میں چل رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، میں نے اپنی نظر اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس حرا میں آیا تھا
نبی ﷺ نے اپنی بعثت کے ابتدائی زمانے میں وحی کے رک جانے اور اس کے نزول کے بند ہو جانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں مکہ کی گلیوں میں چل رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، تو میں نے اپنی نگاہ اٹھائی، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جبرئیل علیہ السلام جو میرے پاس غارِ حراء میں تشریف لائے تھے، آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر تشریف فرما ہیں، جس پر میں ان سے مرعوب اور خوف زدہ ہو گیا، چنانچہ میں اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آیا اور کہا: ”مجھے کپڑا اوڑھا دو۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: {يَا أَيُّهَا المُدَّثِّرُ} یعنی اپنے کپڑوں میں لپٹنے والے، {قُمْ} دعوت کے لیے کھڑے ہو جائیے {فَأَنْذِرْ} اور ان کو خبردار کیجیے جو آپ کی رسالت پر ایمان نہیں لائے ہیں۔ {وَرَبَّكَ} اپنے معبود کی، {فَكَبِّرْ} حمد وعظمت بیان کریں۔ {وَثِيَابَكَ} اپنے لباس کو {فَطَهِّرْ} نجاستوں سے پاک صاف رکھیں، {وَالرُّجْزَ} بتوں اور مورتیوں کی عبادت کو {فَاهْجُرْ} چھوڑ دیں، اس کے بعد وحی میں تیزی آگئی اور کثرت سے نازل ہونے لگی۔
- اللہ عز و جل کے فرمان {اقْرَأْ} کے نزول کے بعد نبی ﷺ پر وحی کا سلسلہ کچھ عرصے کے لیے منقطع ہو گیا۔
- آزمائشوں کے زائل ہو جانے کے بعد، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے ان کا تذکرہ کرنے کا جواز۔
- {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} کے نزول کے بعد سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا فرمان {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ} نازل ہوا۔
- اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا اپنے نبی ﷺ پر فضل کہ آپ ﷺ پر بغیر انقطاع کے وحی نازل فرماتا رہا، یہاں تک کہ آپ ﷺ دنیا کو چھوڑ گئے۔
- دعوت الی اللہ کو قائم کرنے، اعراض کرنے والوں کو ڈرانے اور اطاعت گزاروں کو بشارت دینے کا وجوب۔
- نماز کے لیے کپڑوں کو پاک صاف کرنا واجب ہے، اس پر اللہ تعالی کے فرمان {وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ} سے استدلال کیا گیا ہے۔
- فرشتوں پر اور ان اعمال وغیرہ پر جن کی اللہ نے انہیں قدرت دی ہے، ایمان لانا واجب ہے۔
صحيح البخاري (1/ 7-8) (4). صحيح مسلم (1/ 98) (161). البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (4/ 430). إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري (1/ 67).