اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے حدود پر قائم رہنے والوں، اس کے احکامات کی تعمیل کرنے والوں، بھلائی کا حکم دینے والوں اور برائی سے روکنے والوں کی ایک عمدہ مثال پیش کی ہے۔ اور اللہ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والوں، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے سے گریز کرنے والوں اور غلط کام کرنے والوں اور سماج کی نجات پر مرتب ہونے والے اس کے اثرات کی مثال ایک ایسی قوم سے پیش کی جو کشتی پر سوار ہوئے اور اس بات کے لیے قرعہ اندازی کی کہ کون کشتی کے بالائی حصے میں سوار ہوگا اور کون زیریں حصے میں۔ چنانچہ کچھ لوگوں کے حصے میں بالائی حصہ آیا اور کچھ لوگوں کے حصے میں زیریں حصہ۔ (چوں کہ پانی کا انتظام بالائی حصے میں تھا، اس لیے) زیریں حصے والوں کو پانی حاصل کرنے کے لیے بالائی حصے والوں سے ہوکر گزرنا پڑتا تھا۔ ایسے میں زیریں حصے والوں نے سوچا کہ اگر پانی حاصل کرنے کے لیے زیريں حصے میں ایک سوراخ کر لیں، تو بہتر ہو۔ اس طرح ہم بالائی حصے والوں کو تکلیف میں ڈالنے سے بچ سکتے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں بالائی حصے والوں نے اگر زیريں حصے والوں کا ہاتھ نہ پکڑا اور ان کو سوراخ کرنے سے نہ روکا، تو کشتی ڈوب جائے گی اور سارے لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔ جب کہ اگر ان کا ہاتھ پکڑ لیا، تو سارے لوگ بچ جائيں گے۔
- سماج کی حفاظت اور نجات میں بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی اہمیت۔
- تعلیم دینے کا ایک طریقہ مثال پیش کرنا ہے۔ اس سے غیر محسوس چیزوں کو محسوس چیزوں کے لباس میں پیش کیا جا سکتا ہے تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔
- غلط کام ہوتے ہوئے دیکھنا اور اس کا انکار نہ کرنا ایسی برائی ہے، جس کا نقصان پورے سماج کو ہوتا ہے۔
- غلط کام کرنے والوں کو زمین میں فساد پھیلانے کی چھوٹ دینا سماج کو ہلاکت کی جانب لے جاتا ہے۔
- غلط کام اچھی نیت سے کرنے سے وہ کام صحیح نہیں ہو جاتا۔
- مسلم سماج کی اصلاح کی ذمے داری تمام لوگوں پر عائد ہوتی ہے، کسی ایک شخص پر نہیں۔
- مخصوص لوگوں کے گناہ کا عذاب عام لوگوں کو بھی جھیلنا پڑ سکتا ہے، اگر ان کو گناہ سے روکا نہ جائے۔
- غلط کام کرنے والے ایسا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے غلط کام سماج کے لیے بہتر ہیں۔ ایسا منافق بھی کرتے ہیں۔
صحيح البخاري (3/ 139) (2493). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 277). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص149). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 430). كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (4/ 39). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 210).