سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ہم نماز پڑھتے اور چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے تھے۔ ہم نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کجاوے کی پچھلی لکڑی کے مثل اگر کوئی چیز تمھارے آگے ہو، تو کوئی بھی آگے سے گزرے، نمازی کو کچھ نقصان نہ ہو گا۔

عن طلحة بن عبيد الله رضي الله عنه قال: كنَّا نصلِّي والدواب تمرُّ بين أيدينا فذكرنا ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ تكون بين يدي أحدكم، ثم لا يضُرُّه ما مر بين يديه».
طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے اور چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے تھے۔ ہم نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کجاوے کی پچھلی لکڑی کے مثل اگر کوئی چیز تمھارے آگے ہو، تو کوئی بھی آگے سے گزرے، نمازی کو کچھ نقصان نہ ہو گا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (صحابۂ کرام) نماز پڑھتے تو (بسا اوقات) چوپائے ان کے سامنے سے گزر جاتے۔ انھوں نے اس کا تذکرہ نبی ﷺ سے کیا، تو اللہ کے نبی ﷺ نے انھیں بتایا کہ نمازی اور اس کے سامنے سے گزرنے والے کے درمیان کجاوے کے پچھلی لکڑی کے مثل کوئی چیز ہو، تو اس کا گزرنا نقصان دہ نہیں ہے۔ سترہ کے فوائد میں سے نماز کی صیانت و حفاظت، اسے نقصان و کمی سے بچانا، گزرنے والے کو گناہ سے بچانا اور اس سبب کو دور کرنا ہے، جو اسے مشقت و پریشانی میں ڈالے۔۔

حوالہ

صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت. توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبدالله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة ، ط الخامسة 1423هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، ط 1، 1427هـ، دار ابن الجوزي.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نماز کی سنتیں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com