سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

مصارفِ زکوۃ

3 احادیث

مانگنے میں اصرار نہ کیا کرو، اللہ کی قسم تم میں سے کوئی بھی مجھ سے کوئی چیز مانگے، اور میں تمہارے مانگنے کی وجہ سے کوئی چیز دیدوں حالاں کہ میں اس دینے کو پسند نہ کروں، اس کو میرے عطا کردہ مال میں برکت نصیب نہیں ہوگی۔

عن معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا تُلْحِفُوا في المسأَلة، فوالله لا يَسْألني أحدٌ منكم شيئًا، فَتُخْرِجَ له مسألته منِّي شيئًا وأنا له كارِهٌ، فيُبَارَك له فيما أَعْطَيتُه».
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مانگنے میں اصرار نہ کیا کرو، اللہ کی قسم تم میں سے کوئی بھی مجھ سے کوئی چیز مانگے، اور اُس کا مانگنا مجھ سے کوئی چیز نکال لے اور میں اسے ناپسند کروں، اس کو میرے عطا کردہ مال میں برکت نصیب نہیں ہوگی“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے وارد مانگے میں اصرار کرنے کی ممانعت کو بتا رہے ہیں یعنی مانگنے میں مبالغہ اور اصرار نہ کیا کرو۔ اس لیے کہ مانگنے میں اصرار کرنا دی ہوئی چیز سے برکت ختم کر دیتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ جب کوئی شخص اصرار کرکے آپ ﷺ سے کچھ مانگے،اس کے مانگنے کی وجہ سے وہ چیز آپ ﷺ سے نکل جاتی ہے، حالاں کہ آپ ﷺ اسے پسند نہیں کرتے، یعنی اُسے یہ چیز دینے یا اُسے نکالنے کو، تو اس میں برکت نہیں ہوتی، یعنی دریں صورت میری دی ہوئی چیز میں کبھی برکت نہیں ہوتی یعنی اصرار (وتنگ) کرکے مانگنے پر۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف: عبيد الله بن محمد المباركفوري، الناشر: إدارة البحوث العلمية والدعوة والإفتاء، الطبعة: الثالثة - 1404 هـ بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، نسخة الكترونية ، لا يوجد بها بيانات نشر. صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة ، الطبعة الأولى : 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

تھو، تھو! اسے پھینک دو۔ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے؟

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: أخذ الحسن بن علي رضي الله عنهما تمرة من تمر الصدقة فجعلها في فيه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «كَخْ كَخْ ارْمِ بها، أما علمت أنَّا لا نأكل الصدقة!؟». وفي رواية: «أنَّا لا تَحِلُّ لنا الصدقة».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمايا :”تھو، تھو! اسے پھینک دو۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقے کی چيز نہیں کھاتے؟“ ایک اور روایت میں ہے کہ (آپ ﷺ نے فرمایا): ”ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے زکوۃ کی جمع شدہ کھجوروں میں سے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی۔ تو نبى ﷺ نے فرمايا: ”تھو، تھو!“ یعنی یہ تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں اسے منہ سے نکالنے کا حکم دیا اور فرمایا: ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ہے۔ چنانچہ آل محمد کے لیے صدقہ لينا حلال نہیں ہے کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے معزز ہیں۔ جب کہ صدقات اور زکات لوگوں کے میل کچیل ہیں اور معزز لوگوں کے لیے میل کچیل کو لینا مناسب نہیں ہے۔ جیسا کہ نبى ﷺ نے اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”ہم آل محمد کے لیے صدقہ جائز نہیں ہے، یہ تو محض لوگوں کا میل کچیل ہے“۔

حوالہ

نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخن وآخرين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه 1987م. شرح رياض الصالحين، لمحمد ابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426ه. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

’’اگر تم دونوں چاہو تو میں تمھیں دے دیتا ہوں، لیکن صدقہ کے اس مال میں کسی مال دار کا اور کسی کمانے والے طاقتور شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘

عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الخِيَارِ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ وَهُوَ يُقَسِّمُ الصَّدَقَةَ، فَسَأَلَاهُ مِنْهَا، فَرَفَّعَ فِينَا البَصَرَ وَخَفَّضَهُ، فَرَآنَا جَلْدَيْنِ، فَقَالَ: «إِنَّ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا، وَلَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ، وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ».
عبید اللہ بن عدی بن الخیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: دو آدمیوں نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ دونوں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ان دونوں نے بھی آپ ﷺ سے صدقہ میں سے مانگا۔ تو آپ ﷺ نے ہمیں اوپر سے نیچے تک دیکھا، اور ہمیں مضبوط اور توانا پایا، پھر فرمایا: ’’اگر تم دونوں چاہو تو میں تمھیں دے دیتا ہوں، لیکن صدقہ کے اس مال میں کسی مال دار کا اور کسی کمانے والے طاقتور شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘
رواه أبو داود والنسائيدرجہصحيح
تشریح

حجۃ الوداع کے موقع پر دو آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ان دونوں نے درخواست کی کہ آپ ﷺ انہیں بھی اس میں سے عطا فرمائیں، تو آپ ﷺ ان کی طرف بار بار دیکھنے لگے تاکہ ان کی حالت معلوم کریں کہ آیا ان کے لیے صدقہ حلال ہے یا نہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے دیکھا کہ یہ دونوں تندرست اور توانا ہیں، اور فرمایا: ”اگر تم دونوں چاہو تو میں تمہیں صدقے میں سے دے دیتا ہوں، لیکن اس میں کسی ایسے شخص کا کوئی حصہ نہیں جس کے پاس اپنی ضرورت کے بقدر مال ہو، اور نہ ہی اس شخص کا جو کوشش کر کے مال کمانے پر قادر ہو، اگرچہ اس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس کی بنا پر وہ امیر شمار ہوتا ہو۔“

فوائد
  1. مالدار یا کمانے پر قادر طاقتور کے لیے بھیک مانگنا حرام ہے۔
  2. جس شخص کے مال کا علم نہ ہو، اس کے سلسلے میں اصل یہ ہے کہ وہ فقیر اور صدقے کا مستحق ہے۔
  3. صرف قوت وطاقت کا ہونا صدقے کا غیر مستحق ہونے کو لازم نہیں کرتا، بلکہ اس کے ساتھ کمانے کی قدرت ہونا بھی ضروری ہے۔
  4. جو شخص اپنی ضروریات کے بقدر کمانے پر قادر ہو، اس کے لیے فرض کردہ صدقہ (زکاۃ) لینا جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ کمانے کی وجہ سے (زکاۃ سے) بے نیاز ہے، جس طرح مال دار شخص مال کی وجہ سے بے نیاز ہوتا ہے۔
  5. مسلمان شخص کی عزتِ نفس، اور لینے، سوال کرنے اور کاہلی کے بجائے نوازنے کی عظیم نبوی تربیت۔
حوالہ

سنن أبي داود (3/ 75) (1633). سنن النسائي (5/ 99) (2598). ذخيرة العقبى في شرح المجتبى (23/ 210). شرح أبي داود للعيني (6/ 374).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com