سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر نماز کے وقت وضو کیا کرتے تھے

عن عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ عَنْ ‌أَنَس بن مالك قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، قُلْتُ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ؟ قَالَ: يُجْزِئُ أَحَدَنَا الْوُضُوءُ مَا لَمْ يُحْدِثْ.
عمرو بن عامر انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر نماز کے وقت وضو کیا کرتے تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کرتھے تھے، تو انھوں نے جواب دیا : ہمارے لیے وضو اس وقت تک کافی ہو جاتا تھا، جب تک وضو ٹوٹ نہ جائے۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر فرض نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے، چاہے وضو نہ بھی ٹوٹے۔ ایسا آپ اجر و ثواب حاصل کرنے کے لیے کرتے تھے۔ انسان جب تک باوضو رہے، ایک ہی وضو سے ایک سے زیادہ نمازیں پڑھ سکتا ہے۔

فوائد
  1. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اکثر ہر نماز کے لیے وضو کر لیا کرتے تھے۔ کیوں کہ یہ کامل ترین طریقہ ہے۔
  2. ہر نماز کے لیے وضو کرنا مستحب ہے۔
  3. ایک وضو سے ایک سے زیادہ نمازیں پڑھنا جائز ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 53) (214)، شرح ابن بطّال (1/321)، إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري (1/ 285).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
وضوء کی فضیلت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com