حدیث کا مفہوم: ”مشرق و مغرب کے مابین ہے جو کچھ ہے وہ قبلہ ہے“ اس حدیث میں آپ ﷺ یہ بیان فرما رہے ہیں کہ مشرق و مغرب کی جہت کے ما بین نمازیوں کے لیے قبلہ ہے۔ یہ خطاب اہلِ مدینہ اور جو ان سے موافقت رکھتے ہیں ان سے ہے، کیوں کہ وہ کعبہ سے شمالی جانب واقع ہے۔ تو اہل مدینہ اور ان کے اردگرد اہل شام وغیرہ کی مناسبت سے یہ جہت ان کے لیے قبلہ ہے۔ شمال والے مشرق و مغرب کے مابین کے طرف قبلہ رو ہوں گے۔ یعنی کعبہ کی مناسبت سے ان کے رخ جنوب کی طرف ہوں گے جب کہ یمن اور اس سے ملحقہ جنوبی علاقے والے شمال کی طرف مشرق و مغرب کے مابین رُخ کریں گے ۔جب کہ اہل مشرق ومغرب کے اعتبار سے ان کا قبلہ شمال و جنوب کے مابین ہوگا ہے۔ اس لیے کہ اصلجہتیں چار ہوتی ہیں: شمال، جنوب، مشرق اور مغرب۔ جب نمازی کعبہ سے مشرق یا مغرب کی سمت میں ہو گا تو اس کا قبلہ شمال و جنوب کے مابین ہوگا اور اگر کعبہ سے شمال اور جنوب کی طرف ہو گا تو اس کا قبلہ مشرق و مغرب کے مابین ہو گا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے بندوں پر آسانی ہے کیوں کہ اگر وہ ان سے عین کعبہ کی طرف منہ کرنے کا تقاضا کرتا تو کسی ایک کی بھی نماز درست نہ ہوتی۔ لہذا دور رہنے والوں اور دکھائی نہ دینے والوں کے لیے قبلہ سے تھوڑا انحراف کرنا غیر موثر مانا گیا، اِلاّ یہ کہ وہ کعبہ سے گھوم جائے، یا اسے پشت کی طرف کرلے، تو ایسی صورت میں اس کا (یہ نماز پڑھنا)صحیح نہ ہوگا۔
سنن الترمذي، تأليف: محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق أحمد شاكر وغيره، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، الطبعة: الثانية، 1395 هـ سنن ابن ماجه، تأليف: محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: الناشر: دار إحياء الكتب العربية. مشكاة المصابيح، تأليف: محمد بن عبد الله، التبريزي، تحقيق: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي، الطبعة: الثالثة، 1985م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ _ 2006 م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة.