سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رات کى نیند سے بیدار ہوتے، تو اپنے منہ کو مسواک سے رگڑ کر صاف کرتے۔

عَنْ حُذَيْفَةَ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رات کى نیند سے بیدار ہوتے، تو اپنے منہ کو مسواک سے رگڑ کر صاف کرتے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مسواک کا بڑا اہتمام کرتے اور اس کا حکم دیا کرتے تھے۔ کچھ اوقات میں مسواک کا تاکیدی حکم ہے۔ جیسے رات کى نیند سے اٹھتے وقت مسواک کرنا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سوکر اٹھتے، تو اپنے منہ کو مسواک سے رگڑ کر صاف کرتے تھے۔

فوائد
  1. رات میں سوکر اٹھنے کے بعد مسواک کرنے کی مشروعیت کی تاکید۔ وجہ یہ ہے کہ سونے کی وجہ سے منہ کی بو بدل جاتی ہے اور مسواک صفائی کا آلہ ہے۔
  2. منہ کے اندر بدبو پیدا ہو جانے پر مسواک کا تاکیدی حکم۔
  3. صفائی کی عمومی مشروعیت۔ یہ سنت نبوی کا حصہ ہے اور اعلی اسلامی آداب میں داخل ہے۔
  4. پورے منہ کا مسواک کرنے میں دانت، مسوڑھے اور زبان داخل ہے۔
  5. مسواک نام ہے پیلو وغیرہ کی لکڑی کا، جسے کاٹ کر منہ اور دانتوں کی صفائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے منہ پاک صاف ہوتا ہے اور بدبوئيں دور ہوتی ہیں۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 58) (245). صحيح مسلم (1/ 220) (255). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص47). خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص24).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
فطرتی سنتیں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com