سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

رسول اللہ ﷺ کو میں نے چہار زانوں ہو کر نماز پڑھتے ہو‎ۓ دیکھا۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلِّي متربِّعًا.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول الله ﷺ کو میں نے چہار زانوں ہو کر نماز پڑھتے ہوۓ دیکھا۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

تربُّع یہ ہے کہ نمازی اپنے دائیں پاؤں کے نچلے حصے کو بائیں ران تلے اور بائیں قدم کے نچلے حصے کو دائیں ران تلے رکھ کر سرین کے بل بیٹھ جائے۔ نبی ﷺ ایسے اس وقت بیٹھا کرتے تھے جب گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے آپ ﷺ کے پاؤں کا جوڑ نکل گیا تھا۔ جب نمازی فرض نماز میں قیام نہ کر سکتا ہو تو اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ چار زانوں بیٹھ کر نماز پڑھے۔ یہ اس وقت ہے جب وہ قیام کی جگہ بیٹھے۔ لیکن اگر یہ بیٹھنا دونوں سجدوں کے درمیان ہو یا قعدۂ تشہد کے لیے ہو، تو اس صورت میں مستحب یہ ہے کہ پہلے تشہد میں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھے اور دوسرے تشہد میں تورک کرے۔ ان تمام صورتوں کا تعلق استحباب اور افضیلت سے ہے۔ اگر نمازی سابق الذکر حالتوں کے علاوہ کسی اور حالت میں بیٹھ گیا تو تب بھی درست ہے۔ کیوںکہ نماز میں مطلوب تشہد کے لیے بیٹھنا ہے اوربیٹھنے کی یہ تمام صورتیں واجب سے زائد چیزیں ہیں۔

حوالہ

السنن الكبرى، تأليف: أحمد بن شعيب النسائي، تحقيق: حسن عبد المنعم شلبي، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421 هـ أصل صفة صلاة النبي تأليف : محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع – الرياض الطبعة: الأولى 1427 هـ - 2006 م سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف : محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 ه _ 2006 م

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
شرعی عذر والوں کی نماز

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com