عن عمران بن حصين رضي الله عنه قال: كَانَتْ بِي بَوَاسِيرُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: «صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ».
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہيں کہ مجھے بواسیر تھا۔ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے کہا : "کھڑے ہوکر نماز پڑھو۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو، تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو، تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو۔"
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اصل یہ ہے کہ نماز کھڑے ہوکر پڑھی جائے۔ ہاں! اگر کھڑے ہوکر نماز پڑھنا ممکن نہ ہو، تو بیٹھ کر پڑھی جائے اور اگر بیٹھ کر پڑھنا بھی ممکن نہ ہو، تو پہلو کو بل لیٹ کر پڑھی جائے۔
فوائد
- ہوش و حواس میں رہتے ہوئے نماز معاف نہيں ہے۔ یہ اور بات ہے کہ استطاعت کے مطابق ایک حالت کی بجائے دوسری حالت میں پڑھنی ہوتی ہے۔
- اسلام ایک کشادہ اور آسان مذہب ہے، جس نے بندے کو اپنی استطاعت کے مطابق عبادت کرنے کی سہولت دی ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (2/ 48) (1117). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبدالله البسام (2/ 322). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (3/ 202).