حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان بہر صورت زنا کرتا ہے، سوائے اس کے جسے اللہ بچائے، پھر اللہ کے نبی ﷺ نے اس کی کئی مثالیں ذکر کیں: ”فالعين زناها النظر“ یعنی جب کوئی مرد کسی عورت کو دیکھے، اگرچہ بغیر شہوت کے ہو اور وہ عورت اس کی محرمات میں سے نہ ہو، تو یہ بھی زنا کی ایک قسم ہے۔ یہ آنکھوں کا زنا ہے۔ ”والأُذنان زِناهما الاستماع“ یعنی انسان کا کسی اجنبی عورت کی گفتگو سن کر اس کی آواز سے لطف اندوز ہونا۔ یہ کانوں کا زنا ہے۔ ”اليد زناها البَطْش“ ہاتھ سے چھونا وغیرہ۔ یہ ہاتھ کا زنا ہے۔ ”والرِجل زناها الخُطا“ یعنی انسان کا فُحش کاموں والی جگہ کی طرف جانا یا عورت کی آواز سننے جانا یا کسی عورت کو دیکھ کر اس کا پیچھا کرنا، یہ سب زنا کی قسمیں ہیں۔ ”والقلب يَهْوَى ويتمنى“ یعنی دل کا عورتوں کی طرف میلان۔ یہ بھی دل کا زنا ہے۔ ”والفرج يصدِّق ذلك أو يُكذِّبه“ یعنی جب انسان شرم گاہ کے ذریعے زنا کرتا ہے-اللہ کی پناہ- تو یہ ان اعضا کے زنا کی تصدیق ہے۔ اگر وہ شرم گاہ کے ذریعے زنا نہ کرے، بلکہ محفوظ رہے، تو یہ ان اعضا کی تکذیب ہے۔ یہ حدیث عورتوں سے بچے رہنے پر دلالت کرتی ہے کہ نہ ان کی آواز سنی جائے، نہ ان کی طرف دیکھا جائے، نہ چُھوا جائے، نہ ان کی طرف جانے کی کوشش کی جائے اور نہ ان کی طرف قلبی میلان کیا جائے۔ یہ سب زنا کی قسمیں ہیں -اللہ کی پناہ- اس لیے عقل مند اور پاک دامن انسان کو ان اعضا سے متعلق ایسی تمام چیزوں سے بچنا چاہیے، جو کسی بھی طرح عورتوں سے تعلق کا سبب بنتی ہیں۔
نزهة المتقين، تأليف: مصطفى الخن، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ. كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر العمار ، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ. بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م. صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ. صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ. شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، 1426 هـ.