سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

فطرتی سنتیں

8 احادیث

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رات کى نیند سے بیدار ہوتے، تو اپنے منہ کو مسواک سے رگڑ کر صاف کرتے۔

عَنْ حُذَيْفَةَ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رات کى نیند سے بیدار ہوتے، تو اپنے منہ کو مسواک سے رگڑ کر صاف کرتے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مسواک کا بڑا اہتمام کرتے اور اس کا حکم دیا کرتے تھے۔ کچھ اوقات میں مسواک کا تاکیدی حکم ہے۔ جیسے رات کى نیند سے اٹھتے وقت مسواک کرنا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سوکر اٹھتے، تو اپنے منہ کو مسواک سے رگڑ کر صاف کرتے تھے۔

فوائد
  1. رات میں سوکر اٹھنے کے بعد مسواک کرنے کی مشروعیت کی تاکید۔ وجہ یہ ہے کہ سونے کی وجہ سے منہ کی بو بدل جاتی ہے اور مسواک صفائی کا آلہ ہے۔
  2. منہ کے اندر بدبو پیدا ہو جانے پر مسواک کا تاکیدی حکم۔
  3. صفائی کی عمومی مشروعیت۔ یہ سنت نبوی کا حصہ ہے اور اعلی اسلامی آداب میں داخل ہے۔
  4. پورے منہ کا مسواک کرنے میں دانت، مسوڑھے اور زبان داخل ہے۔
  5. مسواک نام ہے پیلو وغیرہ کی لکڑی کا، جسے کاٹ کر منہ اور دانتوں کی صفائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے منہ پاک صاف ہوتا ہے اور بدبوئيں دور ہوتی ہیں۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 58) (245). صحيح مسلم (1/ 220) (255). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص47). خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص24).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”پانچ چیزیں (انسانی) فطرت (کا حصہ) ہیں: ختنہ کرنا، زير ناف بال مونڈنا، مونچھيں چھوٹی کرنا، ناخن تراشنا اور بغل کے بال اکھیڑنا“۔

عن أبِي هريرة رضي اللَّه عنه: سمعتُ النبِيّ صلى الله عليه وسلم يقول: «الفِطْرَةُ خمسٌ: الخِتَانُ والاستحدادُ وقصُّ الشَّارِبِ وتقليمُ الأظفارِ وَنَتْفُ الآبَاطِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : ”پانچ چیزیں (انسانی) فطرت (کا حصہ) ہیں: ختنہ کرنا، زير ناف بال مونڈنا، مونچھيں چھوٹی کرنا، ناخن تراشنا اور بغل کے بال اکھیڑنا“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ پانچ کام دین اسلام اور رسولوں کی سنتوں کا حصہ ہيں: 1- ختنہ کرنا۔ یعنی شرمگاہ کے اوپر کے زائد چمڑے کو کاٹ دینا۔ اسی طرح عورت کی شرمگاہ کے دخول کی جگہ کے اوپر موجود چمڑے کے سرے کو کاٹ دینا۔ 2- اگلی شرم گاہ کے آس پاس کے بالوں کو مونڈنا۔ 3- مونچھ چھوٹی کرنا۔ یعنی مرد کے اوپری ہونٹ پر اگے ہوئے بالوں کو اس طرح کاٹ دینا کہ ہونٹ ظاہر ہو جائے۔ 4- ناخن تراشنا۔ 5- بغل کے بال اکھیڑنا۔

فوائد
  1. نبیوں کی وہ سنتیں، جو اللہ کو محبوب اور پسند ہیں اور جن کا وہ حکم دیتا ہے، وہ دراصل کمال، صفائی اور خوب صورتی کا سبب بنتی ہیں۔
  2. ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے اور ان میں غفلت سے بچنا چاہیے۔
  3. ان کاموں کے بہت سے دینی اور دنیوی فائدے ہيں۔ جیسے ظاہری شکل و صورت میں خوب صورتی لانا، بدن کو صاف ستھرا رکھنا، طہارت کے سلسلے میں محتاط رہنا، کفار کی مخالفت اور اللہ کے حکم کی تعمیل کرنا۔
  4. دیگر حدیثوں میں ان پانچ کاموں کے علاوہ کچھ دوسرے کاموں کو بھی انسانی فطرت پر مبنی کام بتایا گیا ہے۔ جیسے داڑھی بڑھانا اور مسواک کرنا وغیرہ۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 160) (5891). صحيح مسلم (1/ 222) (257). عمدة الأحكام (ص44) (30). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 45). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص58). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 72).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”مونچھیں تراشو اور داڑھیاں بڑھاؤ“۔

عن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أحْفُوا الشَّوَارِبَ وأَعْفُوا اللِّحَى».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”مونچھیں تراشو اور داڑھیاں بڑھاؤ“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم حکم دے رہے ہیں کہ مونچھوں کو اپنی حالت پر چھوڑا نہ جائے، بلکہ ان کو کاٹا جائے اور اچھی طرح کاٹا جائے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں داڑھی کو بڑھانے اور اسے بھرپور انداز میں چھوڑنے کا حکم دے رہے ہیں۔

فوائد
  1. داڑھی مونڈنا حرام ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 160) (5892). صحيح مسلم (1/ 222) (259). رياض الصالحين (ص338) (1205). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 345). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن (2/ 853). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 228). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (14/ 507). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص676). منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، لحمزة محمد قاسم (5/ 236).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ ایک تر مسواک کر رہے تھے۔ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسواک کا کنارہ آپ ﷺ کی زبان پر تھا اور آپ مسواک منہ میں لے کر منہ سے اس طرح اع، اع کی آواز نکال رہے تھے، جیسےآپ ﷺ قے کر رہے ہوں۔

عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال: ((أتَيتُ النبي صلى الله عليه وسلم وهو يَسْتَاكُ بِسِوَاك رَطْب، قال: وطَرَفُ السِّوَاك على لسانه، وهو يقول: أُعْ، أُعْ، والسِّوَاك في فِيه، كأنَّه يَتَهَوَّع)).
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ ایک تر مسواک کر رہے تھے۔ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسواک کا کنارہ آپ ﷺ کی زبان پر تھا اور آپ مسواک منہ میں لے کر منہ سے اس طرح اع، اع کی آواز نکال رہے تھے، جیسےآپ ﷺ قے کر رہے ہوں۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ ﷺ ایک تر مسواک کر رہے تھے؛ کیوں کہ یہ زیادہ اچھے طریقے سے صفائی کرتی ہے اور منہ میں ٹوٹ کر تکلیف نہیں دیتی۔ آپ ﷺ مسواک کو اپنی زبان پر رکھے ہوۓ تھے اور بہت اندر تک مسواک فرما رہے تھے اور یوں لگ رہا تھا، جیسے آپ ﷺ قے کر رہے ہوں۔

حوالہ

الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل بن محمد الأنصاري، دار الفكر، دمشق، الطبعة: الأولى، 1381هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة، 1426هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى، 1426هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم-، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية، 1408هـ. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں نے مسواک کے سلسلے میں تم لوگوں سے بارہا کہا ہے۔

عن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أكْثَرْتُ عليكم في السِّوَاك».
انس رضی اللہ عنہ رواىت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے مسواک کے سلسلے میں تم لوگوں سے بارہا کہا ہے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کے سامنے مسواک کے استعمال اور ہر حال میں اس کی پابندی کے بارے میں بہت کچھ بتایا تھا، بایں طور کہ یہ تعلیمات وجوبی نہیں استحبابی ہیں۔ اس لیے کہ اس میں بہت فائدے ہیں اور اس کے بہت فضائل ہیں۔ ان میں سب سے عظیم وجلیل فضیلت یہ ہے کہ یہ اللہ سبحانہ وتعالی کی رضامندی کا ذریعہ ہے۔

حوالہ

رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه . - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا موجب ہے“۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا موجب ہے“۔
رواه النسائي وأحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں بتا رہے ہیں کہ پیلو وغیرہ کی شاخ سے دانتوں کو صاف کرنا منہ کو گندگیوں اور بدبو سے پاک کرتا ہے۔ اور اس کے ذریعہ اللہ بندہ سے راضی بھی ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ اللہ کی اطاعت گزاری اور اس کے حکم کی تعمیل ہے اور اس سے صفائی ستھرائی بھی حاصل ہوتی ہے، جو اللہ کو پسند ہے۔

فوائد
  1. مسواک کرنے کی فضیلت اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اپنی امت کو اس بات کی ترغیب کہ وہ زیادہ سے زیادہ مسواک کیا کریں۔
  2. بہتر یہ ہے کہ انسان پیلو پیڑ کی شاخ سے مسواک کرے، لیکن برش اور ٹوتھ پیسٹ کا استعمال بھی اس کے قائم مقام ہوگا۔
حوالہ

سنن النسائي (1/ 10) (5). مسند أحمد (40/ 240) (24203). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 342). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (2/ 852). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص675).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اللہ کے نبی ﷺ جب گھر تشریف لاتے، تو کون سا عمل سب سے پہلے کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا: آپ ﷺ (سب سے پہلے) مسواک کیا کرتے تھے۔

عَنِ شُرَيْحٍ بنِ هانِئٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، قُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؟ قَالَتْ: بِالسِّوَاكِ.
شریح بن ہانی سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اللہ کے نبی ﷺ جب گھر تشریف لاتے، تو کون سا عمل سب سے پہلے کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا: آپ ﷺ (سب سے پہلے) مسواک کیا کرتے تھے۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا معمول تھا کہ گھر میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے مسواک کرتے۔ وقت چاہے جو بھی ہو۔ رات ہو کہ دن۔

فوائد
  1. ویسے تو مسواک کرنا تمام اوقات میں مشروع ہے، لیکن کچھ اوقات میں اس کی تاکید آئی ہے، جن میں شریعت نے مسواک کرنے کی ترغیب دی ہے۔ جیسے گھر میں داخل ہوتے وقت، نماز کے وقت، وضو کے وقت، نیند سے جاگتے وقت اور منہ کی بو بدل جانے پر۔
  2. صحابہ رضی اللہ عنہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال اور سنتوں کو جاننے کے حریص ہوا کرتے تھے، تاکہ آپ کی اقتدا کر سکيں۔
  3. اہل علم اور اپنے سے زیادہ جان کاری رکھنے والوں سے علم حاصل کرنے کی ترغیب۔ یہاں عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب گھر میں داخل ہوتے، تو کس حالت میں ہوتے تھے؟
  4. اہل خانہ کے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا حسن معاشرت کہ گھر میں داخل ہوتے وقت منہ صاف کر لیا کرتے تھے۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 220) (253). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 341). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 851). المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، النووي (3/ 144).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

دس باتیں فطرت میں سے ہیں: مونچھیں کاٹنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا ، ناک میں پانی چڑھانا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑوں کا دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، زیر ناف بال مونڈنا اور پانی سےاستنجاء کرنا

عن عائشة رضي الله عنها مرفوعاً: «عَشْرٌ من الفِطْرة: قَصُّ الشَارب، وإعْفَاء اللِّحْية، والسِّواك، وَاسْتِنْشَاقُ الماء، وقص الأظْفَار، وغَسْل البَرَاجِم، ونَتْف الإبْط، وحلق العَانة، وانْتِقَاصُ الماء» قال الراوي: ونَسِيْتُ العاشرة إلا أن تكون المَضْمَضَة. قال وكِيع - وهو أحد رواته - انْتِقَاص الماء: يعني الاسْتِنْجَاء.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دس باتیں فطرت میں سے ہیں: مونچھیں کاٹنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی چڑھانا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، زیر ناف بال مونڈنا اور پانی سےاستنجاء کرنا“۔ روای کہتے ہیں کہ میں دسویں چیز بھول گیا، شاید کلی کرنا ہو۔ وکیع جو کہ اس حدیث کے راویون میں سے ہیں کہتے ہیں کہ انتقاص الماء کا مطلب ہے پانی سے استنجا کرنا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ سے فطرت کی جملہ سنتوں کو بیان کر رہی ہیں۔ ”الفِطْرة“ سےمراد وہ ہیئت ہے جس پر اللہ نے اپنے بندوں کی تخلیق فرمائی اور اس پر انہیں وجود بخشا اور یہ کہ اس میں خیر موجود ہے۔ یہاں مراد فطرت سلیمہ ہے کیونکہ کج رو فطرت کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس لیے کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”ہر نوزائدہ بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں“۔ سننِ فطرت میں سے سب سے پہلی سنت ”مونچھ کاٹنا“ ہے۔ یعنی اسے ہلکا سا تراشنا یہاں تک کہ ہونٹ ظاہر ہو جائے۔ کیونکہ ایسا کرنے میں صفائی کا حصول اور ناک سے نکلنے والے مادوں سے بچاؤ ہوتا ہے۔ اگر مونچھ کے بال ہونٹ پر آ رہے ہوں تو اس کے ساتھ کھانے پینے کی اشیاء لگ جاتی ہیں اور مونچھوں کی کثرت سے شکل میں بھی بگاڑ آتا ہے، اگرچہ اس شخص کو یہ اچھی ہی لگیں جو ان کی پرواہ نہ کرتا ہو۔ لھٰذا مسلمان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ کاٹ تراش کرکے اپنی مونچھوں کی دیکھ بھال کرتا رہے اور اسے چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے۔ کیونکہ مسلم شریف میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ: ”مونچھیں کترنے، ناخن کاٹنے، بغل کے بال اکھیڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے سلسلے میں ہمارے لئے وقت مقرر کیا گیا کہ ہم انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں“۔ دوسری سنت ”داڑھی کو( بڑھنے کے لیے) چھوڑ دینا“ ہے۔ ”اللحية“ سے مراد وہ بال ہیں جو ٹھوڑی اور دونوں جبڑوں پر اگ آتے ہیں۔ داڑھی کے اعفاء سے مرادیہ ہے کہ آدمی اسے زیادہ ہونے دے بایں طور کہ نہ تو اسے منڈائے اور نہ ہی کم یا زیادہ اسے چھوٹا کرے۔ کیونکہ اعفاء کا لفظ کثرت اور زیادہ کرنے کے معانی پر دلالت کرتا ہے۔ مراد یہ کہ اسے زیادہ کرو اور اس کی کثرت ہونے دو۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: (حتى عَفَوا) [الأعراف:95] ترجمہ: یہاں تک کہ وہ زیادہ ہوگئے۔ نبی ﷺ سے بہت سی احادیث مروی ہیں جن میں متعدد الفاظ کے ساتھ داڑھی کو بڑھانے کا حکم آیا ہے۔ ایک حدیث میں ”وفّروا“ کا لفظ ہے، ایک میں ”أرخوا“ کا لفظ ہےاور ایک میں ”أعفوا“ کا لفظ ہے۔ یہ تمام الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اسے اپنے حال پر باقی رکھتے ہوئے زیادہ ہونے دینا چاہیے اور اس سے تعرض نہیں کرنا چاہیے۔ اس بنا پر مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنی داڑھی کو منڈائے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو نبی ﷺ کے طریقے سے انحراف اور آپ ﷺ کی نافرمانی کا مرتکب ہو گا اور مشرکین سے مشابہت اختیار کرے گا، اسی کا فتوی دائمی کمیٹی کے علماء وغیرہ نے دیا ہے۔ "مسواک کرنا"۔ یعنی مسواک کرنے کا شمار ان خصالِ فطرت میں ہوتا ہے جن کی شریعت نے ترغیب دی ہے۔ "مسواک منہ کی صفائی اور رب کی رضا کا سبب ہے" اسی لیے اس کا کرنا کسی بھی وقت مشروع ہے، تاہم وضوء اور نماز کے اوقات میں، نیند سے بیداری پر، منہ کی بو میں تغیر پیدا ہونے اور دانتوں پر پیلاہٹ ظاہر ہونے اور اس طرح کےديگر مواقع پر اس کے کرنے کی زیادہ تاکید ہے۔ "ناک میں پانی چڑھانا"۔ یعنی ناک میں پانی چڑھانا بھی فطرت میں سے ہے۔ کیونکہ اس سے ناک میں موجود ایسی گندگیوں کی صفائی اور ان کا ازالہ ہوتا ہے جو انسان کے لیے تکلیف اور ضرر رسانی کا سبب بن سکتی ہیں۔ ناک میں پانی چڑھانا دوران وضوء بھی ہو سکتا ہے اور وضوء کے علاوہ بھی یعنی جب بھی آپ کو ناک صاف کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو اپنی ناک میں پانی چڑھا کر اسے صاف کرلیں۔اس سلسلے میں لوگ مختلف ہوتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو تو اس کی صرف وضوء کرتے ہوئے ضرورت پڑتی ہے اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جنھیں بہت زیادہ ناک صاف کرنا پڑتا ہے۔ سننِ فطرت میں سے ایک "کلی کرنا "بھی ہے۔ یہ بھی فطرت میں سے ہے۔ منہ اور ناک میں بہت سی گندگیاں در آتی ہیں۔ چنانچہ ان پر توجہ دینا فطرت کا جزء ہوا۔ ”ناخن کاٹنا“ يعنی ناخن کاٹنا فطرت ميں سےہے۔ اس سے مراد دونوں ہاتھ پاؤں کے ناخن ہیں۔ انہیں بھی کاٹے بنا چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں، جیسا کہ گزشتہ حدیث میں آیا ہے۔ ”جوڑوں کو دھونا“ یعنی انگلیوں کے بیرونی اور اندرونی جوڑوں کو دهلنا کیونکہ ان جگہوں ميں جھریاں اور سلوٹیں ہونے کی وجہ سے ان پر گندگی جمع ہو جاتی ہیں اور بعض اوقات ان تک پانی نہیں پہنچ پاتا۔ اگر ان کا خیال رکھا جائے بایں طور کہ انہیں ملا جائے اور دوسرا ہاتھ ان پر پھیرا جائے تو ان تک پانی پہنچ جاتا ہے۔ لھٰذا ان کا خیال رکھنا بھی فطری امور میں سے ہے۔ جسم میں موجود ہر اس جگہ کا حکم انگليوں کے جوڑوں ہی کی طرح ہے جہاں پسینے یا کسی اور وجہ سے میل کچیل جمع ہو جاتی ہو جیسے کان کا سوراخ اور رانوں کا اندرونی حصہ اور اس طرح کی دیگر جگہیں جو عموماً چھپی رہتی ہیں۔ ”بغل کے بال اکھیڑنا“ یعنی خصالِ فطرت میں سے ایک خصلت بغل کے بال کو کھینچ کر انہیں جڑ سے اکھیڑنا بھی ہے۔ کیونکہ اس جگہ بہت زیادہ پسینہ آتا ہے اور میل کچیل جمع ہوتی رہتی ہے جس سے بدبو پیدا ہو جاتی ہے۔ اسے بھی چالیس دن سے زیادہ نہیں چھوڑنا چاہیے جیسا کہ انس رضی اللہ عنہ کی سابق الذکر حدیث میں آیا ہے۔ اگر طاقت ہو تو بغل کے بالوں کو اکھیڑنا ہی افضل ہے۔ تاہم اگر ایسا کرنا مشقت کا باعث ہو تو پھر انھیں مونڈنے یا بال صفا کریموں کے استعمال میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ اصل غرض تو ان بالوں کو دور کرنا اور جگہ کو صاف کرنا ہے جو کہ حاصل ہو جاتا ہے۔ ”زیر ناف بال مونڈنا“ یعنی زیر ناف بال صاف کرنا بھی خصالِ فطرت میں سے ہے۔ "العانة" سے مراد وہ سخت بال ہیں جو مرد اور عورت کی اگلی شرم گاہ کے گرد اگ آتے ہیں۔ فطرت کا تقاضا ہے کہ انہیں زائل کیا جائے چاہے ایسا مونڈكر، یا اكھيڑ كر يا كاٹ کر ہو یا پھر جدید مواد (لوشن وغیرہ) کو استعمال کر کے ہو۔ کیونکہ اصل مقصد صفائی ہے اور ان تمام طریقوں سے یہ مقصود حاصل ہوتا جاتاہے۔ انس رضی اللہ عنہ سے مروی سابقہ حدیث کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ رہنے دیا جائے۔ ”انتقاص الماء“ یعنی انتقاص الماء بھی فطرت میں سے ہے جس کی تفسیر استنجاء کرنے سے کی گئی ہے۔ اس معنی کی تائید ابو داود اور ابن ماجہ کی اس روایت سے ہوتی ہے جو عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: کلی کرنا، ناک میں پانی چڑھانا اور پانی چھڑکنا فطرت میں سے ہیں۔ استنجاء کا معنی ہے: دونوں شرم گاہوں سے نکلنے والی شے کو کسی پاک چیز جیسے پانی، پتھر، چیتھڑوں اور رومال وغیرہ سے صاف کرنا جس میں (گندگی کو) زائل کرنے کی صلاحیت ہو۔ راویِ حدیث بیان کرتے ہیں:”میں دسویں خصلت بھول گیا، لیکن ہو سکتا ہے وہ کلی کرنا ہو“۔ یہ راوی کا شک ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہ تمام اشیاء انسان کے ظاہر کی تکمیل کرتی ہیں اور اسے پاک صاف کرتی ہیں اور نقصان دہ اور قبیح چیزوں کو اس سے دور کرتی ہیں۔

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبد العزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ. - كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. - بهجة قلوب الأبرار وقرة عيون الأخيار في شرح جوامع الأخبار :عبد الرحمن بن سعدي - المحقق: عبد الكريم بن رسمي ال الدريني دار النشر: مكتبة الرشد للنشر والتوزيع الطبعة: الأولى 1422هـ - 2002م - فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء - المجموعة الأولى - رئاسة إدارة البحوث العلمية والإفتاء - الإدارة العامة للطبع - الرياض.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com