علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں ایک ایسا شخص تھا کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے کوئی حدیث سنتا، تو اس سے اللہ مجھے جتنا فائدہ پہنچانا چاہتا، پہنچاتا۔ جب آپ کا کوئی صحابی مجھے کوئی حدیث سناتا، تو میں اسے قسم کھانے کو کہتا۔ جب وہ میرے کہنے پر قسم کھا لیتا، تو میں اس کی بات کی تصدیق کرتا۔ مجھے ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے اور انھوں نے سچ کہا ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہوئے سنا ہے : "کوئی بھی بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے، پھر کھڑے ہوکر طہارت حاصل کرتا ہے، پھر نماز پڑھتا ہے، پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے، تو اللہ اس کی مغفرت کر دیتا ہے"۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ} (اور جب کبھی وہ کوئی بڑا گناہ کر جائیں یا اپنے اوپر ظلم کر بیٹھیں، تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پھر اللہ سے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں) (سورہ آل عمران : 135)
رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب کوئی بندہ کوئی گناہ کرتا ہے، پھر اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر کھڑے ہوکر اپنے اس گناہ سے توبہ کرنے کی نیت سے دو رکعت نماز پڑھتا ہے اور پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے، تو اللہ اس کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آیت کریمہ پڑھی : {والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله فاستغفروا لذنوبهم ومن يغفر الذنوب إلا الله ولم يصروا على ما فعلوا وهم يعلمون} (اور جب کبھی وہ کوئی بڑا گناہ کر جائیں یا اپنے اوپر ظلم کر بیٹھیں، تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پھر اللہ سے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کون ہے، جو گناہوں کی مغفرت فرمائے؟ اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اڑے نہیں رہتے۔) (سورہ آل عمران : 135)
فوائد
گناہ ہو جانے کے بعد نماز پڑھنے اور اللہ سے بخشش طلب کرنے کی ترغیب۔
اللہ کی بے پایاں بخشش اور یہ کہ اللہ توبہ واستغفار کو قبول فرماتا ہے۔
حوالہ
سنن أبي داود (2/ 630) (1521)، سنن الترمذي (1/ 431) (406)، السنن الكبرى للنسائي (10/ 51) (11012)، سنن ابن ماجه (2/ 403) (1395)، مسند أحمد (1/ 179) (2)، فتح الباري لابن حجر (11/ 99)، النهاية في غريب الحديث والأثر (ص 674).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com