سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جس نے کسی روزے دار کو افطار کرایا، اسے روزے دار کے برابر ثواب ملے گا۔

عن زيد بن خالد الجهني رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «مَنْ فَطَّرَ صائمًا، كان له مِثْلُ أجْرِهِ، غَيْرَ أنَّهُ لاَ يُنْقَصُ مِنْ أجْرِ الصَّائِمِ شَيْءٌ».
زید بن خالد الجھنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”جس نے کسی روزے دار کو افطار کرایا، اسے روزے دار کے برابر ثواب ملے گا اور روزے دار کے اجر وثواب میں سے کوئی کمی نہ ہو گی“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں روزے دار کو افطار کرانے کی فضیلت ، اس کے مستحب ہونے کا بیان اور اس عمل کی ترغیب موجود ہے۔ جو اس عمل کو انجام دے گا، اس کے لیے روزے دار کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا اور روزے دار کے اجر و ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ در اصل یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے بندوں پر برسنے والے فضل و احسان کا ایک مظہر ہے؛ کیوں کہ اس عمل کے نتیجے میں نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں باہمی تعاون، محبت پیدا کرنے اور مسلمانوں کے مابین باہمی مفادات کو ملحوظ رکھنے، جیسے جذبات جنم لیتے ہیں۔ حدیث کا ظاہری مطلب یہی ہے کہ اگر کوئی انسان کسی روزے دار کو ایک کھجور ہی سے افطار کرائے، تو اس کو اس روزے دار کے برابر اجر و ثواب عطا کیا جائے گا۔ اس لیے بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت و طاقت کے اعتبار سے روزے داروں کو افطار کرائے۔ اس عمل کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے، جب روزے دار محتاج و ضرورت مند ہوں یا انھیں افطار کرانے والے والے میسر ہی نہ ہوں۔

حوالہ

- الجامع الصحيح –وهو سنن الترمذي-؛ للإمام محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق أحمد شاكر وآخرين، مكتبة الحلبي-مصر، الطبعة الثانية، 1388هـ. - رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. - سنن ابن ماجه؛ للحافظ محمد بن يزيد القزويني، حققه محمد فؤاد عبدالباقي، دار إحياء الكتب العربية. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. - المسند؛ للإمام أحمد بن حنبل، نشر المكتب الإسلامي-بيروت، مصور عن الطبعة الميمنية. - مسند الدارمي –المعروف بـ: سنن الدارمي-؛ للإمام عبدالله بن عبدالرحمن الدارمي، تحقيق حسين سليم، دار المغني-الرياض، الأولى، 1421هـ. - مشكاة المصابيح؛ تأليف محمد بن عبدالله التبريزي، تحقيق محمد ناصر الدين الألباني، المكتب الإسلامي-بيروت، الطبعة الثانية، 1399هـ. - مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. - بهجة الناظرين, وهي كالتالي: بهجة الناظرين, سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين, محمد علي بن محمد البكري الصديقي الشافعي, اعتنى بها: خليل مأمون شيحا, الناشر: دار المعرفة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت – لبنان, الطبعة: الرابعة، 1425 هـ - 2004 م. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين, مصطفى سعيد الخن، مصطفى البغا، محي الدين مستو، علي الشربجي، محمد أمين لطفي, مؤسسة الرسالة, سنة النشر: 1407 – 1987.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
روزے کی سنتیں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com