سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، وہ جس طرف بھی آپ کو لیے پھرتی۔ لیکن جب فرض (نماز پڑھنے) کا ارادہ کرتے تو سواری سے اتر پڑتے اور قبلہ کی طرف منہ کرلیتے۔

عن جابر رضي الله عنه قال: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يُصلِّي على راحِلَته، حيث تَوَجَّهَت فإذا أراد الفَرِيضة نَزل فاسْتَقبل القِبْلة».
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، وہ جس طرف بھی آپ کو لیے پھرتی۔ لیکن جب فرض (نماز پڑھنے) کا ارادہ کرتے تو سواری سے اتر پڑتے اور قبلہ کی طرف منہ کرلیتے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ اپنی سواری کے اوپر سے اترنے کی زحمت نہیں کرتے تھے بلکہ اسی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ لیکن ایسا اس وقت کرتے جب آپ ﷺ سفر میں ہوتے تھے۔ اس بات کی تائید ابن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ کی روایت کردہ حدیث سے ہوتی ہے کہ نبی ﷺ سفر میں اپنی سواری ہی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے جس طرف بھی وہ آپ کو لے کر چلتی۔ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ چنانچہ جب آپ ﷺ اپنی سواری پر ہوتے تھے تو اسی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھےاس کا رخ چاہے جس طرف بھی ہوتا، چاہے اس کا رخ قبلہ کی طرف ہوتا یا قبلہ کے علاوہ کی طرف۔لیکن جب فرض نماز ہوتی،اور وہ پانچ نمازیں ہیں تو آپ ﷺ اپنی سواری سے نیچے اترتے اور زمین پر قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں ہے کہ: ”آپ ﷺ ایسا، (یعنی سواری پر نماز ادا کرنا)، فرض نماز میں نہیں کیا کرتے تھے“۔ (متفق علیہ) لہٰذا فرض نماز کے لیے ضروری ہے کہ اسے زمین پر ادا کیا جائے، الا یہ کہ کوئی شرعی عذر جیسے بارش یا دشمن کا خوف ہو، تو ایسی صورت میں کوئی حرج نہیں کہ وہ اپنی سواری ہی پر فرض نماز ادا کر لے یا پھر مریض ہونے کی صورت میں اپنی چارپائی ہی پر نماز پڑھ لے، خصوصاً اس وقت جب نماز کا وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو۔ اس کی تائید ان دلائل سے ہوتی ہے جن میں آسانی اور سہولت پیدا کرنے اور اس امت سے تنگی دور کرنے کا بیان ہے۔ انہی دلائل میں سے ایک دلیل اللہ تعالی کا یہ قول ہے کہ: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ ”اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا“، اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: ”جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو مقدور بھر اسے انجام دو“۔

حوالہ

صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ ـ 2006 م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة. سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نماز کے شرائط

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com