سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اس بدکاری سے بچو، جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔ لیکن جس سے یہ گناہ سرزد ہو جائے، وہ اللہ کے پردے میں چھپ جائے اور اللہ کے سامنے توبہ کرے۔ کیونکہ جو ہمارے سامنے اپنے گناہ کو ظاہر کرے گا، ہم اس پر اللہ عز وجل کی کتاب میں مذکور حد جاری کريں گے"۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ بَعْدَ أَنْ رَجَمَ الْأَسْلَمِيَّ فَقَالَ: «اجْتَنِبُوا ‌هَذِهِ ‌الْقَاذُورَةَ الَّتِي نَهَى اللَّهُ عَنْهَا فَمَنْ أَلَمَّ فَلْيَسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللَّهِ وَلْيُتُبْ إِلَى اللَّهِ، فَإِنَّهُ مَنْ يُبْدِ لْنَا صَفْحَتَهُ نُقِمْ عَلَيْهِ كِتَابَ اللَّهِ عز وجل».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اسلمی کو سنگ سار کرنے کے بعد کھڑے ہوئے اور فرمایا : "اس بدکاری سے بچو، جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔ لیکن جس سے یہ گناہ سرزد ہو جائے، وہ اللہ کے پردے میں چھپ جائے اور اللہ کے سامنے توبہ کرے۔ کیونکہ جو ہمارے سامنے اپنے گناہ کو ظاہر کرے گا، ہم اس پر اللہ عز وجل کی کتاب میں مذکور حد جاری کريں گے"۔
اسے حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔درجہصحيح
تشریح

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ پر زنا کی حد نافذ کرنے کے بعد کھڑے ہوئے، لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : اس گندے کام اور اس طرح کے دیگر گندے کاموں سے بچو۔ لیکن اگر کسی سے اس طرح کا کوئی کام سرزد ہو جائے، تو اس پر دو چیزیں واجب ہيں : 1- چوں کہ اللہ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈال رکھا ہے، اس لیے اس پردے کو ڈلا ہوا رہنے دے اور کسی کو نہ بتائے۔ 2- فوراً توبہ کر لے اورگناہ پر مصر نہ رہے۔ کیوں کہ جس کا گناہ ہمارے سامنے آ جائے گا، ہم اس پر اللہ کی کتاب میں مذکور اس گناہ کی حد نافذ کریں گے۔

فوائد
  1. کوئی گناہ ہو جانے پر اسے لوگوں کے سامنے لانے سے بچنے اور چپ چاپ اللہ کے سامنے توبہ کرنے کی ترغیب۔
  2. گناہ کی اطلاع جب حکمراں کو مل جائے، تو اسے اس کی شرعی حد نافذ کرنی پڑے گی۔
  3. گناہوں سے بچنا اور ان سے توبہ کرنا ضروری ہے۔
حوالہ

المستدرك على الصحيحين للحاكم (4/ 272) (7615). السنن الكبرى للبيهقي (8/ 572). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (8/ 435). فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (5/ 370). توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام (6/ 249). شرح الزرقاني على موطأ الإمام مالك (4/ 235).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
توبہ :

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com