سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

مکی دور

5 احادیث

تم سے پہلی امتوں کے لوگ (جو ایمان لائے) ان کا تو یہ حال ہوا کہ ان میں سے کسی کو پکڑ لیا جاتا اور اس کے لیے زمین میں گڑھا کھود کر اس میں اسے ڈال دیا جاتا، پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کر دئیے جاتے اور لوہے کے کنگھے اس کے گوشت اور ہڈیوں میں دھنسا دیے جاتے؛ لیکن یہ آزمائشیں بھی اسے اپنے دین سے ہٹا نہیں سکتی تھیں۔

عن أبي عبد الله خباب بن الأرت رضي الله عنه قال: شكونا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً له في ظِلِّ الكعبة، فقلنا أَلاَ تَسْتَنْصِرُ لنا، ألا تدعو الله لنا؟ فقال: «قد كان من قبلكم يُؤخذ الرجل فيُحفر له في الأرض، فيُجعل فيها، ثمَّ يُؤتى بالمِنْشَارِ فيوضع على رأسه فيُجعل نصفين، ويُمشط بأمشاطِ الحديد ما دون لحمه وعظمه، ما يَصُدُّهُ ذلك عن دينه، والله لَيُتِمَّنَّ الله هذا الأمر حتى يسير الراكب من صنعاء إلى حضرموت لا يخاف إلا الله والذئب على غَنَمِه، ولكنكم تستعجلون». وفي رواية: «هو مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً، وقد لقينا من المشركين شدة».
ابو عبد الله خباب بن ارت رضي الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کعبے کے سایے میں اپنی چادر پر ٹیک لگائے تشریف فرما تھے کہ ہم نے آپ ﷺ سے اپنی حالت زار بیان کی اور عرض کیا کہ آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد کیوں نہیں مانگتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کیوں نہیں کرتے؟۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: "تم سے پہلی امتوں کے لوگ (جو ایمان لائے) ان کا تو یہ حال ہوا کہ ان میں سے کسی کو پکڑ لیا جاتا اور اس کے لیے زمین میں گڑھا کھود کر اسے اس میں ڈال دیا جاتا، پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ کراس کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے اور لوہے کے کنگھے اس کے گوشت اور ہڈیوں میں دھنسا دیے جاتے؛ لیکن یہ آزمائشیں بھی اسے اپنے دین سے ہٹا نہیں سکتی تھیں۔ اللہ کی قسم! اللہ اسلام کو مکمل کرے گا اور یہ صورت حال ہو گی کہ ایک سوار صنعا سے حضرموت تک اکیلا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا اور کسی کا خوف نہ ہو گا اور بکریوں پر سواے بھیڑیے کے خوف کے (اور کسی لوٹ وغیرہ کا کوئی ڈر نہ ہو گا)۔ لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ”آپ ﷺ ایک چادر پرٹیک لگاے تشریف فرما تھے اور ہمیں مشرکین کی طرف سے بہت تکلیف کا سامنا تھا“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں خباب رضی اللہ عنہ اس اذیت کا حال بیان کر رہے ہیں، جس کاسامنا مسلمان مکہ میں کفار قریش کی طرف سے کر رہے تھے۔ چنانچہ وہ نبی ﷺ کے پاس شکایت کے لیے آئے۔ آپ ﷺ اس وقت کعبہ کے سائے تلے ایک چادر پر ٹیک لگاےتشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ نے ان کے لیے وضاحت فرمائی کہ ہم سے پہلی امتوں کے لوگوں کی دین کے سلسلے میں جو آزمائش ہوئی وہ اس سے بڑی تھی، جو ان لوگوں پر آئی ہوئی ہے۔ (پہلے تو) ایسا ہوتا کہ کسی فرد کے لیے گڑھا کھود کر اسے اس میں ڈال دیا جاتا۔ پھر آری لا کر اس کے سر کی مانگ پر رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کر دیئےجاتے۔ اس کی کھال اور ہڈیوں کے مابین لوہے کی کنگھیاں پھیری جاتیں۔ یہ بہت ہی بڑی اذیت تھی۔ پھر نبی ﷺ نے قسم اٹھائی کہ اللہ سبحانہ و تعالی ضرور اس دین کے معاملے کو پورا کریں گے، یعنی رسول اللہ ﷺ جو اسلام کی دعوت لائے ہیں وہ مکمل ہو کر رہے گی۔ یہاں تک کہ (اس قدر امن و شانتی کا ماحول ہوگا) کہ سوار صنعا سے حضر موت تک سفر کرے گا اور اس دوران اسے اللہ کے سوا اور اپنے جانوروں پر بھیڑیے کے سوا کسی اور کا خوف نہیں ہوگا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے صحابۂ کرام کو جلد بازی کو چھوڑ دینے کی تلقین فرمائی اور فرمایا: ”لیکن تم جلد بازی کر رہے ہو“ یعنی صبر کرو اور اللہ کی طرف سے کشادگی آنے کا انتظار کرو۔ اللہ تعالی عنقریب اس کام کو مکمل کردیں گے۔ پھر ویسا ہی ہوا، جیسا آپ ﷺ نے قسم کھا کر کہا تھا۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، كنوز إشبيليا، الرياض، الطبعة: الأولى1430هـ، 2009م. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1418 هـ، 1997م. تطريز رياض الصالحين، فيصل بن عبد العزيز المبارك، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى 1423هـ، 2002م. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر 1407هـ. شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، محمد علي بن البكري بن علان، نشر دار الكتاب العربي، نسخة الكترونية ، لا يوجد بها بيانات نشر. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ، 2007م. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، علي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت، لبنان، الطبعة: الأولى 1422هـ، 2002م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

کیا آپ پر کوئی دن اُحد کے دن سے بھی زیادہ سخت گزرا ہے؟ آپ ﷺ نے اس پر فرمایا کہ تمہاری قوم (قریش) کی طرف سے میں نے کتنی مصیبتیں اٹھائی ہیں لیکن اس سارے دور میں عقبہ کا دن مجھ پر سب سے زیادہ سخت تھا۔

عن عائشة - رضي الله عنها- أنها قالت للنبي - صلى الله عليه وسلم - : هل أتى عليك يوم كان أشد من يوم أُحُدٍ ؟ قال: «لقد لقيت من قومك، وكان أشد ما لقيت منهم يوم العقبة، إذ عرضت نفسي على ابن عبد يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، فلم يجبني إلى ما أردت، فانطلقت وأنا مهموم على وجهي، فلم أستفق إلا وأنا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ، فرفعت رأسي، وإذا أنا بسحابة قد أظلتني، فنظرت فإذا فيها جبريل - عليه السلام - فناداني، فقال: إن الله تعالى قد سمع قول قومك لك، وما ردوا عليك، وقد بعث إليك ملك الجبال لتأمره بما شئت فيهم. فناداني ملك الجبال، فسلم علي، ثم قال: يا محمد إن الله قد سمع قول قومك لك، وأنا ملك الجبال، وقد بعثني ربي إليك لتأمرني بأمرك، فما شئت، إن شئت أطبقت عليهم الْأَخْشَبَيْنِ».
نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا، کیا آپ پر کوئی دن اُحد کے دن سے بھی زیادہ سخت گزرا ہے؟ آپ ﷺ نے اس پر فرمایا کہ تمہاری قوم (قریش) کی طرف سے میں نے کتنی مصیبتیں اٹھائی ہیں لیکن اس سارے دور میں عقبہ کا دن مجھ پر سب سے زیادہ سخت تھا یہ وہ موقع تھا جب میں نے (طائف کے سردار) کنانہ بن عبد یا لیل بن عبد کلال کے ہاں اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔ لیکن اس نے (اسلام کو قبول نہیں کیا اور) میری دعوت کو رد کر دیا۔ میں وہاں سے انتہائی رنجیدہ ہو کر واپس ہوا۔ پھر جب میں قرن الثعالب پہنچا، تب مجھ کو کچھ ہوش آیا، میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بدلی کا ایک ٹکڑا میرے اوپر سایہ کئے ہوئے ہے اور میں نے دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اس میں موجود ہیں، انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے بارے میں آپ کی قوم کی باتیں سن چکا اور جو انہوں نے رد کیا ہے وہ بھی سن چکا۔ آپ کے پاس اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے، آپ ان کے بارے میں جو چاہیں اس کا اسے حکم دے دیں۔ اس کے بعد مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی، انہوں نے مجھے سلام کیا اور کہا کہ اے محمد ﷺ! اللہ تعالیٰ آپ کے بارے میں آپ کی قوم کی باتیں سن چکا، میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں، اللہ تعالی نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ جو چاہیں (اس کا مجھے حکم فرمائیں) اگر آپ چاہیں تو میں دونوں طرف کے پہاڑ ان پر لا کر ملا دوں (جن سے وہ چکنا چور ہو جائیں)۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب آپ ﷺ سے پوچھا کہ کیا اُحُد سے بھی زیادہ سخت دن آپ پر گزرا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں اور طائف کی طرف جانے کا واقعہ ذکر فرمایا۔ کہ جب آپ ﷺ نے مکہ میں قریش کو دعوت دی اور انہوں نے انکار کیا، تو آپ طائف کی طرف نکلے تاکہ ان کو اللہ کا پیغام پہنچائیں، طائف والوں کو دعوت دی لیکن وہ مکہ والوں سے زیادہ بے وقوف نکلے، بلکہ انہوں نے آپ ﷺ کو پتھروں سے مارا اور کنکریاں پھینکیں، یہاں تک کہ آپ کی ایڑی لہو لہان ہو گئی۔ آپ نے قبیلہ ثقیف کے سردار ابن عبد یالیل بن عبد کلال پر اسلام پیش کیا، اس نے اسلام قبول نہیں کیا، آپ ﷺ غمزدہ اور پریشان لوٹے، جب تک آپ قرن الثعالب نہیں پہنچے تھے آپ کو افاقہ نہ ہوا، وہاں بادل نے آپ پر سایہ کیا، آپ نے سر اٹھایا، تو بادل جبرائیل علیہ السلام تھے، جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے کہا، یہ پہاڑوں کا فرشتہ آپ کو سلام کہتا ہے، پھر فرشتے نے سلام کیا اور کہا کہ میرے رب نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، اگر آپ چاہے ان پر دونوں پہاڑوں کو ملا دوں۔آپ ﷺ نے اپنے حلم و بُردباری اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا نہیں۔ اس لیے کہ اگر ان پر دونوں پہاڑوں کو ملایا جاتا تو وہ ہلاک ہوجاتے چنانچہ فرمایا: ”مجھے تو اس کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسی اولاد پیدا کرے گا جو اکیلے اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گی“۔ اور ایسا ہی ہوا، اللہ نے آپ ﷺ کو اتنی سخت تکلیف دینے والے ان مشرکین کی نسلوں میں سے ایسے لوگوں کو پیدا کیا جو ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے۔

حوالہ

صحيح البخاري تحقيق محمد زهير الناصر دار طوق النجاة المصورة عن السلطانية الطبعة الأولى 1422 صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين, مؤسسة الرسالة, الطبعة الرابعة عشر, 1407ه . دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد بن علان الصديقي, دار الكتاب العربي. كنوز رياض الصالحين بإشراف حمد العمار, دار كنوز إشبيليا, الطبعة الأولى, 1430ه . شرح رياض الصالحين لابن عثيمين , دار مدار الوطن للنشر، الرياض, الطبعة : 1426 هـ. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي, دار ابن الجوزي.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ اور نبی ﷺ کا انہیں نماز اور وضو سکھانے کا بیان۔

عن عمرو بن عَبَسة رضي الله عنه قال: كنت وأنا في الجاهلية أظن أن الناس على ضَلالة، وأنهم لَيْسُوا على شيء، وهم يَعبدون الأوثان، فسمعت برجل بمكة يُخبر أخبارًا، فَقَعَدتُ على راحلتي، فقدِمتُ عليه، فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم مُسْتَخْفِيًا ، جُرَءآءٌ عليه قومه، فتَلطَّفتُ حتى دخلت عليه بمكة، فقلت له: ما أنت؟ قال: «أنا نَبيٌّ» قلت: وما نَبِيٌّ؟ قال: «أرسلني الله» قلت: وبِأَيِّ شيء أرسلك؟ قال: «أرسلني بصلة الأرحام، وكسر الأوثان، وأن يُوَحَّد الله لا يُشرك به شيءٌ»، قلت: فمن معك على هذا؟ قال: «حُرٌّ وعَبْدٌ»، ومعه يومئذ أبو بكر وبلال رضي الله عنهما ، قلت: إني مُتَّبِعُكَ، قال: «إنك لن تستطيع ذلك يَوْمَك هذا، ألا ترى حالي وحال الناس؟ ولكن ارجع إلى أهلك، فإذا سمعت بِي قد ظهرت فأتني». قال: فذهبت إلى أهلي، وقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة حتى قدم نَفرٌ من أهلي المدينة، فقلت: ما فعل هذا الرجل الذي قَدِم المدينة؟ فقالوا: الناس إليه سِرَاعٌ، وقد أراد قومُه قتلَه، فلم يستطيعوا ذلك، فقدمت المدينة، فدخلت عليه، فقلت: يا رسول الله أَتَعْرِفُني؟ قال: «نعم، أنت الذي لَقَيْتَنِي بمكة» قال: فقلت: يا رسول الله، أخبرني عما عَلَّمَك الله وأَجْهَلُهُ، أخبرني عن الصلاة؟ قال: «صَلِّ صلاةَ الصبح، ثم اقْصُرْ عن الصلاة حتى ترتفع الشمس قِيْدَ رمح، فإنها تَطْلُعُ حين تَطلُعُ بين قرني شيطان، وحينئذ يَسجدُ لها الكفار، ثم صلِ فإن الصلاة مشهُودةٌ محضُورةٌ حتى يَسْتَقِلَّ الظِّلُ بالرُّمْح، ثم اقْصُرْ عن الصلاة، فإنه حينئذ تُسْجَرُ جهنم، فإذا أقبل الفيء فَصَلِّ، فإن الصلاة مشهُودةٌ محضُورةٌ حتى تُصلي العصر، ثم اقْصُرْ عن الصلاة حتى تغرب الشمس، فإنها تَغْرُبُ بين قَرْنَيْ شيطان، وحينئذ يسجدُ لها الكفار» قال: فقلت: يا نبي الله، فالوضوء حدثني عنه؟ فقال: «ما مِنكم رجلٌ يُقَرِّبُ وضوءه، فيتمضمض ويستنشق فيستنثر، إلا خرَّت خطايا وجهه من أطراف لحيته مع الماء، ثم يغسل يديه إلى المرفقين، إلا خرَّت خطايا يديه من أنامله مع الماء، ثم يمسح رأسه، إلا خرَّت خطايا رأسه من أطراف شعره مع الماء، ثم يغسل قدميه إلى الكعبين، إلا خرَّت خطايا رجليه من أنامله مع الماء، فإن هو قام فصلى، فحمد الله تعالى ، وأثنى عليه ومجَّدَه بالذي هو له أهل، وفرَّغَ قلبه لله تعالى ، إلا انصرف من خطيئته كهيئته يومَ ولدَتْه أمه». فحدث عمرو بن عبسة بهذا الحديث أبا أمامة صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له أبو أمامة: يا عمرو بن عبسة، انظر ما تقول! في مقام واحد يُعطى هذا الرجل؟ فقال عمرو: يا أبا أُمَامة، لقد كَبِرَتْ سِنِّي، ورقَّ عظمي، واقترب أجلي، وما بِي حاجة أن أَكْذِبَ على الله تعالى ، ولا على رسول الله صلى الله عليه وسلم لو لم أسمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا مرة أو مرتين أو ثلاثًا -حتى عدَّ سبع مرات- ما حدَّثْت أبدًا به، ولكني سمعته أكثر من ذلك.
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں زمانۂ جاہلیت میں خیال کرتا تھا کہ لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں اور وہ کسی دین پر نہیں ہیں اور بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔ پھر میں نے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ مکہ میں کچھ خبریں بیان کرتا ہے۔ چنانچہ میں اپنی سواری پر بیٹھا اور اس شخص کے پاس (مکہ) آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ چھپ کر اپنا دعوتی کام کر رہے ہیں اور آپ کی قوم آپﷺ پر دلیر ہے۔ بہرحال میں نے نرمی سے کام لیتے ہوئے آپﷺ سے ملنے کی تدبیر کی یہاں تک کہ میں مکے میں آپﷺ کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے آپﷺ سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپﷺ نے جواب دیا: میں نبی ہوں۔ میں نے کہا: نبی کون ہوتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: (جسے اللہ اپنے احکام دے کر بھیجے اور) مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔ میں نے دریافت کیا: آپ کو اللہ نے کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اس نے مجھے صلہ رحمی کا حکم دینے، بتوں کو توڑنے اور اس بات کا پیغام دے کر بھیجا ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی چيز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ میں نے عرض کیا کہ اس کام پر آپ کے ساتھ اور کون ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ایک آزاد شخص اور ایک غلام۔ (راوی کا کہنا ہے کہ) اس وقت آپﷺ کے ساتھ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ میں نے عرض کیا: میں (بھی) آپ کا پیروکار ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم آج اس کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے۔ کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھ رہے؟ لھٰذا تم (ابھی) اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ، جب تم میری بابت سنو کہ میں غالب آ گیا ہوں تو پھر میرے پاس آنا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آگیا اور رسول اللہ ﷺ (بالآخر مکہ چھوڑ کر) مدینہ تشریف لے آئے۔ ایسے میں میرے اہل خانہ میں سے کچھ لوگ مدینہ آئے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جو شخص مدینہ آیا ہے اس کا کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ لوگ تو بہت تیزی سے اس کی طرف راغب ہو رہے ہیں جب کہ خود اس کی اپنی قوم اسے قتل کر دینا چاہتی تھی لیکن وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ لہذا میں مدینہ آ گیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں، تم وہی ہو جو مجھے مکہ میں ملے تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وہ باتیں بتلائیں جو اللہ نے آپ کو سکھلائی ہیں اور میں ان سے ناواقف ہوں۔ مجھے نماز کے بارے میں بتائیں۔ آپﷺنے فرمایا: تم صبح کی نماز پڑھو اور اس کے بعد نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج ایک نیزے کی مقدار کے برابر بلند ہو جائے۔ کیونکہ سورج جب طلوع ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے مابین طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں۔ پھر تم نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ سایہ نیزے کے برابر ہو جائے۔ پھر (اس وقت) نماز پڑھنے سے رک جاؤ کیونکہ اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے۔ پھر جب سایہ بڑھنے لگے تو نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو۔ پھر سورج کے غروب ہونے تک نماز سے رکے رہو کیونکہ یہ شیطان کے دوسینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! وضو کے بارے میں بھی مجھے بتائیں۔ آپ ﷺنے فرمایا: تم میں سے جو بھی آدمی وضو کے پانی کو اپنے قریب کرکے کلی کرتا ہے اورناک میں پانی ڈال کر اسے جھاڑتا ہے تو اس کے چہرے کے سارے گناہ اس کی داڑھی کے کناروں سے پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ اس کی انگلیوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ نکل کر گر جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ اس کے بالوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے دونوں پیر ٹخنوں تک دھوتا ہے تو اس کے دونوں پیروں کے گناہ پانی کے ساتھ اس کی انگلیوں سے نکل کر گر جاتے ہیں۔ چنانچہ (اس کے بعد) اگروہ کھڑا ہوا اور نماز پڑھی، پس اللہ کی اس کے شایانِ شان حمد و ثنا اور بزرگی بیان کی اور اپنے دل کو اللہ کے لیے فارغ کرلیا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو کر نکلتا ہے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ کے صحابی ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا تو ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے عمرو بن عبسہ! دیکھو تم کیا بیان کر رہے ہو۔ ایک ہی جگہ پر اس آدمی کو اتنا ثواب مل جائے گا؟ اس پر عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے: اے ابو امامہ! میری عمر بڑی ہو گئی، میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور میری موت قریب آگئی ہے، اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ پر اور اللہ کے رسولﷺ پر جھوٹ بولوں۔ اگر میں نے یہ حديث رسول اللہ ﷺ سے ایک مرتبہ، دو مرتبہ، تین مرتبہ، حتی کہ سات مرتبہ تک نہ سنی ہوتی تو میں کبھی یہ حدیث بیان نہ کرتا، لیکن میں نے تو اسے اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنی ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ بيان فرما رہے ہیں کہ ان کا زمانۂ جاہلیت میں کیا حال تھا اور کیسے اللہ تعالی نے اسلام کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی۔زمانۂ جاہلیت ہی میں ان کے دل میں ایک روشنی موجود تھی جس کی وجہ سے ان پر واضح ہو گیا تھا کہ یہ لوگ باطل پر اور شرک و گمراہی پر ہیں۔ چنانچہ وہ اس عقیدہ کے حامل نہیں تھے جو ان لوگوں کا عقیدہ تھا۔ پھر انہوں نے سنا کہ مکہ میں اس زمانے ميں ایک شخص کا ظہور ہوا ہے جو خبریں دیتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور نبی ﷺ کے پاس آئے، تو دیکھا کہ نبی ﷺ کفارِ قریش کی اذیت کےخوف سے چھپ کر اپنی دعوت دے رہے ہیں۔ عمر و بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: بہرحال میں نے نرمی سے کام لیتے ہوئے آپﷺ سے ملنے کی تدبیر کی یہاں تک کہ میں مکے میں آپﷺ کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے آپ ﷺ سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپﷺ نے جواب دیا: میں نبی ہوں۔ میں نے کہا: نبی کون ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (جسے اللہ اپنے احکام دے کر بھیجے اور) مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔ میں نے دریافت کیا: آپ کو اللہ نے کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے مجھے صلہ رحمی کا حکم دینے، بتوں کو توڑنے اور اس بات کا پیغام دے کر بھیجا ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی چيز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ آپﷺ نے ان الفاظ کے ذریعے اللہ عز وجل کی طرف دعوت دی اور اس عظیم دین کی خوبیوں کو بیان کیا۔ ان میں سب سے اہم اللہ عز و جل کی توحید اور مکارمِ اخلاق ہیں۔ آپ ﷺ نے اس کے سامنے ان باتوں کا ذکر کیا جو لوگوں کو اپنی عقل کی بنا پر بھی معلوم ہو جاتی ہیں کہ ان بتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ اسی لیے یہ صحابی اسلام قبول کرنے سے پہلے ہی یہ جانتے تھے کہ مشرکین کا طریقۂ عبادت باطل ہے اور وہ حق کے متلاشی تھے، اللہ تبارک وتعالی ان سے راضی ہو۔ چنانچہ جب وہ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ اللہ تعالی نے ان باتوں کے ساتھ آپﷺ کو مبعوث فرمايا ہے۔ اور فرمایا: اللہ نے مجھے صلہ رحمی کا حکم دینےکے لیے بھیجا ہے۔ صلہ رحمی مکارم اخلاق میں سے ہے۔ اہل مکہ یہ باتیں پھیلا رہے تھے کہ نبیﷺ قطع رحمی کا مقصد لے کر آئے ہیں۔ آپﷺ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ قطع رحمی کے ليے نہیں بلکہ صلہ رحمی کا حکم لے کر آئے ہیں۔ اور بتوں کو توڑنے کے لیے۔ یعنی اس چيز کو توڑنے کے لیے جس کی اللہ کو چھوڑ کر پوجا کی جاتی ہے۔ اوریہ کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی چيز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپﷺ سے پوچھا: اس کام پر آپ کے ساتھ اور کون ہے؟ یعنی آپ کے ساتھ اور کون ہے جو اس دین میں داخل ہوچکا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ایک آزاد شخص اور ایک غلام۔ آزاد شخص ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے جب کہ غلام بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ میں (بھی) آپ کا پیروکار ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم آج اس کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر وہ آپﷺ کی اتباع کرتے اور آپ ﷺ کے ساتھ مکہ میں رہنے کے لیے اپنی قوم کو چھوڑ دیتے تو آپﷺ انہیں کفار سے نہ بچا سکتے چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے کہا: مسلمان ہو کر اپنی قو م میں ہی رہو یہاں تک کہ یہ دین غالب آجائے۔ اس وقت تم آکر ہمارے ساتھ شامل ہو جانا۔ آپﷺ نے ایسا ہمدردی اور از راہِ شفقت و رحمت فرمایا کیونکہ یہ شخص کمزور تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: اس وقت تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھ رہے؟ یعنی یہ لوگ بہت زیادہ ہیں اور ہمیں اذیت دے رہے ہیں اور میرا ان پر کوئی بس نھیں چلتا، تو میں تمہارا دفاع کیسے کر سکوں گا؟! آپﷺ نے فرمایا: لھٰذا تم (ابھی) اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ، جب تم میری بابت سنو کہ میں غالب آ گیا ہوں تو پھر میرے پاس آنا۔ معنی یہ ہے کہ اپنے اسلام پر قائم رہو یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ میں غالب آ گیا ہوں تو اس وقت میرے پاس آنا۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے اہل خانہ کے پاس آگیا اور رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لے آئے اور میں اپنے اہل خانہ میں تھا۔ چنانچہ میں نے خبروں کی جستجو شروع کردی۔ کیونکہ اسلام ان کے دل میں گھر کر چکا تھا۔ وہ کہتے ہیں: اور جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لے آئے تو میں (آپ کی بابت) لوگوں سے پوچھتا رہتا۔ یہاں تک کہ ہمارے خاندان کے کچھ لوگ مدینہ سے آئے تو میں نے ان سے پوچھا: مدینہ آنے والے اس آدمی کا کیا ہوا؟ گویا کہ وہ اپنے اسلام کو پوشیدہ رکھ رہے تھے اور اپنی قوم کے ڈر کی وجہ سے اسے ظاہر نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: لوگ تو اس آدمی کی طرف بہت تیزی سے راغب ہو رہے ہیں ليكن خود اس کی اپنی قوم اسے قتل کر دینا چاہتی تھی لیکن وہ ایسا نہیں كر سکے۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ چلا آیا اور آپﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں۔ تم وہی ہو جو مجھے مکہ میں ملے تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپﷺ سے عرض کيا کہ اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وہ باتیں بتلائیں جو اللہ نے آپ کو سکھلائی ہیں اور میں ان سے ناواقف ہوں۔ وہ نبیﷺ سے پوچھ رہے ہیں کہ اسلام کے وہ کون سے احکام ہیں جو آپ پر نازل ہوئے ہیں۔ مجھے وہ کچھ سکھائیں جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے اور جس سے میں ناواقف ہوں۔ مجھے نماز کے بارے میں بتائیں؟ آپﷺ نے فرمایا: صبح کی نماز پڑھو۔ یعنی اس کے وقت میں اسے ادا کرو۔ پھر نماز سے رکے رہو۔ یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے۔ یعنی صبح کی نماز کے بعد کوئی نماز نہیں ہے۔ اس وقت تک نماز نہ پڑھو جب تک کہ سورج طلوع نہ ہوجائے۔ تاہم آیا جب سورج طلوع ہو رہا ہو تو اس وقت آدمی نفل نماز پڑھ سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: اس وقت تک نماز سے رکے رہو جب تک کہ سورج ایک نیزے کے بقدر بلند نہ ہو جائے۔ یعنی دیکھنے والے کی نگاہ ميں۔ سورج شیطان کے دو سینگوں کے مابین طلوع ہوتا ہے۔ سورج کے طلوع ہونے کے اس وقت میں کفار سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔ لھٰذا مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بالارادہ اس وقت تک نماز کو موخر کرے اور نہ ہی سورج کے طلوع ہونے کے وقت اس کے لیے نفل نماز پڑھنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے۔ جنتری میں آپ کو وقت الشروق لکھا ہوا ملے گا۔ یہاں مراد یہی وقت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: سورج جس وقت طلوع ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے مابین طلوع ہوتا ہے اور کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ نبی ﷺ نے ہمیں کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا۔ آپﷺ نے فرمایا: پھر تم نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں۔ یعنی دن کے فرشتے اس نماز میں حاضر ہوتے ہیں تاکہ اسے لکھ سکیں اور جس نے نماز پڑھی ہو اس کے حق میں گواہی دے سکیں۔ چنانچہ اس کا معنی وہی ہے جو ایک دوسری روایت کا ہے جس میں مشهودة مكتوبة کے الفاظ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہاں تک کہ سایہ (کم ہو کر) نيزے کے برابر ہو آجائے تو اس وقت نماز سے رک جاو۔ یعنی بوقت زوال جب سورج آسمان کے بالکل درمیان میں انسان کے سر کے عین اوپر آجاتا ہے اور سارا سایہ اس کے پاؤں تلے ہوجاتا ہے تو اس وقت کے بارے میں آپ ﷺ ان سے فرما رہے ہیں کہ اس میں نماز نہ پڑھو۔ یہ تقریبا اتنا وقت ہوتا ہے جس میں دو رکعتیں پڑھی جاسکتی ہیں۔ اس وقت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ نبیﷺ نے فرمایا: اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جس میں نماز پڑھنا حرام ہے۔ اس وقت میں آدمی کو انتظار کرنا چاہیے یہاں تک کہ نماز ظہر کے لیے اذان دے دی جائے۔ آپﷺ نے فرمایا: جب سایہ بڑھنے لگے۔ سایہ گھٹتا اور کم ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ آپ کے قدموں تلے آجاتا ہے اور پھر اس کے بعد آپ کے دوسری جانب منتقل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ظہر کی اذان کے وقت یہ سایہ مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہونے لگتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: جب سایہ بڑھنے لگے تو اس وقت نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو۔ یعنی عصر کے وقت تک فرض نماز بھی پڑھو اور نفل بھی۔ نماز پڑھنے کے لیے یہ وقت کھلا ہے اور اس میں آپ جتنی چاہیں نفل نماز پڑھیں۔ اس میں کوئی کراہت نہیں تاہم جب آپ عصر پڑھ لیں تو اس کے بعد سورج کے غروب ہو جانے تک نفل نماز نہ پڑھیں۔ پھر نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔ سورج غروب ہونے سے کچھ دیر قبل ایک دفعہ پھر سے وہ وقت آجاتا ہے جس میں نماز پڑھنا حرام ہے جیسا کہ سورج کے طلوع ہونے کے وقت تھا۔ یہاں حرمت کی علت یہ ہے کہ سورج جب غروب ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے مابین غروب ہوتا ہے۔ چنانچہ مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ نماز عصر کو جان بوجھ کر مغرب سے کچھ دیر پہلے تک موخر کرے، کیونکہ ایسا کرنے سے اس کی سورج پرست کفار کے ساتھ مشابہت ہو گی اور مسلمان ایسا کرنے یعنی نماز عصر کو اس وقت تک موخر کرنے کی صورت میں گویا کفار کی تقلید کرے گا۔ نبی ﷺ نے اسے منافقین کی نماز کا نام دیا ہے۔ کیونکہ منافق ہی ایسا کرتا ہے کہ سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب وہ زرد ہوجاتا ہے تو جلدی جلدی ٹھونگ مار کر چار رکعت پڑھ لیتا ہے اور اس میں بہت کم اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ چنانچہ کفار اور منافقین کی مشابہت سے بچیں اور نماز کو جان بوجھ کر سورج کے زرد پڑ جانے تک موخر کرنے سے پرہیز کریں۔ آپﷺ نے فرمایا: یہ شیطان کے دو سینگوں کے مابین غروب ہوتا ہے اور اس وقت کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ عمر و بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! وضو کے بارے میں بھی مجھے بتائیں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص بھی وضو کے پانی کو اپنے قریب کرکے کلی کرتا ہے اورناک میں پانی ڈال کر اسے جھاڑتا ہے،تو اس کے چہرے، منہ اور ناک کے سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ یعنی جب انسان وضو کرتا ہے تو پانی کا آخری قطرہ گرنے کے ساتھ اس کے گناہ بھی جھڑ جاتے ہیں۔ پھر عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو سنائی تو ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے عمرو بن عبسہ! دیکھو تم کیا بیان کر رہے ہو۔ ایک ہی جگہ پر اس آدمی کو اتنا ثواب مل جائے گا؟ یعنی انہیں یہ بہت زیادہ لگا کہ آدمی کو ایک ہی جگہ پر اتنا کچھ دے دیا جائے کہ جب وہ وضو کرے تو اس کے ساتھ اس کے سارے گناہ جھڑ جائیں اور پھر نماز پڑھ کر جب وہ فارغ ہو تو وہ اس طرح گناہوں سے پاک صاف ہو جائے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا کہ اس پر کوئی گناہ نہیں تھا۔ وہ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے ہیں کہ اچھی طرح سے یاد کرو کہ کہیں نبیﷺ کی فرمائی ہوئی کوئی بات تم بھول نہ گئے ہو۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے اس پر یہ جواب دیا کہ: اے ابو امامہ! میری عمر بڑی ہو گئی، میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور میری موت قریب آگئی ہے، اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ پر اور اللہ کے رسول ﷺ پر جھوٹ بولوں؟ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ نبیﷺ کے صحابہ آپﷺ پر یا اپنے رب سبحانہ وتعالی پر کوئی جھوٹی بات کہیں۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور نہ ہی مجھے اس بات کی کوئی ضرورت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھوں۔ اگر میں نے یہ حديث رسول اللہ ﷺ سے ایک مرتبہ، دو مرتبہ، تین مرتبہ،حتی کہ سات مرتبہ تک نہ سنی ہوتی تو میں کبھی یہ حدیث بیان نہ کرتا۔ یعنی آپﷺ نے یہ بات ایک دفعہ نہیں بلکہ سات دفعہ فرمائی۔ عربوں کے ہاں سات کا عدد کثرت پر دلالت کرتا ہے اور شاید نبیﷺ نے اس سے بھی زیادہ دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: لیکن میں نے تو اسے اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنی ہے۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ، الطبعة الرابع دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

مجھے اللہ کی راہ میں اس وقت ڈرایا گیا، جس وقت اور کوئی نہیں تھا جسے ڈرایا جاتا۔ مجھے اللہ کی راہ میں اس وقت ستایا گیا، جس وقت کوئی اور نہیں تھا جسے ستایا جاتا۔ میرے اوپر تیس دن اور رات ایسے گزرے کہ میرے اور بلال کے پاس کچھ نہیں تھا، جسے کوئی جاندار کھاتا ہو، سوائے اس کے جو بلال اپنی بغل میں چھپاکر رکھتے

عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لقد أُخِفتُ في الله وما يُخافُ أحد، ولقد أُوذيت في الله وما يُؤذَى أحد، ولقد أَتَتْ عليَّ ثلاثون مِن بيْن يوم وليلة وما لي ولِبِلال طعامٌ يَأْكُلُه ذُو كَبِد إلا شيءٌ يُوارِيه إبطُ بلال».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "مجھے اللہ کی راہ میں اس وقت ڈرایا گیا، جس وقت اور کوئی نہیں تھا جسے ڈرایا جاتا۔ مجھے اللہ کی راہ میں اس وقت ستایا گیا، جس وقت کوئی اور نہیں تھا جسے ستایا جاتا۔ میرے اوپر تیس دن اور رات ایسے گزرے کہ میرے اور بلال کے پاس کچھ نہیں تھا، جسے کوئی جاندار کھاتا ہو، سوائے اس کے جو بلال اپنی بغل میں چھپاکر رکھتے"۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حدیث میں بتایا ہے کہ جب آپ کھلے عام دین کی دعوت دینے لگے تو اس کی وجہ سے کافروں نے آپ کو ڈرایا اور ستایا اور اس وقت آپ کے ساتھ کوئی نہیں تھا، جو ان اذیتوں کو آپ کے ساتھ جھیلتا۔ ساتھ تھا تو بس اللہ کا اور حمایت تھی تو بس اسی کی اور اس سب کو جھیلنے کی توفیق بھی اسی اللہ کی دی ہوئی تھی۔ پھر بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو کھانے پینے کی چیزوں کی کمی اور محتاجی کا بھی سامنا تھا۔ حالت یہ تھی کہ تیس دن اس طرح گزر گئے کہ آپ کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا، سوائے تھوڑی بہت چیز کے جو بلال رضی اللہ عنہ کے پاس رہتی اور جسے وہ اپنی بغل کے نیچے چھپا کر رکھتے، کیوں کہ ان کے پاس کھانا رکھنے کے لیے برتن نہیں تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے، جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مکہ سے بھاگ کر نکلے تھے۔

حوالہ

- سنن الترمذي، نشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ - 1975م. - مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. - سنن ابن ماجه، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي. - مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م. - صحيح الجامع الصغير وزياداته، للألباني، نشر: المكتب الإسلامي. - فتح الباري شرح صحيح البخاري, أحمد بن علي بن حجر العسقلاني الشافعي, دار المعرفة - بيروت، 1379, رقم كتبه وأبوابه وأحاديثه: محمد فؤاد عبد الباقي, قام بإخراجه وصححه وأشرف على طبعه: محب الدين الخطيب. - الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد بن حنبل الشيباني ومعه بلوغ الأماني من أسرار الفتح الرباني, أحمد بن عبد الرحمن بن محمد البنا الساعاتي, دار إحياء التراث العربي, الطبعة: الثانية.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مشرکین مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا، جو انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کی تھی، تو انھوں نے بتلایا: میں نے دیکھا کہ عقبہ بن ابی معیط آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ اس بدبخت نے اپنی چادر آپ کی گردن مبارک میں ڈالی اور اس کے ذریعے آپ ﷺ کا گلا سختی سے گھونٹنے لگا۔

عن عُروة بن الزبير، قال: سألتُ عبد الله بن عمرو عن أشد ما صنع المشركون برسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال: رأيتُ عُقبة بن أبي مُعَيْط جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يصلي، فوضع رداءه في عنقه فخنقه به خنقًا شديدًا، فجاء أبو بكر حتى دفعه عنه، فقال: {أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ} [غافر: 28].
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مشرکین مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا، جو انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کی تھی، تو انھوں نے بتلایا: میں نے دیکھا کہ عقبہ بن ابی معیط آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ اس بدبخت نے اپنی چادر آپ کی گردن مبارک میں ڈالی اور اس کے ذریعے آپ ﷺ کا گلا گھونٹنے لگا۔ اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، اس بدبخت کو ہٹایا اور کہا: ﴿أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ ”کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو، جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمھارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سےکھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے؟“۔ (سورہ غافر: 28)
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

عروہ بن زبیر بن عوام رحمہ اللہ نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ ﷺکی تکلیف واذیت کے متعلق مشرکینِ مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے بتلایا کہ انھوں نے دیکھا کہ عقبہ بن ابی معیط آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ ﷺ اس وقت حجر کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ اس بدبخت نےاپنا کپڑا یا خود نبی ﷺ کا کپڑا آپ کی گردن مبارک میں ڈال دیا اور اسے بڑی سختی کے ساتھ گھونٹا۔ اتنے میں ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور عقبہ کو نبی ﷺ سے دفع کیا۔ وہ روتے ہوئےکہہ رہے تھے: ”کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو، جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمھارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیلیں بھی لے کرآیا ہے؟“ ( سورہ غافر:۲۸) یہ سب سے سخت تکلیف تھی، جسے عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تھا؛ جب کہ عروہ اس سے زیادہ تکلیف دہ حرکت سے با خبر تھے۔ ان کا بیان ہے کہ نبیﷺکی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انھوں نے نبی ﷺسے پوچھا کہ کیا آپ پر کوئی دن اُحد کے دن سے بھی زیادہ سخت گزرا ہے؟ آپﷺ نے اس پر فرمایا: ”تمھاری قوم (قریش) کی طرف سے میں نے کتنی ہی مصیبتیں اٹھائی ہیں، لیکن اس سارے دور میں عقبہ کا دن مجھ پر سب سے زیادہ سخت تھا۔ یہ وہ موقع تھا، جب میں نے (طائف کے سردار) کنانہ بن عبد یا لیل بن عبد کُلال کے ہاں اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔ لیکن اس نے (اسلام قبول نہیں کیا اور) میری دعوت کو رد کر دیا۔ میں وہاں سے انتہائی رنجیدہ (اور زخموں سے چور) ہو کر واپس ہوا۔ جب میں قرن الثعالب پہنچا، تب مجھے کچھ ہوش آیا۔ میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بدلی کا ایک ٹکڑا میرے اوپر سایہ کئے ہوئے ہے اور میں نے دیکھا کہ جبریل علیہ السلام اس میں موجود ہیں۔ انھوں نے مجھے آوازدی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے بارے میں آپ کی قوم کی باتیں اور ان کا جواب سن چکا ہے۔ آپ کے پاس اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے۔ آپ ان کے بارے میں جو چاہیں، حکم دے دیں۔ اس کے بعد مجھے پہاڑوں کے فرشتے نےآوازدی۔ انھوں نے مجھے سلام کیا اور کہا کہ اے محمد (ﷺ)! پھر انھوں نے بھی وہی بات کہی؛ آپ جو چاہیں (اس کا مجھے حکم فرمائیں)، اگر آپ چاہیں تو میں دونوں طرف کے پہاڑ ان پر لا کر ملا دوں، (جن سے وہ چکنا چور ہو جائیں) ایسے موقعے پر نبیﷺ نے فرمایا: ”مجھے تو اس کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسی اولاد پیدا کرے گا، جو اکیلے اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائے گی“۔ (متفق علیہ)

حوالہ

صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. عمدة القاري شرح صحيح البخاري، لمحمود بن أحمد بن موسى الحنفى بدر الدين العينى، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، لأحمد بن محمد بن أبى بكر بن عبد الملك القسطلاني القتيبي المصري، الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر، الطبعة: السابعة، 1323 هـ. معجم اللغة العربية المعاصرة، للدكتور أحمد مختار عبد الحميد عمر بمساعدة فريق عمل، الناشر: عالم الكتب، الطبعة: الأولى، 1429 هـ - 2008 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com