنی تلبیہ کہتا ہوا اٹھے گا جو کہ شعائرِ حج میں سے ایک شعار ہے۔
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ، 2006م.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م.
الإفهام في شرح عمدة الأحكام لابن باز، تحقيق: سعيد القحطاني، مؤسسة عبد العزيز بن باز الخيرية، الرياض، الطبعة: الأولى 1435هـ.
خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، فيصل بن عبد العزيز المبارك، الطبعة: الثانية 1412هـ، 1992م.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
تاج العروس من جواهر القاموس، محمّد أبو الفيض الملقّب بمرتضى الزَّبيدي، نشر: دار الهداية.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: «سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب بِعَرَفَاتٍ: من لم يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الخُفَّيْنِ، ومن لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ السَّرَاوِيلَ -للمحرم-».
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو میدان عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے سنا آپﷺ فرما رہے تھے: ”جس مُحرم کو جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے اور جس کے پاس تہبند نہ ہو وہ شلوار پہن لے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کر رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے عرفہ کے دن مقام عرفات میں خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں لوگوں کو جوتے نہ ملنے کی صورت میں موزے پہننے کی اجازت دی اور اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ ٹخنوں کے نیچے سے انہیں کاٹ دیا جائے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے لوگوں کو اجازت دی کہ جسے تہبند نہ ملے وہ شلوار ہی پہن لے اور اس میں بھی آپ ﷺ نے اسے پھاڑنے کا حکم نہیں دیا۔ یہ شارع (اللہ سبحانہ وتعالیٰ) کی پُر حکمت ذات کی طرف سے دی گئی ایک سہولت تھی۔
حوالہ
عمدة الأحكام، تأليف: عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي، تحقيق: محمود الأرناؤوط، دار الثقافة العربية ومؤسسة قرطبة، الطبعة الثانية، 1408هـ.
تيسير العلام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق محمد صبحي بن حسن حلاق، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة العاشرة، 1426 هـ.
تأسيس الأحكام شرح عمدة الأحكام، تأليف: أحمد بن يحي النجمي: نسخة إلكترونية لا يوجد بها بيانات نشر.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة الأولى: 1426هـ.
صحيح البخاري ، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري ، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ
صحيح مسلم ، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما «أن رجلًا قال يا رسول الله، ما يَلْبَسُ المُحْرِمُ مِنَ الثياب؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا يلبسُ القميص، ولا العَمَائِمَ ، وَلاَ السَّرَاوِيلاَتِ، ولا البَرَانِسَ، ولا الخِفَافَ، إلا أحدٌ لا يجِدُ نَعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أسفلَ من الكعبين، وَلا يَلْبَسْ من الثياب شيئا مَسَّهُ زَعْفَران أوْ وَرْسٌ»، وللبخاري: «ولا تَنْتَقِبُ المرأة، وَلا تلبس الْقُفَّازَيْنِ».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ احرام باندھنے والے کو کیا پہننا چاہیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ قمیص پہنے نہ عمامہ باندھے اور نہ پاجامہ اور نہ کوئی سرپوش اوڑھے اور اگر جوتے نہ ملیں تو موزے پہن لے اور انھیں ( اس طرح ) کاٹ دے کہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔ اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنا ہو جو زعفران یا ورْس سے رنگا ہوا ہو“۔
اور صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے: ”اور عورت نہ تو نقاب پہنے گی نہ ہی داستانے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
صحابہ کرام اس بات کو سمجھتے تھے کہ احرام کی حالت غیر احرام کے بالمقابل مختلف ہوتی ہے اسی لیے ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے ان چیزوں کے بارے میں سوال کیا جو محرم کے لیے مباح ہیں اور وہ ان کو حالتِ احرام میں پہن سکتا ہے۔
اس کے لیے مناسب یہ تھا کہ وہ ان اشیاء کے بارے میں سوال کرتا جن سے بچنا ضروری ہے کیوں کہ وہ تھوڑی سی چند ایک ہیں۔ لیکن چونکہ رسول اللہ ﷺ جوامع الکلم سے نوازے گیے تھے اس لیے ایسا جواب دیا کہ ان اشیاء کو بیان کر دیا جن سے محرم کا بچنا ضروری ہے باقی کو ان کی اصلی حالت حلت پر برقرار رکھتے ہوئے چھوڑ دیا۔ اور اس سے بہت زیادہ علم حاصل ہو تا ہے۔
پھر رسول ﷺ نے ان چیزوں کو شمار کرنا شرو ع کر دیا جو ایک محرم پر حالتِ احرام میں لباس کے اعتبار سے حرام ہیں۔ آپس میں انفرادی طور پر ایک دوسرے سے مشابہ تمام انواع کی تنبیہہ فرما دی۔
چنانچہ فرمایا کہ محرم قمیص نہ پہنے اور ہر وہ چیز جس کو بدن کے مقدار کے حساب سے سلا کیا گیا ہو اور نہ ہی عمامہ پہنے، نہ برنس (وہ کپڑا جس کے ساتھ سر ڈھانپنے والا حصّہ جُڑا ہو) پہنے، اسی طرح ہر وہ چیز جو سر اور اس سے ملحقہ حصے کو ڈھانپ لے،اور نہ ہی شلوار پہنے۔ اسی طرح ہر وہ چیز جو ڈھانپنے والی ہو چاہیے ایک عضو ہی کیوں نہ ہو۔ جیسے دستانے وغیرہ،چاہے سلے ہوں یا بغیر سلے ہوں۔ اور نہ ہی ایسے موزے وغیرہ پہنے جائیں جو آدمی کے ٹخنوں کو ڈھانپتے ہوں چاہے وہ روئی کے ہوں یا اون کے یاچمڑے کے ہوں یا کسی اور چیز سے بنے ہوئے ہوں۔ اگر احرام کے وقت کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو موزے پہن لے لیکن ان کو ٹخنوں سے نیچے تک کاٹ دے تاکہ وہ جوتے کی شکل اختیار کر جائیں۔
پھر رسول اللہ ﷺ نے مزید فائدے مند چیزیں بیان کیں جو کہ سوال میں موجود نہیں تھیں لیکن مقام ان(کے بیان) کا متقاضی تھا۔ آپ ﷺ نے مزید ان چیزوں کی وضاحت کی جو محرم پرحرام ہیں چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ فرمایا: کوئی ایسا کپڑا نہ پہنے چاہے وہ سلا ہو یا بغیر سلا ہو جب اس کو زعفران یا وَرَس وغیرہ سے خوشبودار کیا گیا ہو۔ یہ ہر قسم کی خوشبو سے بچنے کی تنبیہہ کی جا رہی ہے۔
پھر عورت کے لیے کیا چیز ضروری ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کے لیے حرام ہے کہ وہ اپنے چہرے کو کسی چیز سے ڈھانپے اور اپنے ہاتھ کسی ایسی چیز میں داخل کرے جس سے اس کے ہاتھ چھپ جائیں۔ فرمایا: ” وَلاَ تَنْتَقِبِ المَرْأَةُ، وَلاَ تَلْبَسِ القُفَّازَيْنِ“ کہ عورت نہ تو نقاب پہنے گی اور نہ ہی دستانے۔
حوالہ
عمدة الأحكام، تأليف: عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي، تحقيق: محمود الأرناؤوط، دار الثقافة العربية ومؤسسة قرطبة، الطبعة الثانية، 1408هـ.
تيسير العلام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق محمد صبحي بن حسن حلاق، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة العاشرة، 1426 هـ.
تأسيس الأحكام شرح عمدة الأحكام، تأليف: أحمد بن يحي النجمي: نسخة إلكترونية لا يوجد بها بيانات نشر.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة الأولى: 1426هـ.
الإفهام في شرح عمدة الأحكام، للشيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز، تحقيق: سعيد بن علي بن وهف القحطاني، الطبعة الأولى، 1435 هـ
خلاصة الكلام على عمدة الأحكام، تأليف: فيصل بن عبد العزيز آل مبارك، الطبعة الثانية، 1412 هـ
صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري ، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن الصعب بن جَثَّامَةَ رضي الله عنه ، قال: أهديتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - حماراً وحشياً، فَرَدَّهُ عَلَيَّ، فلما رأى ما في وجهي، قال: «إنا لم نَرُدَّهُ عليك إلا لأنَّا حُرُمٌ».
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک جنگلی گدھا تحفے کے طور پر پیش کیا تو آپ ﷺ نے وہ مجھے واپس کردیا۔ جب آپ ﷺ نے میرے چہرے پر ملال کے آثار دیکھے تو فرمایا: ”ہم تمہیں یہ واپس نہ کرتے لیکن بات یہ ہے کہ ہم حالت احرام میں ہیں“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ کے اخلاق حسنہ میں سے ایک یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ اللہ کے دین کے بارے میں لوگوں سے مداہنت نہیں برتتے اور ان کی دلجوئی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ چنانچہ نبی ﷺ کا گزر صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جب کہ آپ ﷺ حالت احرام میں تھے۔ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ بہت تیز بھاگنے والے اور ماہر تیر انداز تھے۔ جب نبی ﷺ کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو انہوں نے ایک جنگلی گدھے کو آپ ﷺ کے لیے شکار کیا اور اسے لے کر آپ ﷺ کے پاس آئے لیکن نبی ﷺ نے اسے واپس کر دیا۔ صعب رضی اللہ عنہ پر یہ بات گراں گزری کہ نبی ﷺ نے ان کا ہدیہ کیوںکر واپس کر دیا؟ ان کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ان کا چہرہ دیکھا تو ان کی دل جوئی کرتے ہوئے فرمایا کہ آپﷺ نے ان کا تحفہ صرف اس لیے واپس کر دیا ہے کیونکہ وہ حالت احرام میں ہیں اور محرم شخص اس شکار کو نہیں کھا سکتا جو اس کے لیے شکار کیا گیا ہو۔
حوالہ
بهجة شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي.
تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبدالعزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ.
شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن-الرياض، 1426هـ.
صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
فتح الباري بشرح صحيح البخاري؛ للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، دار المعرفة-بيروت.
كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن صفوان بن يَعْلَى: أنَّ يَعْلَى قال لعمر رضي الله عنه : أَرِني النبيَّ صلى الله عليه وسلم حِين يُوحَى إليه، قال: «فبيْنَما النبي صلى الله عليه وسلم بالجِعِرَّانة، ومعه نَفَرٌ من أصحابه، جاءه رجل فقال: يا رسول الله، كيف ترى في رجل أحْرَم بعمرة، وهو مُتَضَمِّخٌ بطِيب، فسكت النبيُّ صلى الله عليه وسلم ساعة، فجاءه الوحْي، فأشار عمر رضي الله عنه إلى يَعْلَى، فجاء يَعْلَى وعلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثوْب قد أُظِلَّ به، فأَدخَل رأسه، فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم مُحْمَرُّ الوجه، وهو يَغِطُّ، ثم سُرِّيَ عنه، فقال: «أين الذي سأل عن العمرة؟» فأُتي برجل، فقال: «اغسل الطِّيبَ الذي بِكَ ثلاث مرات، وانزِعْ عنك الجُبَّة، واصنع في عُمرتك كما تصنعُ في حَجَّتك» قلت لعطاء: أراد الإنقاء حين أمره أن يغسل ثلاث مرات؟ قال: «نعم».
صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یعلیٰ (بن امیہ ) رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کبھی آپ مجھے نبی کریم ﷺکو اس حال میں دکھائیے جب آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک بار رسول اللہ ﷺجِعِرّانہ میں اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ ٹھہر ے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر پوچھا یا رسول اللہ (ﷺ) !اس شخص کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے جس نے عمرہ کا احرام اس طرح باندھا کہ اس کے کپڑے خوشبو میں بسے ہوئے ہوں۔ نبی کریم ﷺ اس پر تھوڑی دیر کے لیے چپ ہوگئے۔ پھر آپ ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا۔ یعلیٰ آئے تو رسول اللہ ﷺپر ایک کپڑا تھا جس کے اندر آپ تشریف رکھتے تھے۔ انہو ں نے کپڑے کے اندر اپنا سر کیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ روئے مبارک سرخ ہے اور آپ خراٹے لے رہے ہیں۔ پھر یہ حالت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ وہ شخص کہاں ہے جس نے عمرہ کے متعلق پوچھا تھا؟ شخص مذکور حاضرکیا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا کہ تم نے خوشبو لگا رکھی ہے اسے تین مرتبہ دھولو، اپنا جبہ اتاردے اور عمرہ میں بھی اسی طرح کرو جس طرح حج میں کرتے ہو۔ میں نے عطاء سے پوچھا کہ کیا آپﷺ کے تین مرتبہ دھونے کے حکم سے پوری طرح صفائی مراد تھی؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ نےعمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے بھی اس وقت اطلاع کرنا جب نبی کریمﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہو ۔میں اس دوران آپ ﷺ کو دیکھنا چاہتا ہوں اور یہ جاننا چاہتا ہوں کہ نزول وحی کے وقت آپ ﷺکی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ اسی دوران نبی کریمﷺ جِعِرّانہ مقام پر موجو د تھے جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ ہے جہاں مکہ سے آنے والا شخص عمرہ کی نیت سے احرام باندھتا ہے ــــــــــ اس وقت ایک شخص آیا اور اس نے بتایا کہ اس نے عمرے کے لیے احرام باندھا ہے جب کہ اس کے کپڑے اور اس کا جسم خوشبو سے رچا ہوا ہے تو وہ ایسی حالت میں کیا کرے؟ رسول اللہﷺ نے اس کو جواب دینے سے خاموشی اختیار کر لی اور یہ آپ پر ضروری بھی نہیں کہ سوال کے فوراً بعد جواب دیں۔ رسول اللہ ﷺ پر وحی آئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ یعلیٰ کی طرف اشارہ کیا کہ وہ نبی کریمﷺ کے پاس آ جائے اور آپﷺ پر نزول وحی کی کیفیت کو دیکھ لے۔ یعلیٰ رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے سر پر ایک کپڑے کے ساتھ سایہ کیا گیا ہے تو انہوں نے اپنا سر کپڑے میں داخل کر لیا۔ انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہے، سانس کی تیزی کی وجہ سے آواز سنائی دے رہی تھی۔ آپ ﷺ سے نزول وحی کا وقت ختم ہوا تو آپ ﷺ کی سانسیں بحال ہوئیں اور اس شخص سے فرمایا کہ خوشبو کو بار بار دھوؤ اور یہ تین مرتبہ تک ہو جائے، اور اس کو حکم دیا کہ خوشبو کے آثار اپنے جسم اور کپڑوں سے زائل کرے اور یہ حکم بھی دیا کہ وہ اپنا جبہ اتار دے کیونکہ یہ سلا ہوا ہوتا ہے ۔اور اپنے عمرے میں بھی ویسے ہی کرے جیسا حج میں کیا جاتا ہے کہ خوشبو وغیرہ سے بچا جائے کیونکہ حج اور عمرہ میں جن چیزوں سے احتزار کیا جاتا ہے وہ ایک ہی ہیں۔
حوالہ
- صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه.
- صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
- عمدة القاري شرح صحيح البخاري، لمحمود بن أحمد بن موسى الحنفى بدر الدين العينى، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
- منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، لحمزة محمد قاسم، راجعه: الشيخ عبد القادر الأرناؤوط، عني بتصحيحه ونشره: بشير محمد عيون، الناشر: مكتبة دار البيان، دمشق - الجمهورية العربية السورية، مكتبة المؤيد، الطائف - المملكة العربية السعودية، عام النشر: 1410 هـ - 1990 م.
- معجم لغة الفقهاء، المؤلف: محمد رواس قلعجي - حامد صادق قنيبي، الناشر: دار النفائس للطباعة والنشر والتوزيع، الطبعة: الثانية، 1408 هـ - 1988 م.
- المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت، الطبعة: الثانية، 1392ه.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن يَزِيد بن الأصمِّ قال: حدَّثَتْني مَيْمونَة بنت الحارث رضي الله عنها «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم تَزَوَّجها وهو حلال»، قال: «وكانت خالَتي، وخالةَ ابنِ عباس».
یزید بن اصم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی تو آپ ﷺ اس وقت حلال تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میمونہ رضی اللہ عنہا میری بھی خالہ تھیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بھی۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
یزید بن اصم نے یہ بات ذکر فرمائی کہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنھا نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح کیا تو اس وقت آپ ﷺ احرام کھول کر حلال ہوچکے تھے اور آپ ﷺ نے ان سے نکاح کے دوران کسی حج یا عمرہ کا احرام نہیں پہنا تھا۔ پھر یزید بن اصم، میمونہ رضی اللہ عنھا سے اپنی رشتہ داری کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس طرح وہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی خالہ تھیں، ان کی بھی خالہ تھیں، جس سے یہ دلیل ملتی ہے کہ وہ قصہ بیان کرنے والی ام المؤمنین رضی اللہ عنھا کے قریبی رشتہ دار تھے اور آپ ﷺ احرام میں نہیں تھے،جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا خیال ہے (کہ آپ احرام میں تھے)۔
حوالہ
صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت، الطبعة الثانية، 1392ه.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة الأولى، 1422هـ - 2002م.
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ - 2003م.
تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة الأولى، 1427ه - 2006م.
فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427ه.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر: دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1427هـ - 1431هــ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com