الله ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھرے، انہوں نے ہمیں درمیانی نماز (یعنی نماز عصر) نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔
عن عَلِي بن أبي طالب رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: «مَلَأ اللهُ قُبُورَهم وبُيُوتَهُم نَارًا، كَمَا شَغَلُونَا عن الصَّلاَة الوُسْطَى حَتَّى غَابَت الشَّمس».
وفي لفظ لمسلم: «شَغَلُونَا عن الصَّلاَة الوُسْطَى -صلاة العصر-»، ثم صَلاَّهَا بين المغرب والعشاء».
وله عن عبد الله بن مسعود قال: «حَبَسَ المُشرِكُون رسول الله صلى الله عليه وسلم عن العصر، حَتَّى احْمَرَّت الشَّمسُ أو اصْفَرَّت، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : شَغَلُونَا عن الصَّلاَة الوُسْطَى -صلاة العصر-، مَلَأَ الله أَجْوَافَهُم وقُبُورَهم نَارًا (أَو حَشَا الله أَجْوَافَهُم وَقُبُورَهُم نَارًا)».
علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”الله ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھرے، انہوں نے ہمیں درمیانی نماز (یعنی نماز عصر) نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا“۔
مسلم شریف کے الفاظ یہ ہیں: ”انہوں نے ہمیں درمیانی نماز یعنی نماز عصر پڑھنے سے روکے رکھا“۔ پھر آپ ﷺ نے اس نماز کو نماز مغرب اور نماز عشاء کے درمیان پڑھا۔
امام مسلم عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کو مشرکوں نے (جنگ میں مصروفیت کی وجہ سے) نماز عصر پڑھنے سے روکے رکھا یہاں تک سورج سرخ ہو گیا یا زرد ہو گیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہوں نے ہمیں درمیانی نماز یعنی نماز عصر پڑھنے سے روکے رکھا، اللہ ان کے پیٹ اور قبروں کو آگ سے بھرے۔ یا پھر اس کے بجائے یہ الفاظ فرمائے ”أَو حَشَا الله أَجْوَافَهُم وَقُبُورَهُم نَارًا“ یا اللہ تعالی ان کے پیٹ اور قبر میں آگ بھر دے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
مشرکوں نے نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سرحدوں پر مقیم رہنے اور مدینہ اور اپنی حفاظت کرنے میں لگائے رکھا جس کی وجہ سے وہ نماز عصر نہ پڑھ سکے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ نے یہ نمازِ عصر، مغرب کے بعد ادا کی۔ اس پر نبی ﷺ نے انہیں بد دعا دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ ان کے پیٹ، ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھرے۔ انہوں نے آپ ﷺ کو اور آپ کے صحابہ کو جو تکلیف پہنچائی ہے اس کا انہیں بدلہ دے۔ انہوں نے انہیں نمازِ عصر نہ پڑھنے دی جو سب سے افضل نماز ہے۔
حوالہ
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل بن محمد الأنصاري، دار الفكر، دمشق، الطبعة: الأولى 1381هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ، 1988م.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com