عن أبي سعيد الخدري وأبي هريرة رضي الله عنهما مرفوعاً: "ما بعث الله من نبي ولا اسْتَخْلَفَ من خليفة إلا كانت له بطانتان: بطانة تأمره بالمعروف وتَحُضُّهُ عليه، وبطانة تأمره بالشر وتَحُضُّهُ عليه، والمعصوم من عصم الله".
ابوسعید خدری - رضی اللہ عنہ - سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا اور نہ کوئی خلیفہ ایسا بنایا جس کے دو مشیر (قریبی راز دار) نہ ہوں۔ایک مشیر اسے خیر و بھلائی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا اسے شر اور برے کام کا حکم دیتا اور اس پر ابھارتا ہے، اور برائیوں سے معصوم و محفوظ تو وہی ہوسکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ معصوم و محفوظ رکھے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا اور نہ کوئی خلیفہ ایسا بنایا جس کے دو مشیر (قریبی راز دار) نہ ہوں۔ ایک مشیر اسے خیر و بھلائی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا اسے شر اور برے کام کا حکم دیتا اور اس پر ابھارتا ہےاور برائی کے مشیر کی تاثیر سے وہی شخص بچ سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔
حوالہ
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1418 هـ، 1997م.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ، 1987م.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ، 2007م.
شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جہاد کی ایک بہت بڑی شکل ظالم حکمراں کے سامنے انصاف کی بات کرنا ہے۔"
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمددرجہحسن لغيره
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کی ایک عظیم ترین اور نفع بخش ترین قسم کسی ظالم و جابر حکمراں کے سامنے انصاف اور حق کی بات کرنا ہے۔ کیوں کہ یہ اچھے کام کا حکم دینے اور برے کام سے روکنے میں داخل ہے۔ اسے قول، تحریر، فعل یا کسی اور طریقے سے کیا جا سکتا ہے، جس سے مصلحت حاصل ہو جائے اور برائی سے بچا جا سکے۔
فوائد
بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی جہاد ہے۔
حکمراں کو نصیحت کرنا ایک عظیم ترین جہاد ہے، لیکن یہ کام علم و بصیرت اور حکمت کے ساتھ ہونا چاہیے۔
خطابی کہتے ہيں : یہ افضل ترین جہاد اس لیے ہے کہ دشمن سے جہاد کرنے والے کے سامنے امید اور خوف دونوں چیزیں رہتی ہيں۔ اسے ہار جیت کا پتہ نہيں رہتا۔ جب کہ حکمراں کے سامنے حق بولنے والا اس کے زیر عتاب آ سکتا ہے۔ حکمراں کے سامنے حق گوئی اور امر بالمعروف کے فریضے کی انجام دہی ایک طرح سے خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ لہذا یہ خوف کے غلبے کی وجہ سے افضل ترین جہاد ہے۔ کچھ لوگوں کے مطابق اسے افضل ترین جہاد اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ حکمراں نے اگر بات مان لی، تو ہو سکتا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ فیض یاب ہوں۔
حوالہ
سنن الترمذي (4/ 45) (2174).
سنن أبي داود (6/ 400) (4344).
سنن ابن ماجه (5/ 144) (4011).
مسند أحمد (17/ 227) (11143).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 283).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 453).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 216).
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’اللہ کے حدود پر قائم رہنے والوں اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کی مثال ایسے لوگوں کی سی ہے جنہوں نے ایک کشتی میں جگہ کی تعیین کے لیے قرعہ اندازی کی، جس کے نتیجہ میں کچھ لوگوں نے کشتی کے اوپر والے حصے میں اور کچھ لوگوں نے نیچے والے حصے میں جگہ حاصل کی۔ جو لوگ نیچے والے حصے میں تھے، انہیں پانی لینے کے لیے اوپر والوں کے پاس سے گزرنا پڑتا۔ لہذا انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ ہم اپنے ہی حصہ میں ایک سوراخ کر لیں، تاکہ اوپر والوں کو ہم کوئی تکلیف نہ دیں ۔ اب اگر اوپر والے نیچے والوں کو من مانی کرنے دیں گے، تو سب کے سب ہلاک ہو جائیں گے اور اگر اوپر والے نیچے والوں کا ہاتھ پکڑلیں گے (اور انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے) تو یہ خود بھی بچ جائیں گے اور باقی لوگ بھی بچ جائیں گے"۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے حدود پر قائم رہنے والوں، اس کے احکامات کی تعمیل کرنے والوں، بھلائی کا حکم دینے والوں اور برائی سے روکنے والوں کی ایک عمدہ مثال پیش کی ہے۔ اور اللہ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والوں، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے سے گریز کرنے والوں اور غلط کام کرنے والوں اور سماج کی نجات پر مرتب ہونے والے اس کے اثرات کی مثال ایک ایسی قوم سے پیش کی جو کشتی پر سوار ہوئے اور اس بات کے لیے قرعہ اندازی کی کہ کون کشتی کے بالائی حصے میں سوار ہوگا اور کون زیریں حصے میں۔ چنانچہ کچھ لوگوں کے حصے میں بالائی حصہ آیا اور کچھ لوگوں کے حصے میں زیریں حصہ۔ (چوں کہ پانی کا انتظام بالائی حصے میں تھا، اس لیے) زیریں حصے والوں کو پانی حاصل کرنے کے لیے بالائی حصے والوں سے ہوکر گزرنا پڑتا تھا۔ ایسے میں زیریں حصے والوں نے سوچا کہ اگر پانی حاصل کرنے کے لیے زیريں حصے میں ایک سوراخ کر لیں، تو بہتر ہو۔ اس طرح ہم بالائی حصے والوں کو تکلیف میں ڈالنے سے بچ سکتے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں بالائی حصے والوں نے اگر زیريں حصے والوں کا ہاتھ نہ پکڑا اور ان کو سوراخ کرنے سے نہ روکا، تو کشتی ڈوب جائے گی اور سارے لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔ جب کہ اگر ان کا ہاتھ پکڑ لیا، تو سارے لوگ بچ جائيں گے۔
فوائد
سماج کی حفاظت اور نجات میں بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی اہمیت۔
تعلیم دینے کا ایک طریقہ مثال پیش کرنا ہے۔ اس سے غیر محسوس چیزوں کو محسوس چیزوں کے لباس میں پیش کیا جا سکتا ہے تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔
غلط کام ہوتے ہوئے دیکھنا اور اس کا انکار نہ کرنا ایسی برائی ہے، جس کا نقصان پورے سماج کو ہوتا ہے۔
غلط کام کرنے والوں کو زمین میں فساد پھیلانے کی چھوٹ دینا سماج کو ہلاکت کی جانب لے جاتا ہے۔
غلط کام اچھی نیت سے کرنے سے وہ کام صحیح نہیں ہو جاتا۔
مسلم سماج کی اصلاح کی ذمے داری تمام لوگوں پر عائد ہوتی ہے، کسی ایک شخص پر نہیں۔
مخصوص لوگوں کے گناہ کا عذاب عام لوگوں کو بھی جھیلنا پڑ سکتا ہے، اگر ان کو گناہ سے روکا نہ جائے۔
غلط کام کرنے والے ایسا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے غلط کام سماج کے لیے بہتر ہیں۔ ایسا منافق بھی کرتے ہیں۔
حوالہ
صحيح البخاري (3/ 139) (2493).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 277).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص149).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 430).
كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (4/ 39).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 210).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com