سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

آپ ﷺ کی اولاد

3 احادیث

اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر، جو اس سے محبت کرے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: كنتُ مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سوق من أسواق المدينة، فانصرف فانصرفتُ، فقال: «أين لُكَعُ -ثلاثا- ادعُ الحسن بن علي». فقام الحسن بن علي يمشي وفي عنقه السِّخَاب، فقال النبي صلى الله عليه وسلم بيده هكذا، فقال الحسن بيده هكذا، فالتزمه فقال: «اللهم إني أُحبه فأَحبَّه، وأَحبَّ من يحبه». وقال أبو هريرة: فما كان أحد أحب إليَّ من الحسن بن علي، بعد ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قال.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مدینے کے بازاروں میں سے ایک بازار میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۔ آں حضرت ﷺ واپس ہوئے، تو میں آ پ کے ساتھ واپس ہوا۔ پھر آپ نے فرمایا: بچہ کہاں ہے؟ -یہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا- حسن بن علی کو بلاؤ۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہما آرہے تھے اور ان کی گردن میں ہار تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ اس طرح پھیلا یا ( آپ حسن رضی اللہ عنہ کو گلے سے لگانے کے لیے)، حسن رضی اللہ عنہ نے بھی اپنا ہاتھ پھیلایا اور وہ آں حضرت ﷺ سے لپٹ گئے۔ پھر آپ ﷺنے فرمایا: اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت کر اور ان سے بھی محبت کر، جو اس سے محبت رکھیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کے بعد کوئی بھی شخص حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ مجھے پیارا نہیں تھا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینے کے کسی بازار میں تھے، آپ بازار سے واپس ہوئے تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ میں لوٹ آئے۔ رسول اللہ ﷺ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئے اور ان سے حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھتے ہوئے فرمایا: «أين لكع» یعنی چھوٹا بچہ کہاں ہے؟ میرے پاس لاؤ۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور چلنا شروع کر دیا۔ ان کے گلے میں ایک ہار تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ پھیلائے تاکہ حسن رضی اللہ عنہ کو گلے لگائیں اور حسن رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے ہاتھ پھیلادیے۔ دونوں نے معانقہ کیا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے اللہ ! میں حسن (رضی اللہ عنہ) سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت کر اور جو اس سے محبت کر ے، اس سے بھی محبت فرما! ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کے بعد کوئی شخص بھی حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ مجھے پیارا نہیں تھا۔

حوالہ

صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة، (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. الإفصاح عن معاني الصحاح، ليحيى بن هبيرة الذهلي الشيباني، المحقق: فؤاد عبد المنعم أحمد، الناشر: دار الوطن، سنة النشر: 1417هـ. إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، لأحمد بن محمد المصري، الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر، الطبعة: السابعة، 1323 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ابراہیم میرا بیٹا ہے، وہ شیرخوارگی کی حالت میں فوت ہوا، اس کے لیے دو دایہ متعین کی گئی ہیں جو جنت میں اس کی مدتِ شِیر خوارگی کو پورا کررہی ہیں۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: «ما رأيتُ أحدا كان أرحم بالعِيال من رسول الله صلى الله عليه وسلم »، قال: «كان إبراهيم مُسْتَرضَعًا له في عَوَالي المدينة، فكان ينطلق ونحن معه، فيدخل البيت وإنه ليُدَخَّن، وكان ظِئْره قَيْنًا، فيأخذه فيُقبِّله، ثم يرجع». قال عمرو: فلما تُوفي إبراهيم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن إبراهيم ابني، وإنه مات في الثَّدي، وإن له لظِئْرين تُكمِلان رضاعه في الجنة».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو اپنے اہل وعیال پر مہربان اور شفیق نہیں دیکھا۔ انس رضی اللہ عنہ مزید بیان کرتے ہیں کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ مدینہ کے بالائی حصے میں دودھ پلانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ آپ ﷺ وہاں جایا کرتے تھے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے۔ آپ ﷺ گھر میں داخل ہو جاتے جو دھویں سے بھرا ہوتا کیونکہ دایہ کا شوہر لوہار تھا۔ پھر آپ ﷺ اپنے بیٹے کو لے کر اسے چومتے اور واپس لوٹ آتے۔ عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابراہیم میرا بیٹا ہے اور وہ شیرخوارگی کی حالت میں فوت ہوا ہے، اس کے لیے دو دایہ مقرر ہیں جو جنت میں اس کی مدتِ رضاعت کو پورا کر رہی ہیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو اپنے اہل و عیال اور چھوٹے بچوں پر رسول اللہ ﷺ سے زیادہ شفیق اور مہربان ہو۔ نبی ﷺ کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو مدینہ کے قریب آباد ایک بستی کی دایہ دودھ پلایا کرتی تھی۔ نبی ﷺ ابراہیم کی زیارت کے لیے وہاں جایا کرتے اور آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے کچھ صحابہ بھی ہوتے۔ آپ ﷺ گھر میں داخل ہوتے تو گھر دھویں سے بھرا ہوتا تھا کیونکہ دایہ کا شوہر لوہار تھا۔ نبی ﷺ ابراہیم رضی اللہ عنہ کو اٹھاتے، انہیں پیار کرتے اور واپس لوٹ آتے۔جب ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابراہیم میرا بیٹا ہے، وہ شِیرْخوارگی کی حالت میں فوت ہو گیا ہے، جنت میں دو دایہ اس کی مدت رضاعت پورا کرنے کے لیے اسے دودھ پلا رہی ہیں تاکہ دو سال مکمل ہو جائیں۔ کیونکہ ابراہیم رضی اللہ عنہ جب فوت ہوئے تو ان کی عمر سولہ یا سترہ ماہ تھی۔ دو سال میں سے جو مدت باقی رہ گئی اسے پورا کرنے کے لیے وہ دونوں دایہ انہیں دودھ پلا رہی تھیں کیونکہ قرآن کی رو سے مدت رضاعت دو سال ہے۔ یہ ابراہیم رضی اللہ عنہ اور ان کے والد ﷺ کے لیے اللہ کی طرف سے بطورِ اکرام تھا۔

حوالہ

صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، أبو زكريا محيي الدين النووي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: الثانية 1392هـ. إكمال المعلم بفوائد مسلم، عياض بن موسى اليحصبي السبتي، المحقق: يحيى إسماعيل، الناشر: دار الوفاء للطباعة والنشر والتوزيع، مصر، الطبعة: الأولى، 1419هـ، 1998م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی ہے۔

عن البراء رضي الله عنه قال: لما تُوفِّي إبراهيم -عليه السلام-، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إنَّ له مُرْضِعًا في الجنة».
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی وفات ہوئی، تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”ان کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی ہے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

رسول اللہ ﷺ کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا جو کہ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھے، وفات کے وقت ان کی عمر اٹھارہ ماہ کی تھی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں ان کے لیے ایک دودھ پلانے والی کو مقرر کر رکھا ہے، جو انہیں دودھ پلائے گی اور ان کے ایامِ رضاعت کو پورا کرے گی۔

حوالہ

صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ. منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، لحمزة محمد قاسم، راجعه: الشيخ عبد القادر الأرناؤوط، عني بتصحيحه ونشره: بشير محمد عيون، الناشر: مكتبة دار البيان، دمشق - الجمهورية العربية السورية، مكتبة المؤيد، الطائف -المملكة العربية السعودية- عام النشر: 1410 هـ - 1990 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com