سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

روزے کی سنتیں

7 احادیث

لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے، جب تک جلد افطار کرتے رہیں گے۔

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ».
سهل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے، جب تک جلد افطار کرتے رہیں گے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے، جب تک سورج ڈوبنے کا یقین ہو جانے کے فورا بعد افطار کر لیا کریں گے۔ اور ایسا سنت کى پیروى اور اس کی متعین کردہ حد پر رک جانے کى وجہ سے ہوگا۔

فوائد
  1. نووی کہتے ہيں: اس حدیث میں سورج ڈوبنے کا یقین ہو جانے کے بعد جلدی افطار کر لینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اس امت کے اندر اس وقت تک نظم و ضبط برقرار رہے گا اور وہ خیر وبرکت سے محظوظ ہوتے رہيں گے، جب تک اس سنت پر کاربند رہيں گے۔ اور اس کا افطار میں تاخیر کرنا اس بات کی علامت ہوگی کہ وہ بگاڑ کی راہ پر گامزن ہونے جا رہی ہے۔
  2. لوگوں کے اندر خیر اتباع سنت کی وجہ سے باقی رہے گی۔ جیسے ہی سنت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع ہوگی، بگاڑ کی راہيں کھلنے لگیں گی۔
  3. اہل کتاب اور اہل بدعت کی مخالفت، جو افطار تاخیر سے کرتے ہيں۔
  4. ابن حجر کہتے ہیں: اس حدیث کے اندر افطار میں دیر نہ کرنے کی وجہ بیان کر دی گئی ہے۔ مہلب کہتے ہیں: اس کے اندر حکمت یہ ہے کہ دن کو دراز کر کے رات کے نہ اندر لے جایا جائے۔ یہ روزے دار کے لیے ‌زیادہ راحت بخش ہے اور اس سے اس کے اندر عبادت کی طاقت زیادہ آتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی علما کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ جلدی اس کے بعد ہی کی جائے گی، جب اپنی آنکھ سے دیکھ لینے یا عدالت سے متصف دو شخصوں کی گواہی کے بعد اس بات کا یقین حاصل ہو جائے کہ سورج ڈوب چکا ہے۔ راجح قول کے مطابق صفت عدالت سے متصف ایک شخص کی گواہی بھی کافی ہے۔
  5. ابن حجر کہتے ہیں: تنبیہ: آج کے زمانے میں رونما ہونے والی ایک بہت ہی غلط بدعت یہ ہے کہ ماہ رمضان میں فجر سے لگ بھگ بیس منٹ پہلے دوسری اذان دے دی جاتی ہے اور یہ بتانے کے لیے کہ اب روزے کا ارادہ رکھنے والوں کے لیے کھانا پینا حرام ہو چکا ہے، چراغ بجھا دیے جاتے ہيں۔ اور ایسا اس بدعت کے گھڑنے والے کے اس گمان کى بنیاد پر ہوتا ہے کہ یہ عبادت میں احتیاط کے لئے کیا جاتا ہے۔ جب کہ اس حقیقت سے صرف معدودے چند افراد ہى واقف ہوتے ہیں۔ اور اس بدعت کى وجہ سے ان کے اندر یہ بدعت بھى در آئى کہ وہ اب سورج ڈوبنے کے کچھ دیر بعد ہی اذان دیتے ہیں اس گمان کى بنیاد پر کہ صحیح معنوں میں وقت کو پالیں۔ اس طرح افطار کو وقت سے پیچھے کردیا اور سحر کو آگے کردیا اور سنت کی مخالفت کے شکار ہو گئے۔ اور اسى لئے ان کے اندر خیر کم ہوگیا اور ان کے اندر شر کی گرم بازاری ہوگئى۔ اللہ المستعان۔
حوالہ

صحيح البخاري (3/ 36) (1957). صحيح مسلم (2/ 771) (1098). تيسير العلام، لعبد الله البسام (ص335). تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، لابن عثيمين (3/ 442). خلاصة الكلام على عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص155).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ہم نے رسول الله ﷺ کے ساتھ سحری کی۔ پھر آپ ﷺ (صبح کی) نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سحری اور اذان میں کتنے وقت کا وقفہ ہوتا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ پچاس آیتیں پڑھنے کے بقدر۔

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلاةِ، قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَ الأَذَانِ وَالسَّحُورِ؟ قَالَ: قَدْرُ خَمْسِينَ آيَةً.
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: ہم نے رسول الله ﷺ کے ساتھ سحری کی۔ پھر آپ ﷺ (صبح کی) نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سحری اور اذان میں کتنے وقت کا وقفہ ہوتا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ پچاس آیتیں پڑھنے کے بقدر۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

کچھ صحابہ رضى اللہ عنہم نے اللہ کے نبی صلی اللہ کے و سلم کے ساتھ سحری کی اور اس کے بعد آپ فجر کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ چنانچہ انس رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھا: سحری سے فارغ ہونے سے لے کر اذان تک کا وقفہ کتنا رہا ہوگا؟ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: متوسط درجے کی پچاس آیتیں پڑھنے کے بہ قدر، جو نہ لمبی ہوں اور نہ چھوٹی، پڑھنے کا انداز بھی متوسط ہو۔ نہ تیز اور نہ دھیما۔

فوائد
  1. فجر سے کچھ دیر قبل تک سحری کو مؤخر کرنا افضل ہے، کیوں کہ تاخیر سے سحری کرنا جسم کے لیے زیادہ نفع بخش اور دن بھر کے لیے زیادہ سودمند ہے۔
  2. صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھنے کے حریص ہوا کرتے تھے، تاکہ آپ سے علم حاصل کرسکیں۔
  3. صحابہ کے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا بہتر برتاؤ کہ ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیا کرتے تھے۔
  4. روزہ توڑنے والی چيزیں چھوڑنے کا وقت طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے۔
  5. حدیث کے الفاظ "اذان اور سحرى کے درمیان کتنا وقفہ تھا" سے مراد سحری اور اقامت کے درمیان کا وقت ہے۔ کیوں کہ دوسری حدیث میں ہے: "ان دونوں کے سحری سے فارغ ہونے اور نماز میں داخل ہونے کے درمیان کتنا وقت رہتا تھا"۔ اور ایک حدیث دوسری حدیث کی تفسیر کرتی ہے۔
  6. مُہلَّب کہتے ہیں: اس حدیث میں وقت کی پیمائش جسمانی اعمال کے ذریعے کی گئی ہے۔ عربوں کے اندر یہ بات عام تھی۔ مثلا وہ کہا کرتے تھے: بکری دوہنے کے برابر وقت اور اونٹ ذبح کرنے کے برابر وقت۔ زید بن ثابت نے اس حدیث کے اندر وقت کی پیمائش مذکورہ مثالوں کى بجائے قراءت کے ذریعے کی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ وقت قراءت کے ذریعہ عبادت کا وقت ہوا کرتا تھا۔ اگر عمل کے علاوہ کسی اور چيز کے ذریعے وقت کی پیمائش کر رہے ہوتے، تو مثال کے طور پر کہتے: ایک درجے کے بقدر یا ایک گھنٹے کے ایک تہائی یا پانچویں حصے کے بقدر۔
  7. ابن ابو جمرہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم یہ دیکھتے کہ کون سی چیز آپ کی امت کے لیے زیادہ آسان ہے اور اس کے بعد اسی پر عمل کرتے۔ کیوں کہ اگر آپ سحری نہيں کرتے، تو آپ کی پیروی کرتے ہوئے لوگ بھی سحری نہيں کرتے اور اس طرح کچھ لوگ دشواری میں پڑ جاتے۔ اسی طرح اگر آپ رات کے درمیانی حصے میں سحری کرتے، تب بھی ایسے لوگ دشواری میں پڑ جاتے، جن پر نیند حاوی ہو جاتی ہے کیوں کہ ممکن تھا کہ اس کی وجہ سے ان کی نماز فجر چھوٹ جاتی یا رات جاگنے کی تکلیف سے گزرنا پڑتا۔
حوالہ

صحيح البخاري (3/ 29) (1921). صحيح مسلم (2/ 771) (1097). تيسير العلام، لعبد الله البسام (ص318). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (3/ 418). خلاصة الكلام على عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص147).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

سحری کھایا کرو، اس لیے کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔

عن أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "سحری کھایا کرو، اس لیے کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سحری کرنے کی ترغیب دی ہے۔ سحری کہتے ہیں روزے کی تیاری کے طور پر رات کے آخری حصے میں کھانے کو۔ ترغیب دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں خیر کثیر یعنی بڑا اجر و ثواب، رات کے آخری حصے میں دعا کے لیے جاگنے، روزہ رکھنے کی طاقت حاصل کرنے، اپنے اندر روزے کے لیے چستی پیدا کرنے اور روزہ کی مشقت کو کم کرنے جیسی چيزیں پائی جاتی ہیں۔

فوائد
  1. شرعی حکم کو بجا لاتے ہوئے سحری کرنا مستحب ہے۔
  2. ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں: سحری کی برکت متعدد جہات سے حاصل ہوتی ہے۔ چناں چہ سحری کرنا اتباع سنت ہے، اہل کتاب کی مخالفت ہے، اس سے عبادت کے لئے قوت حاصل ہوتی ہے، جسم کے اندر چستی آتی ہے، بھوک کے نتیجے میں مہمیز پانے والی بدخلقی دور ہوتی ہے، یہ سحری کے وقت کچھ مانگنے والے یا ساتھ میں سحری کرنے کے لیے حاضر ہونے والے پر صدقہ کرنے کا سبب ہے، دعا کی قبولیت کے وقت ذکر ودعا کا سبب ہے اور جس نے سونے سے پہلے روزے کی نیت نہيں کی، اسے نیت کر لینے کا موقع فراہم ہوجاتا ہے۔
  3. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا یہ حسن ہے کہ آپ حکم کے ساتھ اس کی حکمت بھی بیان کردیتے، تاکہ دل میں انشراح پیدا ہو اور شریعت کی رفعت و بلندی سمجھ میں آئے۔
  4. ابن حجر کہتے ہيں: کھانے پینے کی کوئی بھی تھوڑی سی چیز لے لینے سے سحری ہو جاتی ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (3/ 29) (1923). صحيح مسلم (2/ 770) (1095). تيسير العلام، لعبد الله البسام (ص317). تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، لابن عثيمين (3/ 416).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے دو آدمی ايسے ہيں جو نيکی ميں پيچھے نہيں رہتے ہیں۔

عن أبي عطية، قال: دخلت أنا ومسروق على عائشة رضي الله عنها ، فقالَ لها مسروقٌ: رجلانِ من أصحابِ محمدٍ صلى الله عليه وسلم كِلاَهُمَا لا يَألُو عَنِ الخَيْرِ؛ أحَدُهُمَا يُعَجِّلُ المَغْرِبَ وَالإفْطَارَ، وَالآخر يؤخِّر المغرب وَالإفْطَارَ؟ فَقَالَتْ: مَنْ يُعَجِّلُ المَغْرِبَ وَالإفْطَار؟ قالَ: عبدُ اللهِ -يعني: ابن مسعود- فقالتْ: هَكذا كانَ رسولُ اللهِ يَصْنَعُ.
ابو عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور مسروق دونوں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو مسروق نے ان سے عرض کیا: محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے دو آدمی ايسے ہيں جو نيکی ميں پيچھے نہيں رہتے ہیں؛ ان میں سے ایک افطاری میں جلدی کرتا ہے اور نماز مغرب میں بھی جلدی کرتا ہے، اور دوسرا ساتھی افطاری میں تاخیر کرتا ہے اور نماز مغرب میں بھی تاخیر کرتا ہے؟ تو عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: ان میں سے وہ کون ہیں جو افطاری میں جلدی کرتے ہیں اور نماز مغرب بھی جلدی پڑھتے ہیں؟ ابوعطیہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ وہ عبداللہ یعنی ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ اسی طرح کیا کرتے تھے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ابو عطیہ اور مسروق نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا کہ محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے دو آدمی ہیں: ان میں سے ایک ساتھی افطاری میں تاخیر کرتا ہے اور نماز مغرب میں بھی تاخیر کرتا ہے اور دوسرا افطاری میں جلدی کرتا ہے اور نماز مغرب میں بھی جلدی کرتا ہے، ان میں سے کس کا عمل زیادہ درست ہے؟ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دریافت کیا: ان میں سے وہ کون ہیں جو جلدی کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ اسی طرح کیا کرتے تھے، يعنی اللہ کے رسول ﷺ افطاری میں جلدی کرتے تھے اور نماز مغرب بھی جلدی پڑھتے تھے۔ يہ اللہ کے رسول ﷺ کی عملی سنت ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ افطاری ميں جلدی کرنا بہتر وافضل ہے۔

حوالہ

شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426هـ. رياض الصالحين، للنووي، تحقيق: ماهر الفحل، دار ابن كثير - بيروت، الطبعة الأولى، 1428هـ - 2007م. صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ. تطريز رياض الصالحين، لفيصل بن عبد العزيز المبارك النجدي، تحقيق: عبد العزيز آل حمد, دار العاصمة, الطبعة الأولى، 1423هـ. كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا - الطبعة الأولى، 1430هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے۔

عن عمرو بن العاص رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وصِيَامِ أهْلِ الكِتَابِ، أكْلَةُ السَّحَرِ».
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ ہمارے اور یہود و نصاریٰ کے روزوں کے درمیان پایا جانے والا فرق و امتیاز اس کھانے کو قرار دے رہے ہیں، جو مسلمان سحری کے وقت کھاتے ہیں؛ کیوں کہ اہل کتاب سحری نہیں کرتے اور مسلمانوں کے لیے سحری کرنا مستحب اور پسندیدہ عمل ہے۔ اس لیے کہ اس میں ایک جانب یہود و نصاریٰ کی مخالفت ہے، تو دوسری جانب اس میں سنت کی مکمل پیروی کا مظاہرہ، جس میں برکت اور خیر ہی مضمر ہے، جیسا کہ سنت سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ جب کہ اہل کتاب کا روزہ نصف شب سے شروع ہوتا ہے، اس لیے وہ نصف شب سے پہلے ہی کھا لیتے ہیں اور سحری کے وقت نہیں کھاتے۔ چنانچہ شریعت یہ چاہتی ہے کہ مسلمانوں اور کفار کے درمیان حد فاصل قائم کی جائے۔

حوالہ

- شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426ه. - رياض الصالحين، للنووي، تحقيق: ماهر الفحل، دار ابن كثير - بيروت، الطبعة الأولى، 1428ه- 2007م. - صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين, مؤسسة الرسالة, الطبعة الرابعة عشر, 1407ه. - كنوز رياض الصالحين، نشر: دار كنوز إشبيليا، الطبعة الأولى، 1430ه - 2009م. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415ه. - المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي، دار إحياء التراث العربي - بيروت، الطبعة الثانية، 1392.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ نماز (مغرب) ادا کرنے سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار کرتے تھے۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كان رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يُفطِر قبْل أن يصلي على رُطَبات، فإن لم تكنْ رُطَباتٌ فَتُمَيْراتٌ، فإن لم تكنْ تُمَيْراتٌ، حَسَا حَسَواتٍ مِن ماء.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز (مغرب) ادا کرنے سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار کرتے تھے۔ اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں، تو چند خشک کھجوروں سے اور اگر خشک کھجوریں بھی میسر نہ ہوتیں، تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس حدیث میں یہ خبر دے رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب روزہ سے ہوتے، تو نماز مغرب سے قبل چند تر کھجوروں سے افطار فرمایا کرتے تھے۔ اگر تر کھجور میسر نہ ہوتیں، تو خشک کھجور سے افطار فرماتے اور اگر وہ بھی میسر نہ ہوتیں، تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔ کھجور اور پانی سے روزہ افطار کرنے میں رسول اللہ ﷺ کی اختیار کردہ ترتیب نہایت موزوں اور مناسب ہے؛ اس لیے کہ روزے دار کا معدہ خالی ہوتا ہے۔ چنانچہ اسے چاہیے کہ وہ مرغن عذا سے کھانے کی شروعات نہ کرے؛ تاکہ وہ کسی ضرر و نقصان کا شکار نہ ہونے پائے۔

حوالہ

سنن الترمذي، للإمام محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق أحمد شاكر وآخرين، مكتبة الحلبي - مصر، الطبعة الثانية، 1388هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير - دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. سلسلة الأحاديث الصحيحة، للشيخ محمد ناصر الدين الألباني، مكتبة المعارف - الرياض، 1415هـ. شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. فيض القدير شرح الجامع الصغير، تأليف عبدالرؤوف المناوي، دار الحديث - القاهرة. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. سنن أبي داود, أبو داود سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني, المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد, المكتبة العصرية، صيدا – بيروت. مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى، 1421هـ - 2001م. فيض القدير شرح الجامع الصغير, زين الدين محمد المدعو علي بن زين العابدين, الناشر: المكتبة التجارية الكبرى - مصر, الطبعة الأولى، 1356. زاد المعاد في هدي خير العباد, ابن قيم الجوزية, الناشر: مؤسسة الرسالة، بيروت - مكتبة المنار الإسلامية، الكويت, الطبعة: السابعة والعشرون, 1415هـ - 1994م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جس نے کسی روزے دار کو افطار کرایا، اسے روزے دار کے برابر ثواب ملے گا۔

عن زيد بن خالد الجهني رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «مَنْ فَطَّرَ صائمًا، كان له مِثْلُ أجْرِهِ، غَيْرَ أنَّهُ لاَ يُنْقَصُ مِنْ أجْرِ الصَّائِمِ شَيْءٌ».
زید بن خالد الجھنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”جس نے کسی روزے دار کو افطار کرایا، اسے روزے دار کے برابر ثواب ملے گا اور روزے دار کے اجر وثواب میں سے کوئی کمی نہ ہو گی“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں روزے دار کو افطار کرانے کی فضیلت ، اس کے مستحب ہونے کا بیان اور اس عمل کی ترغیب موجود ہے۔ جو اس عمل کو انجام دے گا، اس کے لیے روزے دار کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا اور روزے دار کے اجر و ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ در اصل یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے بندوں پر برسنے والے فضل و احسان کا ایک مظہر ہے؛ کیوں کہ اس عمل کے نتیجے میں نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں باہمی تعاون، محبت پیدا کرنے اور مسلمانوں کے مابین باہمی مفادات کو ملحوظ رکھنے، جیسے جذبات جنم لیتے ہیں۔ حدیث کا ظاہری مطلب یہی ہے کہ اگر کوئی انسان کسی روزے دار کو ایک کھجور ہی سے افطار کرائے، تو اس کو اس روزے دار کے برابر اجر و ثواب عطا کیا جائے گا۔ اس لیے بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت و طاقت کے اعتبار سے روزے داروں کو افطار کرائے۔ اس عمل کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے، جب روزے دار محتاج و ضرورت مند ہوں یا انھیں افطار کرانے والے والے میسر ہی نہ ہوں۔

حوالہ

- الجامع الصحيح –وهو سنن الترمذي-؛ للإمام محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق أحمد شاكر وآخرين، مكتبة الحلبي-مصر، الطبعة الثانية، 1388هـ. - رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. - سنن ابن ماجه؛ للحافظ محمد بن يزيد القزويني، حققه محمد فؤاد عبدالباقي، دار إحياء الكتب العربية. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. - المسند؛ للإمام أحمد بن حنبل، نشر المكتب الإسلامي-بيروت، مصور عن الطبعة الميمنية. - مسند الدارمي –المعروف بـ: سنن الدارمي-؛ للإمام عبدالله بن عبدالرحمن الدارمي، تحقيق حسين سليم، دار المغني-الرياض، الأولى، 1421هـ. - مشكاة المصابيح؛ تأليف محمد بن عبدالله التبريزي، تحقيق محمد ناصر الدين الألباني، المكتب الإسلامي-بيروت، الطبعة الثانية، 1399هـ. - مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. - بهجة الناظرين, وهي كالتالي: بهجة الناظرين, سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين, محمد علي بن محمد البكري الصديقي الشافعي, اعتنى بها: خليل مأمون شيحا, الناشر: دار المعرفة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت – لبنان, الطبعة: الرابعة، 1425 هـ - 2004 م. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين, مصطفى سعيد الخن، مصطفى البغا، محي الدين مستو، علي الشربجي، محمد أمين لطفي, مؤسسة الرسالة, سنة النشر: 1407 – 1987.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com