سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

وضوء کی فضیلت

7 احادیث

مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو پہنچے گا۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ((إن أمتي يُدْعَون يوم القيامة غُرًّا مُحَجَلِّين من آثار الوُضُوء)). فمن اسْتَطَاع منكم أن يُطِيل غُرَّتَه فَليَفعل. وفي لفظ لمسلم: ((رأَيت أبا هريرة يتوضَّأ، فغسل وجهه ويديه حتى كاد يبلغ المنكبين، ثم غسل رجليه حتى رَفَع إلى السَّاقين، ثم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إنَّ أمتي يُدْعَون يوم القيامة غُرًّا مُحَجَّلِين من آثار الوُضُوء)) فمن استطاع منكم أن يطيل غُرَّتَه وتَحْجِيلَه فَليَفعَل. وفي لفظ لمسلم: سمعت خليلي صلى الله عليه وسلم يقول: ((تَبْلُغ الحِليَة من المؤمن حيث يبلغ الوُضُوء)).
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے لوگوں کو قیامت والے دن اس حال میں پکارا جائے گا کہ وضو کے نشانات سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں روشن ہونگے“۔ پس تم میں سے جو اپنی روشنی بڑھانے کی طاقت رکھے تو وہ ضرور ایسا کرے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”میں نے ابو ہریرہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے اپنا چہرہ اور بازو دھوئے یہاں تک کہ کندھوں کے قریب پہنچ گئے، پھر انہوں نے اپنے پاؤں دھوئے یہاں تک کہ اوپر پنڈلیوں تک لے گئے، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ میری امت کے لوگوں کو قیامت والے دن اس حال میں پکارا جائے گا کہ وضو کے نشانات سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں روشن ہونگے۔ پس تم میں سے جو اپنی چمک اور روشنی بڑھانے کی طاقت رکھے تو وہ ضرور ایسا کرے“۔ صحیح مسلم کے دوسرے الفاظ یہ ہیں: ”میں نے اپنے خلیل ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ (جنت میں) مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک وضو پہنچے گا“۔
اس حديث کی دونوں روایتوں کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ اپنی امت کو اس بات کی بشارت دے رہے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ قیامت کےدن انہیں دیگر امتوں کے ما بین شرف وفضیلت کی ایک مخصوص نشانی بخشے گا اس طور پر کہ جب انہیں پکارا جائے گا تووہ لوگوں کے سامنے حاضر ہونگے اور ان کے چہرےاور ہاتھ اور پیر روشنی سے چمک رہے ہوں گے، اوریہ سب وضو جیسی عظیم عبادت کے نتیجے میں ہوگا، وہ وضو جسے وہ اللہ کی رضا اور ثواب کی امید میں بار بار ان اعضاء شریفہ پر کرتے تھے، تو یہ ان کا خاص بڑا انعام اور بدلہ ہے۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو کوئی اس چمک کو بڑھانے کی طاقت رکھتا ہو تو چاہئے کہ وہ ایسا کرے۔کیوں کہ دھلنے کی جگہیں جس قدر دراز ہوں گی اسی قدر روشنی اور چمک بھی لمبی ہوگی، کیوں کہ روشنی کا زیور وہاں تک پہونچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہونچا ہے۔ لیکن وضو میں مشروع صرف کہنی تک دونوں ہاتھوں کا دھلنا ہے اس لئے کہنی کو مکمل دھوئے گا بازو سے شروع کرتے ہوئے اور اس کے کچھ حصہ کو دھلتے ہوئے اسی طرح دونوں پاوں کو دھوئے گا دونوں ٹخنوں کومکمل دھوتے ہوئے پنڈلی سے شروع کرتے ہوئے، البتہ وضو میں بازو اور پنڈلی کا دھلنا مشروع نہیں ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ابوھریرہ رضی اللہ عنہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: ”جنت میں مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچے گا“۔

حوالہ

الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ. تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ. شرح العمدة للسعدي، قيده عنه تلميذه: عبد الله العوهلي، تقديم: عبد الله بن عبد العزيز العقيل، تحقيق: أنس بن عبد الرحمن بن عبد الله العقيل، ط1، دار التوحيد، الرياض، 1431هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

’’شیطان تم میں سے ہر آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھونک مارتا ہے کہ سوجا، ابھی رات بہت باقی ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلاَثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ كُلَّ عُقْدَةٍ عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ، فَارْقُدْ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلاَنَ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’شیطان تم میں سے ہر آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھونک مارتا ہے کہ سوجا، ابھی رات بہت باقی ہے۔ پھر اگر کوئی بیدار ہو کر اللہ کو یاد کرنے لگے تو ایک گرہ کھُل جاتی ہے۔ پھر اگر وضو کر لے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر اگر نماز پڑھے تو ایک اور گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ اس طرح صبح کے وقت آدمی چاق وچو بند اور خوش مزاج رہتا ہے۔ ورنہ غمگین اور سست رہتا ہے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جب انسان تہجد یا فجر کی نماز کے لیے اٹھنا چاہتا ہے، تو کس طرح شيطان اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک مومن شخص جب سو جاتا ہے، تو شیطان اس کے سر کے پچھلے حصے میں تین گرہیں لگا دیتا ہے۔ چنانچہ جب وہ جاگ کر اللہ کو یاد کرتا ہے اور شیطان کے وسوسوں کو خلل ڈالنے نہيں دیتا، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر وضو کرتا ہے، تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر اگر اٹھ کر نماز پڑھتا ہے، تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ نتیجے کے طور انسان صبح اس حال میں کرتا ہے کہ وه خوش مزاج اور چاق وچوبند رہتا ہے کیوں کہ طاعت کے لئے توفیق الہی ملنے کى وجہ سے وہ مسرور ہوتا ہے ساتھ ہی اللہ نے جو ثواب ومغرفت کا وعدہ کیا ہے اس سے اچھی امید رکھتا ہے اور اس بات پر بھی خوش ہوتا ہے کہ شیطان کے ہتھکنڈے ناکام ہو گئے۔ اس کے برعکس اگر وہ عبادت کے لیے کھڑا نہيں ہوا، تو اس کی صبح بدمزاجی، کبیدگی اور بھلائی و نیکی کے کاموں میں سستی کے ساتھ ہوتی ہے۔ کیوں کہ دراصل وہ شیطانى زنجیر میں قید اور رحمن کی قربت سے دور کر دیا گیا ہوتا ہے۔

فوائد
  1. شیطان کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ اللہ کی عبادت کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کی جائے اور بندہ شیطان کے ہتھکنڈوں سے اسی صورت میں بچ سکتا ہے، جب اللہ عز و جل کی مدد حاصل کرے اور وقایت و تحفظ کے راستوں کو اپنائے۔
  2. اللہ کا ذکر اور اس کی عبادت انسان کے اندر چستی اور نشاط لاتی ہے، اسے قلبی مسرت عطا کرتی ہے، کاہلی اور سستی دور کرتی ہے اور بے چینی اور ناراضگی ختم کرتی ہے۔ کیوں کہ ذکر و عبادت شیطان کو دور بھگاتی ہے اور مذکورہ چيزیں شیطان کے وسوسے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔
  3. مومن اللہ تعالیٰ کی جانب سے عبادت کی توفیق ملنے پر خوش اور فضل و کمال کے درجات کے حصول میں پیچھے رہ جانے پر کبیدہ خاطر ہوتا ہے۔
  4. غفلت اور نیکی کے کاموں سے دوری میں شیطان کا ہاتھ ہوتا ہے۔ دراصل وہ ان چیزوں کو انسان کے سامنے خوش نما بناکر پیش کرتا ہے۔
  5. مذکورہ تینوں چیزیں -اللہ کا ذکر، وضو اور نماز- شیطان کو دور بھگانے کا کام کرتی ہیں۔
  6. شیطان کے ذریعے سر کے پچھلے حصے ہی میں گرہیں اس لیے لگائی جاتی ہیں کہ وہی ساری قوتوں کا سرچشمہ ہے اور وہیں سے پورے جسم کا نظام چلتا ہے۔ لہذا اس پر گرہیں لگا دینے کے بعد انسان کی روح پر قابض ہونا اور اس پر نیند طاری کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
  7. ابن حجر عسقلانی کہتے ہيں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے قول "عليك ليل" میں رات کا ذکر بظاہر یہ بتلاتا ہے کہ یہ بات رات کی نیند کے ساتھ خاص ہے۔
  8. ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں: ذکر کے لیے کوئی چيز اس طرح مخصوص نہيں ہے کہ دوسری چيز کافی نہ ہو۔ ہر وہ چيز کافی ہے، جس پر "اللہ کا ذکر" کے الفاظ صادق آتے ہوں۔ اس کے دائرے مں قرآن کی تلاوت، حدیث نبوی پڑھنا اور علم شرعی میں مشغول رہنا بھی آتے ہيں۔ البتہ سب سے اچھا یہ ہے کہ اللہ کا ذکر اس حدیث نبوی میں وارد الفاظ کے ذریعے کیا جائے : "جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ دعا پڑھے : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له،‏‏‏‏ له الملك،‏‏‏‏ وله الحمد،‏‏‏‏ وهو على كل شىء قدير‏، الحمد لله،‏‏‏‏ وسبحان الله،‏‏‏‏ ولا إله إلا الله،‏‏‏‏ والله أكبر،‏‏‏‏ ولا حول ولا قوة إلا بالله‏» (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے، تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کی ہیں‘ اللہ کی ذات پاک ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی کو گناہوں سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی قدرت۔) پھر کہے : اے اللہ! میری مغفرت فرما، یا کوئی دعا کرے، تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ پھر اگر وہ وضو کرے (اور نماز پڑھے)، تو نماز بھی مقبول ہوتی ہے)۔ صحیح بخاری۔
حوالہ

صحيح البخاري (2/ 52) (1142). صحيح مسلم (1/ 538) (776). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 328). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 834). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (15/ 305). فتح الباري شرح صحيح البخاري، لأحمد العسقلاني (10/ 564). طرح التثريب في شرح التقريب، العراقي (3/ 82).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے، اس کے گناہ اس کے جسم سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں“۔

عن عثمان بن عفان رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ».
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے، اس کے گناہ اس کے جسم سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں“۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ جس نے وضو کی سنتوں اور آداب کا خیال رکھتے ہوئے وضو کیا، تو اس سے اس کے گناہ مٹا دیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اس کے دونوں ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جائيں گے۔

فوائد
  1. وضو، اس کی سنتوں اور آداب کو سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی ترغیب۔
  2. وضو کی فضیلت اور اس کا صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہونا۔ جہاں تک بڑے گناہوں کی بات ہے، تو ان کے لیے توبہ ضروری ہے۔
  3. گناہوں سے پاک ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق وضو مکمل طور پر کیا جائے اور اس میں کوئی کمی نہ رہنے نہ دیا جائے۔
  4. گناہوں کے مٹا دیے جانے کی جو بات اس حدیث میں آئی ہے‘ وہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب اور ان سے توبہ کرنے کے ساتھ مقید ہے۔ اللہ تعالی نے کہا ہے : "اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہوگے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے، تو ہم تمہارے چھوٹے گناه دور کر دیں گے۔" [سورہ نساء : 31]
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 216) (245). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 9). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (2/ 763). بهجة الناظرين، سليم الهلالي (2/ 247).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو کوئی اس طرح وضو کرے، اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔

عن عثمان بن عفان رضي الله عنه قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضأ مِثل وُضوئي هذا، ثم قال: «مَنْ تَوَضَّأ هكَذَا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَكَانَتْ صَلاَتُهُ وَمَشْيُهُ إِلَى المَسْجدِ نَافِلَةً».
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو میرے اس وضو کی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی اس طرح وضو کرے، اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جائیں گے اور اس کی نماز اور مسجد کی جانب اس کا جانا مزید ثواب کا باعث ہوگا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کامل مشروع طریقے سے وضو کرنے کے بعد فرمایا کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو ان کے وضو کرنے کی طرح وضو کرتے ہوۓ دیکھا، پھر نبی کریمﷺ نے یہ خوش خبری سنائی کہ جو شخص اس طرح وضو کرے، اللہ تعالیٰ اس پر اپنا فضل و کرم نازل فرماتا ہے اور حقوق اللہ سے تعلق رکھنے والے اس کے گذشتہ معمولی نوعیت کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ اس کا نماز پڑھنااور مسجد کی جانب چل کر جانا ،گناہوں کی بخشش کے علاوہ زائد اجر و ثواب کا باعث ہوتا ہے۔ مذکورہ وضو کی صفت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے حمران نامی غلام سے مروی حدیث میں مذکور ہے کہ انھوں نے دیکھا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے پانی کا برتن منگوایا اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر تین مرتبہ پانی ڈال کر انھیں دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا۔ کلی کی۔ ناک جھاڑی۔ پھر اپنا چہرہ اور کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر تین مرتبہ اپنے پاؤں دھوئے۔

حوالہ

رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين, محمد علي بن محمد البكري الصديقي الشافعي, اعتنى بها: خليل مأمون شيحا, الناشر: دار المعرفة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت – لبنان, الطبعة: الرابعة، 1425 هـ - 2004 م. بهجة الناظرين, سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں

عن أبي مالكٍ الأشعريِّ رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ، وَسُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلهِ تَمْلَآنِ -أَوْ تَمْلَأُ- مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو، فَبَايِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا».
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے، ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے، تو (کچھ اعمال کے عوض) اپنا سودا کرتا ہے، پھر یا تو خود كو آزاد کرنے والا ہوتا ہے يا خود کو تباہ کرنے والا"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں بتا رہے ہیں کہ ظاہری طہارت وضو اور غسل سے حاصل ہوتی ہے اور یہ طہارت نماز کے لیے شرط ہے۔ "الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے۔" الحمد للہ در اصل اللہ پاک کی حمد و ثنا بیان کرنے اور اسے صفات کمال سے متصف کرنے سے عبارت ہے۔ قیامت کے دن اس کلمہ کو ترازو پر وزن کیا جائے گا، تو اس سے عمل کو تولا جانے والا ترازو بھر جائے گا۔ "سبحان الله اور الحمد لله" یہ دونوں کلمات ہر قسم کے نقص سے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اسے اس کی جلالت شان کے مطابق کمال مطلق کے وصف سے موصوف کرتے ہیں، جس کے ساتھ اس کی محبت اور اس کی تعظیم بھی ہم رکاب ہوتی ہے۔ یہ دونوں کلمات آسمان وزمین کے درمیان کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ "نماز نور ہے" جو بندے کے دل کو، اس کے چہرے کو، اس کی قبر کو اور اس کی آخرت کو منور کرتی ہے۔ "صدقہ دلیل ہے۔" صدقہ مؤمن کے سچے ایمان والے ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وہ اس منافق سے مختلف ہے، جو صدقہ سے دامن کش رہتا ہے، کیوں کہ وہ اس اجر وثواب کو سچ نہيں جانتا، جس کا وعدہ صدقہ کرنے والے سے کیا گیا ہے۔ "صبر روشنی ہے۔" صبر نفس کو جزع فزع کرنے اور تقدیر پر ناراضگی ظاہر کرنے سے روکنے کا نام ہے۔ ضیا ایسی روشنی کو کہتے ہیں، جس کے ساتھ حرارت اور جلانے کے اوصاف پائے جائیں۔ جیسے کہ سورج کی روشنی۔ صبر کو ضیا اس لیے کہا گیا ہے کہ صبر کرنا ایک مشکل کام ہے اور اس کے لیے نفس سے لڑنے اور اسے خواہشات سے روکنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب انسان صبر سے کام لیتا ہے، تو اس کی راہیں روشن رہتی ہیں اور وہ صحیح راستے پر گامزن رہتا ہے۔ یہاں صبر سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت گزاری پر گام زن رہا جائے، اس کی نافرمانی سے اجتناب کیا جائے دنیاوی مصائب ومشکلات کا مقابلہ پامردی کے ساتھ کیا جائے۔ "قرآن تمہارے حق میں دلیل ہے۔" قرآن انسان کے حق میں دلیل اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اس کی تلاوت کرے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرے۔"یا پھر تمہارے خلاف دلیل ہے۔" قرآن انسان کے خلاف دلیل اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اس کی تعلیمات پر عمل کرنے اور اس کی تلاوت کرنے سے گریز کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ تمام لوگ جد وجہد کرتے، زمین میں پھیل جاتے اور نیند سے بیدار ہوکر اپنے مختلف مشاغل کی غرض سے گھروں سے نکل جاتے ہیں۔ چنانچہ ان میں سے کچھ لوگ اللہ کی اطاعت پر قائم رہتے ہوئے اپنی جان کو جہنم سے آزاد کر لیتے ہیں، جب کہ کچھ لوگ اس راہ سے بھٹک کر گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہيں، تو اللہ ان کو جہنم میں داخل کرکے ہلاک کردیتا ہے۔

فوائد
  1. طہارت کی دو قسمیں ہیں: ظاہری طہارت جو وضو اور غسل سے حاصل ہوتی ہے اور باطنی طہارت جو توحید و ایمان اور عمل صالح سے حاصل ہوتی ہے۔
  2. پابندی کے ساتھ نماز پڑھنے کی اہمیت، کیوں کہ نماز بندے کے لیے دنیا میں بھی نور ہے اور قیامت کے دن بھی نور رہے گی۔
  3. صدقہ ایمان کی صداقت کی دلیل ہے۔
  4. قرآن پر عمل کرنے اور اس کی تصدیق کرنے کی اہمیت، تاکہ قرآن آپ کے حق میں حجت ہو نا کہ آپ کے خلاف۔
  5. اگر آپ اپنے نفس کو اطاعت میں مشغول نہیں رکھیں گے تو وہ آپ کو گناہ میں مشغول کر دے گا۔
  6. ہر انسان لا محالہ کچھ نہ کچھ عمل کرتا ہے۔ یا تو وہ اطاعت کے ذریعہ اپنے نفس کو آزاد کر لیتا ہے یا گناہ کے ذریعہ اسے ہلاک کر لیتا ہے۔
  7. صبر کے لیے تحمل اور احتساب اجر ضروری ہے، جو کہ مشقت آمیز امر ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 203) (223)، شرح الأربعين لابن دقيق العيد (ص 84)، شرح الأربعين النووية للعثيمين (ص: 231)، الرياض الزكية شرح الأربعين النووية للخضير (ص 293)، فتح القوي المتين في شرح الأربعين للعباد (ص 79)

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر نماز کے وقت وضو کیا کرتے تھے

عن عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ عَنْ ‌أَنَس بن مالك قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، قُلْتُ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ؟ قَالَ: يُجْزِئُ أَحَدَنَا الْوُضُوءُ مَا لَمْ يُحْدِثْ.
عمرو بن عامر انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر نماز کے وقت وضو کیا کرتے تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کرتھے تھے، تو انھوں نے جواب دیا : ہمارے لیے وضو اس وقت تک کافی ہو جاتا تھا، جب تک وضو ٹوٹ نہ جائے۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر فرض نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے، چاہے وضو نہ بھی ٹوٹے۔ ایسا آپ اجر و ثواب حاصل کرنے کے لیے کرتے تھے۔ انسان جب تک باوضو رہے، ایک ہی وضو سے ایک سے زیادہ نمازیں پڑھ سکتا ہے۔

فوائد
  1. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اکثر ہر نماز کے لیے وضو کر لیا کرتے تھے۔ کیوں کہ یہ کامل ترین طریقہ ہے۔
  2. ہر نماز کے لیے وضو کرنا مستحب ہے۔
  3. ایک وضو سے ایک سے زیادہ نمازیں پڑھنا جائز ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 53) (214)، شرح ابن بطّال (1/321)، إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري (1/ 285).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں

عَنْ أَبِي مَالِكٍ الحَارِثِ بْنِ عَاصِمٍ الأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ، وَسُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلهِ تَمْلَآنِ -أَوْ تَمْلَأُ- مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو، فَبَايِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا»
ابو مالک حارث بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: "پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے، ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے، تو (کچھ اعمال کے عوض) اپنا سودا کرتا ہے۔ پھر یا تو خود كو آزاد کرنے والا ہوتا ہے يا خود کو تباہ کرنے والا"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں بتا رہے ہیں کہ ظاہری طہارت وضو اور غسل سے حاصل ہوتی ہے اور یہ طہارت نماز کے لیے شرط ہے۔ "الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے۔" الحمد للہ در اصل اللہ پاک کی حمد و ثنا بیان کرنے اور اسے صفات کمال سے متصف کرنے سے عبارت ہے۔ قیامت کے دن اس کلمہ کو ترازو پر وزن کیا جائے گا، تو اس سے عمل کو تولا جانے والا ترازو بھر جائے گا۔ "سبحان الله اور الحمد لله" یہ دونوں کلمات ہر قسم کے نقص سے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اسے اس کی جلالت شان کے مطابق کمال مطلق کے وصف سے موصوف کرتے ہیں، جس کے ساتھ اس کی محبت اور اس کی تعظیم بھی ہم رکاب ہوتی ہے۔ یہ دونوں کلمات آسمان وزمین کے درمیان کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ "نماز نور ہے" جو بندے کے دل کو، اس کے چہرے کو، اس کی قبر کو اور اس کی آخرت کو منور کرتی ہے۔ "صدقہ دلیل ہے۔" صدقہ مؤمن کے سچے ایمان والے ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وہ اس منافق سے مختلف ہے، جو صدقہ سے دامن کش رہتا ہے، کیوں کہ وہ اس اجر وثواب کو سچ نہيں جانتا، جس کا وعدہ صدقہ کرنے والے سے کیا گیا ہے۔ "صبر روشنی ہے۔" صبر نفس کو جزع فزع کرنے اور تقدیر پر ناراضگی ظاہر کرنے سے روکنے کا نام ہے۔ ضیا ایسی روشنی کو کہتے ہیں، جس کے ساتھ حرارت اور جلانے کے اوصاف پائے جائیں۔ جیسے کہ سورج کی روشنی۔ صبر کو ضیا اس لیے کہا گیا ہے کہ صبر کرنا ایک مشکل کام ہے اور اس کے لیے نفس سے لڑنے اور اسے خواہشات سے روکنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب انسان صبر سے کام لیتا ہے، تو اس کی راہیں روشن رہتی ہیں اور وہ صحیح راستے پر گامزن رہتا ہے۔ یہاں صبر سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت گزاری پر گام زن رہا جائے، اس کی نافرمانی سے اجتناب کیا جائے دنیاوی مصائب ومشکلات کا مقابلہ پامردی کے ساتھ کیا جائے۔ "قرآن تمہارے حق میں دلیل ہے۔" قرآن انسان کے حق میں دلیل اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اس کی تلاوت کرے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرے۔"یا پھر تمہارے خلاف دلیل ہے۔" قرآن انسان کے خلاف دلیل اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اس کی تعلیمات پر عمل کرنے اور اس کی تلاوت کرنے سے گریز کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ تمام لوگ جد وجہد کرتے، زمین میں پھیل جاتے اور نیند سے بیدار ہوکر اپنے مختلف مشاغل کی غرض سے گھروں سے نکل جاتے ہیں۔ چنانچہ ان میں سے کچھ لوگ اللہ کی اطاعت پر قائم رہتے ہوئے اپنی جان کو جہنم سے آزاد کر لیتے ہیں، جب کہ کچھ لوگ اس راہ سے بھٹک کر گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہيں، تو اللہ ان کو جہنم میں داخل کرکے ہلاک کردیتا ہے۔

فوائد
  1. طہارت کی دو قسمیں ہیں: ظاہری طہارت جو وضو اور غسل سے حاصل ہوتی ہے اور باطنی طہارت جو توحید و ایمان اور عمل صالح سے حاصل ہوتی ہے۔
  2. پابندی کے ساتھ نماز پڑھنے کی اہمیت، کیوں کہ نماز بندے کے لیے دنیا میں بھی نور ہے اور قیامت کے دن بھی نور رہے گی۔
  3. صدقہ ایمان کی صداقت کی دلیل ہے۔
  4. قرآن پر عمل کرنے اور اس کی تصدیق کرنے کی اہمیت، تاکہ قرآن آپ کے حق میں حجت ہو نا کہ آپ کے خلاف۔
  5. اگر آپ اپنے نفس کو اطاعت میں مشغول نہیں رکھیں گے تو وہ آپ کو گناہ میں مشغول کر دے گا۔
  6. ہر انسان لا محالہ کچھ نہ کچھ عمل کرتا ہے۔ یا تو وہ اطاعت کے ذریعہ اپنے نفس کو آزاد کر لیتا ہے یا گناہ کے ذریعہ اسے ہلاک کر لیتا ہے۔
  7. صبر کے لیے تحمل اور احتساب اجر ضروری ہے، جو کہ مشقت آمیز امر ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 203) (223). شرح الأربعين لابن دقيق العيد (ص 84). شرح الأربعين النووية للعثيمين (ص: 231). الرياض الزكية شرح الأربعين النووية للخضير (ص 293). فتح القوي المتين في شرح الأربعين للعباد (ص 79).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com