سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو ہے، اگرچہ دس برس تک پانی نہ پائے۔ جب تم پانی پا جاؤ، تو اس کو اپنے بدن پر بہا لو؛ اس لیے کہ یہ بہتر ہے۔

عن أبي ذر جندب بن جنادة رضي الله عنه قال: اجتمعت غنيمة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «يا أبا ذر اُبْدُ فيها» فبَدَوْتُ إلى الرَّبذَة فكانت تُصيبني الجنابة فأمكث الخَمْسَ والسِّتَّ، فأتيتُ النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «أبو ذر» فَسَكَتُّ فقال: «ثَكِلَتْكَ أمك أبا ذر لأمِّكَ الوَيْلُ» فدعا لي بجارية سوداء فجاءت بِعُسٍّ فيه ماء فستَرتْنِي بثَوب واستَتَرْتُ بالرَّاحلة، واغتسلتُ فكأني أَلقَيْتُ عني جَبَلًا فقال «الصعيدُ الطيِّبُ وُضُوءُ المسلم ولو إلى عشر سنين، فإذا وجدتَ الماء فأَمِسَّهُ جِلدَكَ فإن ذلك خَيرٌ».
ابو ذر جندب بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ مال غنیمت جمع ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو ذر! انھیں لے کر دیہات کی طرف چلے جاؤ“۔ چنانچہ میں مقام ربذہ کی طرف آ گیا۔ وہاں مجھے جنابت لاحق ہوتی اور میں پانچ چھے دن ویسے ہی رہ جایا کرتا تھا۔ پھر میں نبی ﷺ کی خدمت میں آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابو ذر ہو؟ میں چپ رہا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں تجھے گم کرے، تیری ماں کے لیے خرابی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے میرے لیے ایک سیاہ فام باندی کو بلایا، جو ایک بڑے برتن میں پانی لے آئی۔ پھر ایک کپڑے کے ذریعے میرے لیے پردہ کیا۔ میں نے سواری کی اوٹ لی اور غسل کیا۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا میں نے کوئی پہاڑ اتار دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو ہے، اگرچہ دس برس تک پانی نہ پائے۔ پھر جب تم پانی پا جاؤ، تو اس کو اپنے بدن پر بہا لو۔ اس لیے کہ یہ بہتر ہے۔“
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

یہ حدیث شریعت اسلامیہ کے امتیازات میں سے ایک امتیاز کی نشان دہی کرتی ہے۔ وہ ہے پانی کی غیر موجودگی میں تیمم کے ذریعے پاکی حاصل کرنے کی طرف رہ نمائی۔ ”الصعيد الطيب“: یعنی زمین کی پاک مٹی یا اس طرح کی کوئی اور شے جو زمین کے اوپر ہو اور اسی کی جنس سے ہو۔ اسے صعید کا نام اس لیے دیا گیا، کیوں کہ لوگ اس پر چلتے اور چڑھتے ہیں۔ ”وَضوء المسلم“: ان الفاظ میں پاک مٹی کو طہارت کے حصول میں پانی کے ساتھ تشبیہہ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تیمم پر وُضو کے پانی کا اطلاق کیا؛ کیوں کہ یہ اس کا قائم مقام ہے۔ پانی کے بدلے میں تیمم کرنے کے سلسلے میں یہ فراہم کردہ آسانی تب تک جاری رہتی ہے، جب تک عذر باقی رہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگرچہ اسے دس سال تک پانی نہ ملے“ یا بیس یا تیس یا اس سے بھی زیادہ سال نہ ملے۔ یہاں دس سے مراد کثرت کا بیان ہے نہ کہ تحدید۔ اسی طرح اگر اسے پانی تو مل رہا ہو، لیکن (پانی کے استعمال میں) کوئی حسی یا شرعی مانع ہو، تو اس کا حکم بھی یہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تیمم وضو کے قائم مقام ہے، اگرچہ اس سے حاصل شدہ طہارت ہلکی ہوتی ہے، لیکن یہ ضرورت کی وجہ سے طہارت ہے؛ تاکہ نماز کا وقت نکلنے سے پہلے اس کی ادائیگی ممکن ہو سکے۔ اس کے باجود جب پانی مل جائے اور اس کی استعمال پر قدرت حاصل ہو جائے، تو تیمم ختم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے ابو ذر رضی اللہ عنہ کی اس بات کی طرف راہ نمائی فرمائی کہ حصول طہارت میں جو شے اصل ہے -یعنی پانی کا استعمال-، اس کی طرف رجوع کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمھیں پانی مل جائے، تو اسے اپنے جسم پر بہاؤ“ یعنی حصول طہارت کے لیے وضو یا غسل کرتے ہوئے جسم تک اسے پہنچاؤ اور اس پر اسے انڈیلو۔ ترمذی شریف کی ایک روایت میں ہے: ”جب اسے پانی مل جائے، تو وہ اسے اپنی جلد پر بہائے، یہ اس کے لیے زیادہ اچھا ہے“ آپ ﷺ نے بتایا کہ پانی کو دیکھتے ہی تیمم ختم ہو جاتا ہے، بشرطے کہ اسے پانی کے استعمال کی قدرت بھی ہو؛ کیوں کہ موجودگی سے مراد قدرت ہی ہے۔

حوالہ

توضيح الأحكام للشيخ البسام، ط5، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، 1423هـ. تسهيل الإلمام للشيخ صالح الفوزان، بعناية: عبدالسلام السليمان، ط1، 1427هـ. جامع الترمذي، تحقيق وتعليق:أحمد محمد شاكر، وآخرون، مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، ط2، مصر، 1395 هـ. سنن ابن ماجه، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي. سنن أبي داود، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، المكتبة العصرية، بيروت. السنن الصغرى للنسائي، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، ط2، مكتب المطبوعات الإسلامية، حلب، 1406هـ. فيض القدير شرح الجامع الصغير للمناوي ، ط1، المكتبة التجارية الكبرى، مصر، 1356هـ. مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، ط1، مؤسسة الرسالة، 1421هـ. مشكاة المصابيح للتبريزي، ، تحقيق: محمد ناصر الدين الألباني، ط3، المكتب الإسلامي، بيروت، 1985هـ. النهاية في غريب الحديث والأثر لابن الأثير، تحقيق: طاهر أحمد الزاوى - محمود محمد الطناحي، ط 1399هـ، المكتبة العلمية، بيروت. عون المعبود شرح سنن أبي داود، ومعه حاشية ابن القيم: تهذيب سنن أبي داود وإيضاح علله ومشكلاته- محمد أشرف بن أمير بن علي بن حيدر، أبو عبد الرحمن، شرف الحق، الصديقي، العظيم آبادي - دار الكتب العلمية – بيروت الطبعة: الثانية، 1415 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
تیمّم

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com