سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جب تم میں سے کوئی نماز ادا کرے، تو وہ اپنی نماز کے لیے سترہ رکھ لے؛ اگرچہ تیر ہی سہی۔

عن سَبْرة بن معبد الجهني رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا صلى أحدكم، فليسْتَتِر لصلاته، ولو بسهم».
سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز ادا کرے، تو اپنی نماز کے لیے سترہ رکھ لے؛ اگرچہ تیر ہی سہی“۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازی کے لیے اپنے سامنے سترہ رکھنا مستحب ہے اور سترہ ہر اس چیز کو بنایا جا سکتا ہے، جسے نمازی اپنے سامنے نصب کر سکے؛ اگرچہ وہ تیر کی جیسی چھوٹی یا باریک چیز ہی کیوں نہ ہو۔ یہ شریعت کی آسانی دریا دلی کے مظاہر میں سے ایک مظہر ہے۔

حوالہ

مسند أحمد بن حنبل، لأبي عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل، تحقيق أبو المعاطي النوري، عالم الكتب. سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها, أبو عبد الرحمن محمد ناصر الدين الألباني, مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض, الطبعة: الأولى، (لمكتبة المعارف)، عام النشر: 1415 هـ - 1995. توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبدالله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة ، ط الخامسة 1423هـ . منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف عبد الله بن صالح الفوزان، ط 1، 1427هـ، دار ابن الجوزي، الرياض.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نماز کی سنتیں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com