سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میری یہ خمیصہ (چادر) ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور ان کی انبجانیہ (سادی چادر) لے آؤ، کیونکہ اس چادر نے ابھی نماز سے مجھ کو غافل کر دیا۔

عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم صلَّى في خَمِيصَةٍ لها أعْلَام، فَنَظَر إلى أَعْلاَمِهَا نَظْرَةً، فلمَّا انْصَرف قال: «اذهبوا بِخَمِيصَتِي هذه إلى أبي جَهْم وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةِ أبي جَهْم؛ فإنها أَلْهَتْنِي آنِفًا عن صَلاتي» وفي رواية: «كنت أنظر إلى عَلَمِها، وأنا في الصلاة؛ فأخاف أن تَفْتِنَنِي».
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک چادر میں نماز پڑھی۔ جس میں نقش و نگار تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں ایک مرتبہ دیکھا۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ میری یہ چادر ابوجہم (عامر بن حذیفہ) کے پاس لے جاؤ اور ان کی سادی چادر لے آؤ، کیونکہ اس چادر نے ابھی نماز سے مجھ کو غافل کر دیا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نماز میں اس کے نقش و نگار کو دیکھ رہا تھا، پس میں ڈرا کہ کہیں یہ مجھے غافل نہ کر دے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ابو جہم نے آپ ﷺ کو ایک چادر ہدیہ کی تھی، اس میں مختلف رنگ اور نقوش تھے، آپ کے اچھے اخلاق میں سے یہ ہے کہ آپ ہدیہ دینے والے کی خوشى كے خاطر ہدیہ قبول کیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے اسے قبول کرکے اس میں نماز پڑھی، لیکن رنگدار اور نقش و نگار والی ہونے کی وجہ سے نماز میں اُس پر آپ ﷺ کی نظر پڑتی تھی جس نے آپ ﷺ کو نماز کی طرف کامل توجہ (مکمل انہماک) سے غافل کردیا۔اسی لیے آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس نقش ونگار والی چادر کو ہدیہ کرنے والے یعنی ابو جہم کو واپس لوٹا دیا جائے۔ ہدیہ واپس کرنے کی وجہ سے ابوجہم کے دل میں کچھ نہ آنے اور ان کے اطمینانِ قلب کی خاطر یہ حکم دیا کہ ابوجہم کی دوسری چادر لے آؤ جس میں مختلف رنگ اور نقش و نگار نہ ہوں۔

حوالہ

صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. فتح الباري شرح صحيح البخاري، زين الدين عبد الرحمن بن رجب البغدادي، تحقيق: محمود بن شعبان بن عبد المقصود ومجدي بن عبد الخالق الشافعي وغيرهم، الناشر: مكتبة الغرباء الأثرية، المدينة النبوية، الحقوق: مكتب تحقيق دار الحرمين، القاهرة الطبعة: الأولى 1417هـ، 1996م. فتح الباري شرح صحيح البخاري، أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، رقمه وبوب أحاديثه: محمد فؤاد عبد الباقي، دار المعرفة، بيروت، الطبعة: 1379هـ. سبل السلام، محمد بن إسماعيل الصنعاني، دار الحديث، الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة 1423هـ، 2003م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، اعتنى بإخراجه عبدالسلام بن عبد الله السليمان، الرسالة، بيروت، الطبعة: الأولى 1427هـ، 2006م. فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، محمد بن صالح العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأم إسراء بنت عرفة، المكتبة الإسلامية، الطبعة: الأولى 1427هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ، 2006م. منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، حمزة محمد قاسم، راجعه: عبد القادر الأرناؤوط، عني بتصحيحه ونشره: بشير محمد عيون، الناشر: مكتبة دار البيان، دمشق، مكتبة المؤيد، الطائف، الطبعة: 1410هـ، 1990م. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ، 1988م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نماز کی سنتیں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com