سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میرے سامنے سے اپنا یہ پردہ ہٹا دو۔ کیوںکہ اس پر نقش شدہ تصاویر برابر میری نماز میں خلل انداز ہوتی رہی ہیں۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كان قِرَام لعائشة سَترت به جانب بَيتها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «أَمِيطِي عنَّا قِرَامَكِ هذا، فإنه لا تَزال تصاوِيُره تَعْرِض في صلاتي».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک رنگین باریک پردہ تھا، جسے انھوں نے اپنے گھر کے ایک حصے میں بطور پردہ لٹکا دیا تھا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے سامنے سے اپنا یہ پردہ ہٹا دو۔ کیوںکہ اس پر نقش شدہ تصاویر برابر میری نماز میں خلل انداز ہوتی رہی ہیں“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک باریک اونی کپڑا تھا، جو مختلف رنگ اور نقش ونگار والا تھا، اس کے ذریعے عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرے کے سوراخ کو بند کردیتی تھی، آپ ﷺ نے اسے ہٹانے کا حکم دیا اور اس کا سبب بھی بیان فرمایا کہ نماز کے دوران اس کے نقوش اور رنگ مسلسل سامنے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے آپ کو خوف ہوا کہ کہیں یہ نماز میں کامل توجہ، اس کے اذکار میں غور وفکر، اس کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور اطاعت جیسے مقاصد سے غافل نہ کردے۔

حوالہ

صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ 2006م. فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نماز کی سنتیں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com