سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میری رعب کے ساتھ مدد کی گئی، مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئیں، میرا نام احمد رکھا گیا، مٹی کو میرے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنا دیا گیا اور میری امت کو بہترین امت بنایا گیا۔

عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه مرفوعاً: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "أُعطِيتُ ما لم يُعطَ أحدٌ من الأنبياءِ". فقلنا: يارسول الله، ما هو؟ قال: "نُصِرتُ بالرُّعبِ، وأُعطِيتُ مَفَاتِيحَ الأرضِ، وسُمِّيتُ أحمدَ، وجُعِلَ التُّرابُ لي طَهُوراً، وجُعِلَتْ أمَّتي خيرَ الأممِ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وہ کچھ دیا گیا جو مجھ سے پہلے انبیاء میں سے کسی کو نہیں دیا گیا“، ہم نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:”میری رعب کے ساتھ مدد کی گئی، مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئیں، میرا نام احمد رکھا گیا، مٹی کو میرے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنا دیا گیا اور میری امت کو بہترین امت بنایا گیا“۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وہ کچھ دیا گیا جو مجھ سے پہلے انبیاء میں سے کسی کو نہیں دیا گیا“ بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے وہ تمام باتیں جو ذکر ہوئیں ان میں سے کوئی بھی آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی کو حاصل نہیں تھی۔ فرمایا: ”میری رعب کی ساتھ مدد کی گئی“ یعنی دشمن کو مجھ سے خوفزدہ کر کے۔ جس نے دشمنوں کے دلوں کو چیر کر رکھ دیا، ان کی شان و شوکت کو ختم کر دیا اوران کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا‘‘۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وأعطيت مفاتيح“ یہ مفتاح کی جمع ہے جو ایک ایسے آلے کا نام ہے جس کے ساتھ (تالا وغیرہ) کھولا جاتا ہے۔ دراصل اس سے مراد وہ شے ہے جس کے ذریعے ان تالہ بند اشیاء کو نکالا جاتا ہے جن تک اس کے بغیر رسائی حاصل کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ ”زمین کے خزانے“ یہ اللہ کی طرف سے ممالک کے فتح ہونے کے وعدے کا استعارہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا نام احمد رکھا گیا“ آپ سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا تھا۔ یہ اللہ کی طرف سے بطور حفاظت تھا تاکہ اس نام سے موسوم شخص کے متعلق کمزور دل والے التباس اور شک میں مبتلا نہ ہوں کہ سابقہ کتابوں میں احمد کی صفت کے ساتھ موصوف شخص یہی ہے۔ ”وجعل لي التراب طهوراً“ یعنی مٹی کو مطَہِّرْ ( پاک کرنے والی شے) بنادیا گیا ہے جس وقت کہ پانی کا ملنا دشوار ہو۔

حوالہ

تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام لصالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، ط1، الرسالة، بيروت، 1427 هـ. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام لعبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، ط5، مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة ، 1423 هـ. سبل السلام شرح بلوغ المرام لمحمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، دار الحديث. سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة للألباني، ط1، دار المعارف، الرياض، 1412 هـ. فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427هـ. فيض القدير شرح الجامع الصغير للمناوي، ط1، المكتبة التجارية الكبرى، مصر، 1356هـ. مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط و عادل مرشد، وآخرون، تحت إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، ط1، مؤسسة الرسالة، 1421 هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام لعبد الله بن صالح الفوزان، ط1، دار ابن الجوزي، 1432 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
تیمّم

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com