سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نماز کی فضیلت

17 احادیث

کون سا عمل اللہ کے نزدیک سب سے محبوب ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: "وقت پر نماز پڑھنا۔" انھوں نے پوچھا کہ پھر کون سا؟ تو آپ نے جواب دیا: "والدین کی فرماں برداری کرنا۔" انھوں نے پوچھا کہ پھر کون سا؟ تو آپ نے جواب دیا: "اللہ کے راستے میں جہاد کرنا

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بِن مَسْعُودٍ رضي الله عنه قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ العَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: «الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا»، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ بِرُّ الوَالِدَيْنِ» قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «الجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» قَالَ: حَدَّثَنِي بِهِنَّ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي.
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ کون سا عمل اللہ کے نزدیک سب سے محبوب ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: "وقت پر نماز پڑھنا۔" انھوں نے پوچھا کہ پھر کون سا؟ تو آپ نے جواب دیا: "والدین کی فرماں برداری کرنا۔" انھوں نے پوچھا کہ پھر کون سا؟ تو آپ نے جواب دیا: "اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔" ان کا کہنا ہے کہ آپ نے مجھے ان کاموں کے بارے میں بتایا۔ اگر میں مزید پوچھتا، تو آپ اور بھی بتاتے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ اللہ کے نزدیک کون سا عمل سے سے زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ نے جواب دیا : فرض نماز کو شارع کی جانب سے معتین کیے گئے اوقات میں پڑھنا۔ پھر والدین کی فرماں برداری کرنا، بایں طور کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے، ان کے حقوق ادا کیے جائيں اور ان کی نافرمانی سے بچا جائے۔ پھر اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، تاکہ اللہ کے کلمہ کو سربلند کیا جا سکے، اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کیا جا سکے اور اسلامی شعائر کا اظہار ہو سکے۔ جہاد نفس اور مال دونوں سے ہوتا ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان اعمال کے بارے میں بتایا۔ اگر میں اس سے آگے پوچھتا، تو آپ آگے بھی بتاتے۔

فوائد
  1. اعمال کی فضیلت میں اس ناحیے سے کمی بیشی ہوتی ہے کہ کون سا عمل اللہ کو کتنا محبوب ہے۔
  2. مسلمان کو اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اعمال کا، ان کی فضیلت کی ترتیب کو مدنظر کو رکھتے حریص رہے۔
  3. سب سے اچھا عمل کیا ہے، اس سوال کے جواب میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے الگ الگ باتیں اشخاص اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے کہی ہيں۔ جس کے لیے جو عمل زیادہ مفید تھا، اس کے لیے اسے سب سے اچھا عمل بتایا۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 112) (527). صحيح مسلم (1/ 90) (85). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 70). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص84). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 108).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”منافقوں پر سب سے بھاری نماز عشا اور فجر کی نماز ہے اور اگر انھیں ان نمازوں کے ثواب کا اندازہ ہو جائے، تو گھٹنوں کے بل چل کر آئيں

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌إِنَّ ‌أَثْقَلَ صَلَاةٍ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَصَلَاةُ الْفَجْرِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ”منافقوں پر سب سے بھاری نماز عشا اور فجر کی نماز ہے اور اگر انھیں ان نمازوں کے ثواب کا اندازہ ہو جائے، تو گھٹنوں کے بل چل کر آئيں۔ میں نے تو (ایک بار) ارادہ کر لیا تھا کہ کسی کو نماز پڑھانے کا حکم دوں اور وہ نماز پڑھائے، پھر کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر، جو لکڑی کے گٹھر لیے ہوئے ہوں، ایسے لوگوں کے یہاں جاؤں، جو نماز کے لیے نہيں آتے اور ان کو ان کے گھروں کے ساتھ جلا ڈالوں۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم منافقوں کے بارے میں اور نماز میں، بالخصوص عشا اور فجر کی نماز میں ان کی سستی کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ آپ یہ بھی بتا رہے ہیں کہ اگر منافقوں کو پتہ ہو جائے کہ ان دونوں نمازوں کو جماعت ميں شامل ہوکر مسلمانوں کے ساتھ ادا کرنے سے کتنا بڑا اجر و ثواب ملتا ہے، تو وہ اسی طرح گھٹنوں اور ہاتھوں کے بل چل کر ان دونوں نمازوں ميں شریک ہوں، جس طرح بچے چلنا سیکھنے سے پہلے گھٹنوں اور ہاتھوں کے بل آگے بڑھتے ہیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بار اس بات کا ارادہ کر لیا تھا کہ کسی کو اپنی جگہ پر نماز پڑھانے کا حکم دے دیں، پھر کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر، جو لکڑیوں کے گٹھر لیے ہوئے ہوں، ان لوگوں کے پاس جائیں، جو جماعت میں شامل ہوکر نماز پڑھنے کے لیے مسجد نہیں آتے اور ان کے سمیت ان کے گھروں کو جلا ڈالیں۔ کیوں کہ انھوں نے جماعت میں شامل نہ ہو کر جو گناہ کیا ہے، وہ بہت بڑا ہے۔ لیکن آپ نے ایسا نہيں کیا، کیوں کہ گھروں میں معصوم عورتیں، بچے اور معذور لوگ بھی ہوتے ہیں، جن کا کوئی گناہ نہیں ہے۔

فوائد
  1. مسجد میں حاضر ہوکر جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھنا ایک سنگین جرم ہے۔
  2. منافق عبادت محض دکھاوا اور شہرت طلبی کے لیے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسجد اسی وقت جاتے ہیں، جب لوگ دیکھ رہے ہوں۔
  3. عشا و فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے پر زیادہ ثواب ہونا اور ان دونوں نمازوں کا اس لائق ہونا کہ اگر انسان کو گھٹنے کے بل بھی چل کر آنا پڑے، تو آئے۔
  4. عشا اور فجر کی نماز کی پابندی نفاق سے محفوظ ہونے کی نشانی ہے اور ان دونوں نمازوں میں شامل نہ ہونا منافقوں کی صفت ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 451) (651). صحيح البخاري (1/ 132) (657). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 88). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص107). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 136).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کی کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقيقي معبود نہ ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دوں گا، نماز قائم کروں گا، زکوۃ ادا کروں گا اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کروں گا۔

عَنْ جَرِيرِِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رضي الله عنه قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ.
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کی کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقيقي معبود نہ ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دوں گا، نماز قائم کروں گا، زکوۃ ادا کروں گا اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کروں گا۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

صحابی جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ توحید پر قائم رہنے، دن اور رات میں پانچ نمازیں ان کے شروط وارکان، واجبات اور سنن کے ساتھ ادا کرنے، فرض زکاۃ دینے، جو ایک مالی عبادت ہے اور جسے مال داروں سے لے کر حق دار فقیروں وغیرہ میں تقسیم کیا جاتا ہے، حکمرانوں کی بات ماننے اور ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنے کا عہد کیا، اور اس خیر خواہی طریقہ یہ ہے کہ دوسرے کو فیض یاب کرنے کی کوشش کی جائے، اس تک خیر پہنچائی جائے اور قول و فعل کے ذریعے اس سے برائی کو دور رکھا جائے۔

فوائد
  1. نماز اور زکاۃ کی اہمیت۔ دونوں اسلام کے ارکان میں سے ہیں۔
  2. مسلمانوں کے درمیان خیر خواہی کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ سے اس پر بیعت لی۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 111) (524)، (3/ 72) (2157). صحيح مسلم (1/ 75) (56). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 272). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص145). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 398). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 206).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

الله ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھرے، انہوں نے ہمیں درمیانی نماز (یعنی نماز عصر) نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔

عن عَلِي بن أبي طالب رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: «مَلَأ اللهُ قُبُورَهم وبُيُوتَهُم نَارًا، كَمَا شَغَلُونَا عن الصَّلاَة الوُسْطَى حَتَّى غَابَت الشَّمس». وفي لفظ لمسلم: «شَغَلُونَا عن الصَّلاَة الوُسْطَى -صلاة العصر-»، ثم صَلاَّهَا بين المغرب والعشاء». وله عن عبد الله بن مسعود قال: «حَبَسَ المُشرِكُون رسول الله صلى الله عليه وسلم عن العصر، حَتَّى احْمَرَّت الشَّمسُ أو اصْفَرَّت، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : شَغَلُونَا عن الصَّلاَة الوُسْطَى -صلاة العصر-، مَلَأَ الله أَجْوَافَهُم وقُبُورَهم نَارًا (أَو حَشَا الله أَجْوَافَهُم وَقُبُورَهُم نَارًا)».
علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”الله ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھرے، انہوں نے ہمیں درمیانی نماز (یعنی نماز عصر) نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا“۔ مسلم شریف کے الفاظ یہ ہیں: ”انہوں نے ہمیں درمیانی نماز یعنی نماز عصر پڑھنے سے روکے رکھا“۔ پھر آپ ﷺ نے اس نماز کو نماز مغرب اور نماز عشاء کے درمیان پڑھا۔ امام مسلم عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کو مشرکوں نے (جنگ میں مصروفیت کی وجہ سے) نماز عصر پڑھنے سے روکے رکھا یہاں تک سورج سرخ ہو گیا یا زرد ہو گیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہوں نے ہمیں درمیانی نماز یعنی نماز عصر پڑھنے سے روکے رکھا، اللہ ان کے پیٹ اور قبروں کو آگ سے بھرے۔ یا پھر اس کے بجائے یہ الفاظ فرمائے ”أَو حَشَا الله أَجْوَافَهُم وَقُبُورَهُم نَارًا“ یا اللہ تعالی ان کے پیٹ اور قبر میں آگ بھر دے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

مشرکوں نے نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سرحدوں پر مقیم رہنے اور مدینہ اور اپنی حفاظت کرنے میں لگائے رکھا جس کی وجہ سے وہ نماز عصر نہ پڑھ سکے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ نے یہ نمازِ عصر، مغرب کے بعد ادا کی۔ اس پر نبی ﷺ نے انہیں بد دعا دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ ان کے پیٹ، ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھرے۔ انہوں نے آپ ﷺ کو اور آپ کے صحابہ کو جو تکلیف پہنچائی ہے اس کا انہیں بدلہ دے۔ انہوں نے انہیں نمازِ عصر نہ پڑھنے دی جو سب سے افضل نماز ہے۔

حوالہ

الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل بن محمد الأنصاري، دار الفكر، دمشق، الطبعة: الأولى 1381هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ، 1988م. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: لمبے قیام والی نماز۔

وعن جابر رضي الله عنه قال: سُئِل رسول الله صلى الله عليه وسلم أي الصلاة أفضل؟ قال: «طُول القُنُوتِ».
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لمبے قیام والی نماز“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ کون سی نماز سب سے زیادہ فضیلت والی ہے؟۔ یہ سوال اس لئے کیا گیا کیونکہ صحابہ کو اس بات کی چاہت تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کر سکیں۔ اس سے مرادیہ ہے کہ: کس قسم کی نماز افضل ہے؟ یا پھر یہ مراد ہے کہ: نماز کا کون سا عمل افضل ہے؟ قیام کرنا یا رکوع کرنا یا سجدہ کرنا؟۔ چنانچہ آپ ﷺ نے بتایا کہ نماز میں لمبا قیام کرنا افضل عمل ہے۔

حوالہ

رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه . - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبد العزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک اپنے مابین سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے“۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول: «الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ، مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک اپنے مابین سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے“۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بتا رہے ہیں کہ دن اور رات میں فرض پانچ نمازیں، ہر ہفتہ جمعے کی نماز اور ہر سال رمضان مہینے کے روزے، اس دوران کیے گئے چھوٹے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، شرط یہ ہے کہ بڑے گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔ رہی بات بڑے گناہوں جیسے شراب نوشی اور زنا وغیرہ کی، تو یہ توبہ کے بغیر معاف نہيں ہوتے۔

فوائد
  1. گناہوں میں سے کچھ چھوٹے ہوتے ہیں اور کچھ بڑے۔
  2. چھوٹے گناہوں کی معافی کے لیے بڑے گناہوں سے اجتناب شرط ہے۔
  3. بڑے گناہ سے مراد وہ گناہ ہیں، جن کے کرنے پر دنیا میں کوئی حد نافذ ہوتی ہو، یا آخرت سے متعلق عذاب یا اللہ کی ناراضگی کی وعید آئی ہو، یا اس کے کرنے پر کوئی دھمکی دی گئی ہو یا اس کے کرنے والے پر لعنت کی گئی ہو۔ جیسے شراب نوشی اور زنا وغیرہ۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 209) (233). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 183). نزهة المتقين بشرح رياض الصالحين، لمصطفى سعيد الخن (1/ 158). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص108). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم بن عيد الهلالي (1/ 209).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”تو کثرت سے سجدہ کیا کر۔ اس لیے کہ ہر سجدے کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تیرا ایک درجہ بلند کرے گا اور تیرا ایک گناہ معاف کرے گا۔“

عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْخِلُنِي اللهُ بِهِ الْجَنَّةَ؟ أَوْ قَالَ قُلْتُ: بِأَحَبِّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللهِ، فَسَكَتَ. ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَسَكَتَ. ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلَّهِ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً، إِلَّا رَفَعَكَ اللهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً» قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لِي: مِثْلَ مَا قَالَ لِي: ثَوْبَانُ.
مَعدان بن ابی طلحہ یَعمَری سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا کام بتائيں، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھ کو جنت میں داخل کر دے۔ یا پھر یہ کہا کہ مجھے کوئی ایسا کام بتائيں، جو اللہ کو سب سے محبوب ہو۔ یہ سن کر ثوبان رضی اللہ عنہ چپ ہو رہے۔ میں نے ان سے دوبارہ پوچھا، تو پھر چپ رہے۔ تیسری بار پوچھا تو فرمایا : میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ”تو کثرت سے سجدہ کیا کر۔ اس لیے کہ ہر سجدے کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تیرا ایک درجہ بلند کرے گا اور تیرا ایک گناہ معاف کرے گا۔“ مَعدان کہتے ہیں : پھر میں نے ابو دردا سے ملاقات کی اور ان سے بھی یہی سوال کیا، تو انھوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی، جو ثوبان نے کہی تھی۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کوئی ایسا عمل پوچھا گیا، جو جنت میں داخلے کا سبب بن جائے یا پھر جو اللہ کو سب سے محبوب ہو۔ جواب میں آپ نے سائل سے کہا : تم کثرت سے نماز میں سجدے کیا کرو۔ کیوں کہ جب تم اللہ کے لیے ایک سجدہ کروگے، تو اس کےبدلے میں تمھارا مقام ایک درجہ اونچا کر دے گا اور تمھارا ایک گناہ مٹا دے گا۔

فوائد
  1. نماز کى ترغیب خواہ وہ فرض ہویا نفل، کیوں کہ نماز میں سجدے ہوا کرتے ہیں۔
  2. صحابہ اس بات کو سمجھتے اور جانتے تھے کہ جنت میں داخل ہونے کے لیے اللہ کی رحمت کے بعد عمل ضروری ہے۔
  3. نماز کے سجدے درجات کی بلندی اور گناہوں کی مغفرت کا سبب ہیں۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 353) (488). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين. بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (1/ 188). نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (1/ 137). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 105). شرح النووي على مسلم، (4/ 205).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جس نے دو ٹھنڈی نمازیں (فجر و عصر کی نمازیں) ادا کیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔

عن أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ رضي الله عنه: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «مَنْ صَلَّى ‌الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ»
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جس نے دو ٹھنڈی نمازیں (فجر و عصر کی نمازیں) ادا کیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دو ٹھنڈی نمازوں یعنی فجر اور عصر کی نمازوں کا اہتمام کرنے کی ترغیب دی ہے اور انھیں کما حقہ ادا کرنے، یعنی وقت پر اور جماعت کے ساتھ پڑھنے وغیرہ کا خیال رکھنے والے کو خوش خبری سنائی ہے کہ یہ اس کے لیے دخول جنت کا سبب بنیں گی۔

فوائد
  1. فجر اور عصر کی نماز پابندی سے پڑھنے کی فضیلت، کیوں کہ فجر کی نماز میٹھی نیند کے وقت پڑھی جاتی ہے اور عصر کی نماز کام کاج کے وقت۔ لہذا ان کی پابندی کرنے والا بدرجۂ اولی باقی نمازوں کی پابندی کرے گا۔
  2. فجر اور عصر کی نماز کو ٹھنڈی نمازوں کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ فجر کی نماز کے وقت رات کی ٹھنڈک ہوا کرتی ہے اور عصر کی نماز کے وقت دن کی ٹھنڈک۔ ویسے تو عصر کی نماز گرمی کے وقت پڑھی جاتی ہے، لیکن اس وقت گرمی پہلے سے کم ہو جایا کرتی ہے۔ یا پھر ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہ نام تغلیبا دیا گیا ہو۔ جیسا کہ عربوں کے یہاں سورج اور چاند کو القمران یعنی دو چاند کہا جاتا ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 119) (574). صحيح مسلم (1/ 440) (635). نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (1/ 159). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 187).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
17 میں سے 8
17 احادیث
  1. کون سا عمل اللہ کے نزدیک سب سے محبوب ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: "وقت پر نماز پڑھنا۔" انھوں نے پوچھا کہ پھر کون سا؟ تو آپ نے جواب دیا: "والدین کی فرماں برداری کرنا۔" انھوں نے پوچھا کہ پھر کون سا؟ تو آپ نے جواب دیا: "اللہ کے راستے میں جہاد کرنا
  2. ”منافقوں پر سب سے بھاری نماز عشا اور فجر کی نماز ہے اور اگر انھیں ان نمازوں کے ثواب کا اندازہ ہو جائے، تو گھٹنوں کے بل چل کر آئيں
  3. میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کی کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقيقي معبود نہ ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دوں گا، نماز قائم کروں گا، زکوۃ ادا کروں گا اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کروں گا۔
  4. الله ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھرے، انہوں نے ہمیں درمیانی نماز (یعنی نماز عصر) نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔
  5. رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: لمبے قیام والی نماز۔
  6. ”پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک اپنے مابین سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے“۔
  7. ”تو کثرت سے سجدہ کیا کر۔ اس لیے کہ ہر سجدے کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تیرا ایک درجہ بلند کرے گا اور تیرا ایک گناہ معاف کرے گا۔“
  8. جس نے دو ٹھنڈی نمازیں (فجر و عصر کی نمازیں) ادا کیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
  9. تمھارا کیا خیال ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے سے ایک نہر بہہ رہی ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، تو کیا اس کے بدن میں ذرا بھی میل کچیل باقی رہ سکے گا؟
  10. ”جس نے صبح کی نماز پڑھی، وہ اللہ کی پناہ میں آگیا
  11. وہ شخص ہرگز جہنم میں داخل نہيں ہوگا، جس نے سورج نکلنے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھی۔
  12. ”جو مسلمان فرض نماز کا وقت پائے، پھر اچھی طرح وضو کرے، دل لگا کر نماز پڑھے اور اچھی طرح رکوع (اور سجدہ) کرے، تو یہ نماز اس کے ما قبل کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گی، جب تک کبیرہ گناہ نہ کرے اور ہمیشہ ایسا ہی ہوا کرے گا۔“
  13. جس نے فجر پڑھ لی وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے۔
  14. اگر میں فرض نماز پڑھتا رہوں, رمضان میں روزہ رکھوں اور حلال کو حلال سمجھوں اور حرام کو حرام سمجھتے ہوئے اس سے بچتا رہوں اور اس کے علاوہ کچھ نہ کروں تو آپ ﷺ کی کیا رائے ہے کہ کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟
  15. پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں
  16. اے بلال! نماز قائم کرو، اس کے ذریعے مجھے راحت پہنچاؤ۔
  17. ’’بندہ نماز پڑھتا ہے‘ اس کے لیے نماز کا صرف دسواں حصہ‘ نواں حصہ‘ آٹھواں‘ ساتواں‘ چھٹا‘ پانچواں‘ چوتھا‘ تیسرا‘ اور نصف حصہ ہی لکھا جاتا ہے‘‘۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com