ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی سونا یا چاندی والا شخص اپنے اس مال کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا، اس کے لیے قیامت کے دن آگ کی تختیاں تیار کی جائیں گی اور انہیں جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان سے اس کے پہلو، اس کی پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا۔ جب جب بھی تختیاں ٹھنڈی ہوجائیں گیں، انھیں دوبارہ گرمایا جائے گا۔ یہ عذاب ایک ایسے دن میں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے اور (عذاب میں گرفتار شخص) جنت یا جہنم کی جانب اپنا راستہ دیکھ لے۔“ عرض کیا گيا: اے اللہ کے رسول! اونٹوں کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اونٹوں کا مالک ہو اور وہ ان کا حق (زکوۃ) ادا نہ کرتا ہو اور ان کا حق یہ بھی ہے کہ ان کو پانی پلانے کے دن (ضرورت مندوں اور مسافروں کے لیے) ان کا دودھ دوہا جائے، تو قیامت کے دن اس شخص کو اونٹوں کے سامنے ایک ہموار میدان میں منہ کے بل اوندھا ڈال دیا جائے گا اور اس کے سارے اونٹ پہلے سے بھی زیادہ فربہ حالت میں وہاں موجود ہوں گے اور ان میں سے اونٹ کا ایک بچہ تک بھی کم نہ ہوگا۔ يہ اونٹ اپنے کھروں سے اس شخص کو روندیں گے اور اپنے منہ سے اسے کاٹیں گے۔ ان میں سے جب آخری اونٹ گزر جائے گا، تو اس پر ان میں سے پہلے اونٹ کو دوبارہ لوٹا دیا جائے گا۔ یہ عذاب ایسے دن میں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور وہ جنت یا جہنم کی جانب اپنا راستہ دیکھ لے۔" عرض کیا گيا: اے اللہ کے رسول! گائے اور بکریوں کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : "جو شخص گایوں اور بکریوں کا مالک ہو اور ان کا حق ادا نہ کرتا ہو، قیامت کے دن اسے ایک ہموار میدان میں اس کی گایوں اور بکریوں کے سامنے اوندھے منہ ڈال دیا جائے گا۔ ایک بھی گائے یا بکری کم نہیں دکھے گی۔
کسی کا سینگ نہ مڑا ہوگا، نہ ٹوٹا ہوگا اور نہ کوئی بلا سینگ ہوگی۔ وه اپنے سينگوں سے اسے ماریں گی اور اپنے کھروں سے اسے کچلیں گی۔ جب آخری گائے یا بکری روند کر چلی جائے گی، تو پہلی کو دوبار لوٹا دیا جائے گا۔ یہ عذاب ايسے دن ميں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا،) یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور وہ شخص جنت یا دوزخ کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! گھوڑوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں : ایک تو وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے بوجھ (گناہ کا باعث) ہوتے ہیں، دوسرے وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے پردہ ہوتے ہیں اور تیسرے وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے ثواب کا باعث بنتے ہیں۔ چنانچہ جو گھوڑے انسان کے لیے گناہ کا باعث ہوتے ہیں، وہ ایسے گھوڑے ہیں، جنہیں وہ ریاکاری، اظہارِ فخر اور اہل اسلام کے خلاف مقابلے کے ليے رکھتا ہے۔ یہ اس کے لیے گناہ کا باعث ہوتے ہیں۔ جو گھوڑے انسان کے لیے پردہ بنتے ہیں، وہ ایسے گھوڑے ہیں، جنہیں انسان اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے باندھتا ہے اور ان کی پیٹھ اور گردنوں کے بارے میں اللہ کے حق کو نہیں بھولتا۔ ایسے گھوڑے انسان کے لیے پردہ بنتے ہیں۔ جو گھوڑے انسان کے لیے اجر کا باعث ہوتے ہیں، وہ ایسے گھوڑے ہیں، جنہیں آدمی اللہ کے راستے میں جہاد کے مقصد سے مسلمانوں کے لیے چراگاہ یا باغ میں باندھ کر رکھے۔ وہ گھوڑے اس چراگاہ یا باغ میں جو کچھ بھی کھاتے ہیں ان کے کھانے کے بقدر اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ان کی لید اور پیشاب کے بقدر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اگر وہ اپنی رسی توڑ کر ایک ٹیلے یا دو ٹیلوں پر دوڑ کر چڑھ جائیں، تو ان کے پاؤں کے نشانات کے بقدر اور اس دوران گرنے والی لید پر بھی اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔ اگر ان کا مالک انہیں کسی نہر پر لے جائے اور وہ اس میں سے پانی پی لیں، حالاں کہ اس کا انہیں پانی پلانے کا ارادہ نہ بھی ہو، تب بھی وہ جتنا پانی پیتے ہیں، اس کے بقدر الله تعالى اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مختلف طرح کے اموال اور ان کی زکاۃ ادا نہ کرنے والے کو قیامت کے دن ملنے والی جزا کا ذکر کیا ہے۔ مثلا :
1- سونا، چاندی اور ان کا حکم رکھنے والے دیگر اموال اور تجارتی سامان۔ ان پر اگر زکاۃ واجب ہو جائے اور زکاۃ ادا نہ کی جائے، تو قیامت کے دن ان کو پگھلاکر پہلے تختیوں کی شکل میں ڈھالا جائے گا اور اس کے بعد ان تختیوں کو جہنم کی آگ میں تپاکر ان کے مالک کے پہلو، پیشانی اور پیٹھ پر داغا جائے گا۔ جب جب ان کی گرمی ماند پڑ جائے گی، ان کو دوبارہ تپایا جائے گا۔ عذاب کا یہ سلسلہ قیامت کے روز دن بھر جاری رہے گا اور وہ دن بھی پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ یہاں تک کہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور یہ طے ہو جائے گا اسے جنت میں جانا ہے یا جہنم میں۔
2- اونٹ کا جو مالک فرض زکاۃ اور اس کا حق ادا نہ کرتا ہو اور اس کا ایک حق یہ ہے کہ اس کا دودھ مسکینوں کو بھی پینے کے لیے دیا جائے، تو قیامت کے دن اس کے اونٹوں کو پہلے سے کہیں زیادہ فربہ حالت اور زیادہ تعداد میں لایا جائے گا، پھر اس کے مالک کو ان کے سامنے ایک ہموار اور وسیع و عریض زمین میں لٹا دیا جائے گا، اس کے بعد وہ اونٹ اسے اپنے پیروں سے روندیں گے اور اپنے دانتوں سے کاٹیں گے۔ جب آخری اونٹ گزر جائے گا، تو پہلے اونٹ سے پھر یہ سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔ عذاب کا یہ سلسلہ قیامت کے روز دن بھر جاری رہے گا اور وہ دن بھی پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ یہاں تک کہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور یہ طے ہو جائے گا اسے جنت میں جانا ہے یا جہنم میں۔
3- گائے اور بکری کا جو مالک ان کی فرض زکاۃ نہ دیتا ہو، قیامت کے دن اس کی گايوں اور بکریوں کو ان کی پوری تعداد میں اس طرح سامنے لایا جائے گا کہ ایک گائے یا بکری بی ادھر ادھر نہیں ہوگی۔ سب جانور بالکل صحیح و سالم ہوں گے۔ نہ کسی کا سینگ مڑا ہوا ہوگا، نہ کسی کا سینگ ٹوٹا ہوا ہوگا اور نہ کوئی جانور بلا سینگ کا ہوگا۔ پھر ان کے مالک کو ایک وسیع و عریض اور ہم وار میدان میں ان کے سامنے لٹا دیا جائے گا۔ اس کے بعد یہ گائيں اور بکریاں اسے اپنے سینگوں اسے ماریں گی اور اپنے پیروں سے اسے کچلیں گی۔ جب آخری گائے یا بکری گزر جائے گی، تو پہلی گائے یا بکری سے پھر سے یہ سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔ عذاب کا یہ سلسلہ قیامت کے روز دن بھر جاری رہے گا اور وہ دن بھی پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ یہاں تک کہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور یہ طے ہو جائے گا اسے جنت مبں جانا ہے یا جہنم میں۔
4- گھوڑا پالنے والا۔ دراصل گھوڑے تین طرح کے ہوا کرتے ہیں :
1- ایسا گھوڑا جو مالک کے لیے گناہ کا باعث ہو۔ اس سے مراد ایسا گھوڑا ہے، جسے نام و نمود، فخر اور اہل اسلام سے جنگ کے لیے پالا جائے۔
2- ایسا گھوڑا جو انسان کے لیے پردے کا باعث ہو۔ اس سے مراد ایسا گھوڑا ہے، جسے اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے رکھا جائے اور پھر اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہوئے اسے کھلانے پلانے اور اس کی دیکھ بھال کا بہتر انتظام کیا جائے۔
3- ایسا گھوڑا جو اجر و ثواب کا باعث ہو۔ اس سے مراد ایسا گھوڑا ہے، جسے مسلمانوں کی خاطر اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے رکھا جائے۔ یہ جب کسی چراگاہ یا باغ میں ہوتے ہيں، تو وہ اس چراگاہ یا باغ میں جو کچھ بھی کھاتے ہیں ان کے کھانے کے بقدر اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ان کی لید اور پیشاب کے بقدر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اگر وہ اپنی رسی توڑ کر ایک ٹیلے یا دو ٹیلوں پر دوڑ کر چڑھ جائیں، تو ان کے پاؤں کے نشانات کے بقدر اور اس دوران گرنے والی لید پر بھی اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔ اگر ان کا مالک انہیں کسی نہر پر لے جائے اور وہ اس میں سے پانی پی لیں، حالاں کہ اس کا انہیں پانی پلانے کا ارادہ نہ بھی ہو، تب بھی وہ جتنا پانی پیتے ہیں، اس کے بقدر الله تعالى اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔
اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے گدھوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا گدھے بھی گھوڑوں کے حکم میں ہيں؟
تو آپ نے جواب دیا کہ گدھوں کے بارے میں مجھ پر کوئی مخصوص حکم نازل نہیں ہوا ہے، تاہم یہ منفرد اور جامع آیت موجود ہے، جس کے دائرے میں ہر طرح کی نیکیاں اور گناہ آ جاتے ہیں : [فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ] (الزلزلہ:7-8) (ترجمہ: پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی، وه اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی، وه اسے دیکھ لے گا۔) یعنی جس نے اچھے ارادے سے گدھا پالا ہوگا، وہ اس کا ثواب سامنے دیکھے گا اور جو برے ارادے سے پالا ہوگا، اس کی سزا بھی سامنے دیکھے گا۔ اس آیت کی وسعتوں میں تمام اعمال داخل ہیں۔
فوائد
زکاۃ دینا واجب ہے۔ اسے روکنے والے کے بارے میں بڑی سخت وعید آئی ہے۔
سستی کی وجہ سے زکاۃ نہ دینے والا کافر تو نہيں ہے، لیکن وہ بڑے خطرے کے دہانے پر ہوتا ہے۔
انسان جب کوئی نیکی کا کام کرتا ہے، تو اس کی جزئیات کا بھی اسے ثواب ملتا ہے، جب اصل نيكى كى نيت كرلی ہو، گرچہ ان جزئیات وتفصیلات کى اس نے نیت نہ کى ہو۔
مال میں زکاۃ کے علاوہ اور بھی حقوق ہوتے ہيں۔
اونٹ کا ایک حق یہ ہے کہ جب اسے پانی پلانے کے لیے گھاٹ میں لے جایا جائے، تو وہاں موجود غریبوں کو بھی اس کا دودھ دوہ کر پلایا جائے۔ تاکہ ضرورت مندوں کے لیے آسانی ہو جائے کہ ان کو گھر گھر نہ جانا پڑے اور جانور کو بھی سہولت ہو۔ ابن بطال کہتے ہیں: مال پر دو طرح کے حق عائد ہوتے ہیں : ایک فرض عین اور دوسرا اس کے سوا۔ سو مسکینوں کو دودھ پلانے کا شمار ان حقوق میں ہوگا، جو مکارم اخلاق سے تعلق رکھتے ہیں۔
اونٹ، بیل اور بکری کا ایک ضروری حق یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی مادہ جانور کو گابھن کرنے کے لیے چھوڑنے کو کہا جائے، تو چھوڑ دیا جائے۔
گدھوں اور ان تمام چیزوں کا، جن کے بارے میں کوئی نص موجود نہ ہو، حکم یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کے اس قول کے عموم میں داخل ہیں : (فمن يعمل مِثقال ذرة خيرًا يَره، ومن يعمل مِثقال ذرة شرًا يره)۔
اس آیت میں نیک کام کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو اور برا کام کرنے سے ڈرایا گیا ہے، خواہ معمولی ہی کیوں نہ ہو۔
حوالہ
صحيح البخاري (6/ 175) (4962).
صحيح مسلم (2/ 680) (987).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين.
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 350).
نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (2/ 862).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 253).
تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان، لعبد الرحمن آل سعدي (ص335).
فتح الباري شرح صحيح البخاري، لابن حجر (3/ 268).
شرح الزرقاني على موطأ مالك، لمحمد الزرقاني (2/ 164).
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (4/ 1262).
عَنْ عَبْدِ اللهِ بنِ عُمَر رضي الله عنهما قال: قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: «بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ».
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسلام کو پانچ ارکان پر کھڑی ایک عمارت کے مشابہ قرار دیا ہے۔ اسلام کے باقی کام اس عمارت کے تتمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان پانچ ارکان میں سے پہلا رکن اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہيں۔ یہ دونوں گواہیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ایک ہی رکن کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بندہ ان کو اپنی زبان سے، اللہ کے ایک ہونے اور بس اسی کے عبادت کا حق دار ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے، ان کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے، محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے رسول ہونے کا یقین رکھتے ہوئے اور آپ کا اتباع کرتے ہوئے، ادا کرے گا۔ دوسرا رکن نماز قائم کرنا ہے۔ دن اور رات میں پانچ فرض نمازیں ہيں۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔ ان پانچ نمازوں کو ان کی شرطوں، ارکان اور واجبات کے ساتھ ادا کیا جائے گا۔ تیسرا رکن فرض زکاۃ دینا ہے۔ دراصل زکاۃ ایک مالی عبادت ہے، جو شریعت کی جانب سے مال کی ایک متعینہ مقدار پر واجب ہوتی ہے اور جسے اس کے حق داروں کو دیا جاتا ہے۔ چوتھا رکن حج ہے۔ حج در اصل اللہ کی عبادت کے طور پر مناسک کی ادائیگی کے لیے مکہ کا قصد کرنے کا نام ہے۔ پانچواں رکن رمضان مہینے کے روزے رکھنا ہے۔ روزہ نام ہے کھانے، پینے اور دیگر روزہ توڑنے والی چیزوں سے فجر طلوع ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک اللہ کی عبادت کی نیت سے رکے رہنے کا۔
فوائد
دونوں گواہیاں ایک دوسرے کے ساتھ لازمی طور پر جڑی ہوئی ہيں۔ ان میں سے ایک کو چھوڑ دیا جائے، تو دوسری صحیح نہیں ہوگی۔ اسی لیے دونوں کو ایک رکن بنایا گیا ہے۔
یہ دونوں گواہیاں دین کی بنیاد ہیں۔ ان کے بغیر کوئی قول اور عمل قبول نہیں ہوگا۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 11) (8)، صحيح مسلم (1/ 45) (16)، و(1/ 88) (82)، فتح الباري لابن رجب (1/ 22)، جامع العلوم والحكم (1/147)، شرح الأربعين لابن العطّار (ص 62)، شرح الأربعين النووية لعبد الكريم الخضير (ص 87)، فتح القوي المتين في شرح الأربعين للعباد (ص 29)، شرح الأربعين النووية لصالح آل الشيخ (ص 91 - 95)، التحفة الربانية لإسماعيل الأنصاري (ص 12).
عن أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رضي الله عنه قال: بينما نحن جلوس مع النبي صلى الله عليه وسلم في المسجد دخل رجل على جمل، فأناخه في المسجد ثم عقله، ثم قال لهم: أيكم محمد؟ والنبي صلى الله عليه وسلم متكئ بين ظهرانيهم، فقلنا: هذا الرجل الأبيض المتكئ. فقال له الرجل: يا ابن عبد المطلب فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: «قد أجبتك». فقال الرجل للنبي صلى الله عليه وسلم: إني سائلك فمشدد عليك في المسألة، فلا تجد علي في نفسك؟ فقال: «سل عما بدا لك» فقال: أسألك بربك ورب من قبلك، آلله أرسلك إلى الناس كلهم؟ فقال: «اللهم نعم». قال: أنشدك بالله، آلله أمرك أن نصلي الصلوات الخمس في اليوم والليلة؟ قال: «اللهم نعم». قال: أنشدك بالله، آلله أمرك أن نصوم هذا الشهر من السنة؟ قال: «اللهم نعم». قال: أنشدك بالله، آلله أمرك أن تأخذ هذه الصدقة من أغنيائنا فتقسمها على فقرائنا؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «اللهم نعم». فقال الرجل: آمنت بما جئت به، وأنا رسول من ورائي من قومي، وأنا ضمام بن ثعلبة أخو بني سعد بن بكر.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : ایک مرتبہ ہم مسجد میں نبیﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک اونٹ سوار آیا اور اپنے اونٹ کو مسجد میں بٹھا کر باندھ دیا۔ پھر پوچھنے لگا: تم میں محمد (ﷺ) کون ہیں؟ نبی ﷺ اس وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا: یہ سفید رنگ والے تکیہ لگائے بیٹھے شخص۔ چنانچہ وہ آپ سے کہنے لگا: اے فرزند عبدالمطلب! نبیﷺ نے فرمایا: ’’(پوچھ) میں تجھے جواب دیتا ہوں۔‘‘ اس نے نبیﷺ سے کہا: میں آپ سے کچھ دریافت کرنے والا ہوں اور اس میں سختی کروں گا، آپ دل میں مجھ پر ناراض نہ ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’(کوئی بات نہیں) جو چاہے پوچھ!‘‘ اس نے پوچھا: میں آپ کو آپ کے پروردگار اور آپ سے پہلے لوگوں کے مالک کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ پھر اس نے پوچھا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ شاہد ہے۔‘‘ پھر اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے سال بھر میں رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ پھر کہنے لگا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے امیروں سے صدقہ لے کر ہمارے غریبوں پر تقسیم کریں؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ شخص کہنے لگا: میں اس (شریعت) پر ایمان لاتا ہوں جو آپ لائے ہیں۔ میں اپنی قوم کا نمائندہ بن کر حاضر خدمت ہوا ہوں۔ میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے اور قبیلہ سعد بن بکر سے تعلق رکھتا ہوں۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: دریں اثنا کہ صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص اونٹ پر سوار ہوکر داخل ہوا اور اونٹ کو بٹھاکر باندھ دیا۔ پھر صحابۂ کرام سے دریافت کیا: تم میں محمد کون ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے درمیان تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا: یہ سفید رنگ والے شخص جو ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔ آپ سے اس شخص نے عرض کیا: اے عبد المطلب کے فرزند! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے کہا: میں نے تمہاری بات سن لی۔ سوال کرو میں جواب دوں گا۔ اس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں آپ سے کچھ سوالات کرنے والا ہوں اور سوال کرنے میں سخت لہجہ اختیار کروں گا۔ اس لیے آپ دل میں مجھ سے ناراض نہ ہوں۔ یعنی آپ مجھ پر غصہ نہ کریں اور نہ میرے سوال سے تنگ ہوں۔ آپ نے عرض کیا: جو چاہے پوچھو۔ اس نے کہا: میں آپ کو آپ کے رب اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا ہے؟ آپ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ پھر اس نے پوچھا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ یعنی فرض نمازیں۔ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ شاہد ہے۔‘‘ پھر اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے سال بھر میں رمضان مہینے کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ پھر کہنے لگا: میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے امیروں سے صدقہ لے کر ہمارے فقیروں پر تقسیم کریں؟ یعنی زکاۃ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ ضمام نے بالآخر اسلام قبول کر لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ وہ اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دیں گے۔ پھر اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضمام بن ثعلبہ ہیں اور قبیلہ سعد بن بکر سے تعلق رکھتے ہیں۔
فوائد
اس حدیث سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تواضع معلوم ہوتا ہے، کیوں کہ وہ شخص آپ (کی سادگی کے سبب) آپ کے درمیان اور صحابہ کے درمیان تفریق نہیں کر سکا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن اخلاق، سائل کا جواب دینے میں آپ کی نرمی وشفقت اور یہ پیغام کہ جواب دینے کا طریقہ اگر اچھا ہو تو یہ دعوت کی قبولیت کا سبب بنتا ہے۔
سفید اور سرخ رنگ اور لمبے اور چھوٹے قد اور اس طرح کے دیگر ایسے اوصاف بیان کرکے انسان کی شناخت کرنا جائز ہے، جن سے عیب جوئی مقصود نہ ہو، بشرطے کہ ایسا اس انسان پر ناگوار نہ گزرے۔
ضرورت کے پیش نظر کافر کا مسجد میں داخل ہونا جائز ہے۔
اس حدیث میں حج کا ذکر نہیں آیا ہے، کیوں کہ ممکن ہے کہ اس وقت تک حج فرض نہ ہوا ہو۔
صحابۂ کرام کے اندر لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کی شدید تڑپ پائی جاتی تھی۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ شخص اسلام لاتے ہی اپنی قوم کو دعوت دینے کی فکر کرنے لگا۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 23) (63)، صحيح مسلم (1/ 41) (12)، شرح ابن بطال (1/145)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري (2/ 22).
ابو عبدالرحمن عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہےدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسلام کو پانچ ارکان پر کھڑی ایک عمارت کے مشابہ قرار دیا ہے۔ اسلام کے باقی کام اس عمارت کے تتمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان پانچ ارکان میں سے پہلا رکن اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہيں۔ یہ دونوں گواہیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ایک ہی رکن کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بندہ ان کو اپنی زبان سے، اللہ کے ایک ہونے اور بس اسی کے عبادت کا حق دار ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے، ان کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے، محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے رسول ہونے کا یقین رکھتے ہوئے اور آپ کا اتباع کرتے ہوئے، ادا کرے گا۔ دوسرا رکن نماز قائم کرنا ہے۔ دن اور رات میں پانچ فرض نمازیں ہيں۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔ ان پانچ نمازوں کو ان کی شرطوں، ارکان اور واجبات کے ساتھ ادا کیا جائے گا۔ تیسرا رکن فرض زکاۃ دینا ہے۔ دراصل زکاۃ ایک مالی عبادت ہے، جو شریعت کی جانب سے مال کی ایک متعینہ مقدار پر واجب ہوتی ہے اور جسے اس کے حق داروں کو دیا جاتا ہے۔ چوتھا رکن حج ہے۔ حج در اصل اللہ کی عبادت کے طور پر مناسک کی ادائیگی کے لیے مکہ کا قصد کرنے کا نام ہے۔ پانچواں رکن رمضان مہینے کے روزے رکھنا ہے۔ روزہ نام ہے کھانے، پینے اور دیگر روزہ توڑنے والی چیزوں سے فجر طلوع ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک اللہ کی عبادت کی نیت سے رکے رہنے کا۔
فوائد
دونوں گواہیاں ایک دوسرے کے ساتھ لازمی طور پر جڑی ہوئی ہيں۔ ان میں سے ایک کو چھوڑ دیا جائے، تو دوسری صحیح نہیں ہوگی۔ اسی لیے دونوں کو ایک رکن بنایا گیا ہے۔
یہ دونوں گواہیاں دین کی بنیاد ہیں۔ ان کے بغیر کوئی قول اور عمل قبول نہیں ہوگا۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 11) (8).
صحيح مسلم (1/ 45) (16)، و(1/ 88) (82).
فتح الباري لابن رجب (1/ 22).
جامع العلوم والحكم (1/147).
شرح الأربعين لابن العطّار (ص 62).
شرح الأربعين النووية لعبد الكريم الخضير (ص 87).
فتح القوي المتين في شرح الأربعين للعباد (ص 29).
شرح الأربعين النووية لصالح آل الشيخ (ص 91 - 95).
التحفة الربانية لإسماعيل الأنصاري (ص 12).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com