سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

قرآن کی قراءت اور اس کے حفاظ سے متعلق آداب

7 احادیث

مجھ سے نبی ﷺ نے فرمایا: «مجھے تلاوت سناؤ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضيَ اللهُ عنهُ قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ عَلَيَّ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَأَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى أَتَيْتُ إِلَى هَذِهِ الآيَةِ: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ، وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا} [النساء: 41]، قَالَ: «حَسْبُكَ الآنَ» فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ، فَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ.
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے نبی ﷺ نے فرمایا: «مجھے تلاوت سناؤ»، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا میں آپ کو سناؤں جب کہ یہ آپ ہی پر نازل ہوا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’ہاں‘‘۔ چنانچہ میں نے سورہ نساء کی تلاوت کی یہاں تک کہ میں اس آیت پر پہنچا: (کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہر امت میں سے ہم ایک ایک گواه لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواه بنا کر لائیں گے) [النساء: 41]، تو آپﷺ نے فرمایا: ’’اب بس کرو‘‘۔ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

نبی ﷺ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ انہیں قرآن میں سے کچھ پڑھ کر سنائیں۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! میں آپ کو کیسے پڑھ کر سناؤں جب کہ یہ آپ ہی پر نازل ہوا ہے؟! آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اسے اپنے علاوہ کسی اور سے سننا چاہتا ہوں“۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے سامنے سورہ نساء کی کچھ آیتیں تلاوت کی، یہاں تک کہ جب وہ اللہ تعالی کے اس فرمان پر پہنچے: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ، وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا}۔ یعنی آپ کا اور آپ کی امت کا کیا حال ہوگا جب ہم آپ کو آپ کی امت پر گواہ بنا کر لائیں گے کہ آپ نے ان تک اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اب تلاوت روک دو۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو اس موقف کی ہیبت اور اپنی امت پر شفقت کے سبب آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

فوائد
  1. نووی کہتے ہيں: تلاوت کو سننا، اس کی طرف کان لگانا، اس وقت رونا اور اس میں غور وفکر کرنا مستحب ہے۔ کسی دوسرے سے تلاوت کرنے کی درخواست کرنا تاکہ اسے سنے، یہ بھی مستحب ہے، اور یہ خود تلاوت کرنے کے مقابلے میں سمجھنے اور غور وفکر کرنے میں زیادہ مؤثر ہے۔
  2. قرآن کی تلاوت کی طرح اسے سننے میں بھی ثواب ہے۔
  3. عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فضیلت، رسول اللہ ﷺ نے ان سے تلاوت سننے کی خواہش ظاہر کی، یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قرآن سیکھنے، اسے حفظ کرنے اور اس میں مہارت حاصل کرنے کی حرص پر دلالت کرتا ہے۔
  4. اللہ عزوجل کی آیات سنتے وقت اس کے خوف سے رونے کی فضیلت، نیز (تلاوت کے وقت) وقار وسکینت کو لازم پکڑنے، اچھی طرح خاموشی اختیار کرنے اور چیخ و پکار نہ کرنے کی فضیلت۔
حوالہ

صحيح البخاري (6/ 196) (5050). صحيح مسلم (1/ 551) (800). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (7/ 133). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 515). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 402). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 342).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

حافظ قرآن کی مثال رسی سے بندھے ہوئے اونٹ جیسی ہے۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ القُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الإِبِلِ المُعَقَّلَةِ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حافظ قرآن کی مثال رسی سے بندھے ہوئے اونٹ جیسی ہے، اگر اس نے ان کی نگہداشت کی، تو وہ انھیں قابو میں رکھے گا اور اگر انھیں چھوڑ دے گا، تو وہ چلے جائیں گے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

”صاحب قرآن کی مثال“ یعنی قرآن مجید کو یاد کرتے ہوئے دل و دماغ میں راسخ کرنے والا۔ ”رسی سے بندھے ہوئے اونٹ کے مالک جیسی ہے“ اس کے بعد آپ ﷺ نے اس تشبیہ کی وجہ شبہ واضح فرمائی کہ ”اگر وہ اس کو اپنی نگہداشت میں رکھے گا“ یعنی ہمیشہ اس کو باندھ کر رکھے گا، اس کو بار بار دیکھتا رہے گا اور اس کے حال سے باخبر و چوکنا رہے گا ”تو اسے اپنی ملکیت و قبضہ میں رکھ سکے گا“ اور اگر اس کو شتر بے مہار چھوڑ دے کا، تو وہ بھاگ جائے گا۔ یہی حال حافظ قرآن کا ہے کہ اگر وہ مداومت کے ساتھ روزانہ اس کی تلاوت کرے اور اس کو بار بار دہراتا رہے، تو یہ اس کے دل و دماغ میں راسخ و جاگزیں ہوجائے گا اور اگر اس کو طاق نسیان کی نذر کردے، تو دل و دماغ سے رخصت ہوجائے گا اور بھلا دیا جائے گا اور بعد ازاں اس کو دوبارہ حفظ کرنے کے لیے کافی مشقت اور تکان جھیلنی پڑے گی۔ چنانچہ جس قدر قرآن مجید کی حفاظت کا خیال رکھا جائے، اسی لحاظ سے وہ باقی رہے گا، جیسے اونٹ کو جب تک پابہ زنجیر رکھاجائے، محفوظ ہے۔ یہاں اونٹ کو خاص طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ گھریلو جانوروں میں سب سے زیادہ تیزی سے بدکنے والا جانور ہے اور اس کے بھاگ جانے کے بعد اس کو پانا بہت ہی مشکل امر ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري (6/ 193) (5031). صحيح مسلم (1/ 543) (789). شرح صحيح مسلم، للنووي (6/ 77). فيض القدير شرح الجامع الصغير، لعبدالرؤوف المناوي (3/ 3). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (13/ 12).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب تک تمہارا دل لگا رہے تب تک قرآن پڑھتے رہو اور جب اختلاف اور جھگڑا کرنے لگو تو اٹھ کھڑے ہو۔

عن جندب بن عبد الله رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «اقرؤوا القرآنَ ما ائْتَلَفت قلوبُكم، فإذا اختلفْتُم فقوموا عنه».
جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تک تمہارا دل لگا رہے تب تک قرآن پڑھتے رہو اور جب اختلاف اور جھگڑا کرنے لگو تو اٹھ کھڑے ہو“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

حدیث کا مفہوم: تب تک قرآن پڑھتے رہو جب تک تمہارا دل اس میں لگا رہے، اور جب اس کے معانی سمجھنے میں تمہارے مابین اختلاف پیدا ہونے لگے تو اس کے پاس سے اٹھ جاؤ تا کہ یہ اختلاف تمہیں شر میں مبتلا نہ کر دے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس کا معنی یہ ہو کہ قرآن کا جو حصہ محکم ہے اس کو تھام لو اور جب کوئی متشابہ آیت سامنے آ جائے جو اختلاف کا باعث ہوتی ہے تو اس میں مشغول ہونے سے احتراز کرو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد یہ حکم ہو کہ جب تک دل متوجہ رہیں تب تک پڑھتے رہو اور جب دل اكتاہٹ کا شکار ہونے لگیں تو قرآن کی تلاوت چھوڑ دی جائے تا وقتیکہ نشاط اور توجہ دوبارہ لوٹ آئے جیسا کہ نماز کے بارے میں یہی حکم آیا ہے۔ پہلا احتمال زیادہ راجح ہے۔

حوالہ

- صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. - صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت. - إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، لأحمد بن محمد بن أبى بكر بالقسطلاني المصري، الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر، الطبعة: السابعة، 1323 هـ. - المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي، نشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت، الطبعة: الثانية، 1392ه. - شرح صحيح البخاري لابن بطال، تحقيق: أبي تميم ياسر بن إبراهيم، نشر: مكتبة الرشد، الرياض-السعودية، الطبعة: الثانية 1423ه، 2003م. - التوشيح شرح الجامع الصحيح, عبد الرحمن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطي, المحقق: رضوان جامع رضوان, مكتبة الرشد - الرياض, الطبعة: الأولى، 1419 هـ - 1998 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

تمہیں یہ حکم دیا گیا ہے؟یا تمہیں اس لیے بھیجا گیا ہے کہ کتاب اللہ کے کچھ کو کچھ کر کے بیان کرو؟ تم سے پہلی امتیں اسی وجہ سے گمراہ ہوئی تھیں۔تم اس لیے نہیں ہو کہ یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے (اِس میں پڑے رہو)، تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسے دیکھو اور اس پر عمل کرو اور جس سے منع کیا گیا ہے اس سے رک جاؤ۔

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما : أنَّ نَفَرًا كانوا جُلوسًا بباب النبي صلى الله عليه وسلم ، فقال بعضُهم: ألم يَقُلِ اللهُ كذا وكذا؟ وقال بعضُهم: ألم يَقُلِ اللهُ كذا وكذا؟ فسمِعَ ذلك رسولُ الله صلى الله عليه وسلم ، فخرج كأنَّما فُقِئَ في وجهِه حَبُّ الرُّمَّان، فقال: «بهذا أُمِرْتُم؟ أو بهذا بُعِثْتم؟ أنْ تَضْربُوا كتابَ اللهِ بعضَه ببعض؟ إنَّما ضَلَّتِ الأُمَمُ قبلكم في مثل هذا، إنَّكم لستُم ممَّا هاهنا في شيء، انظروا الذي أُمِرتم به، فاعملوا به، والذي نُهِيتُم عنه، فانتهوا».
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صحابہ کی ایک جماعت نبی کریم ﷺ کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی۔ کچھ لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے نہیں فرمایا؟ اور بعض کہتے کہ ایسے ایسے نہیں فرمایا؟ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ باتیں سنیں تو باہر نکلے اور ایسے لگ رہا تھا جیسے آپ ﷺ کے چہرے پر انار کے دانے نچوڑے ہوئے ہیں۔ فرمایا:تمہیں یہ حکم دیا گیا ہے؟ یا تمہیں اس لیے بھیجا گیا ہے کہ کتاب اللہ کے کچھ کو کچھ اور کر کے بیان کرو؟ تم سے پہلی امتیں اسی وجہ سے گمراہ ہوئی تھیں۔ تم اس لیے نہیں ہو کہ یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے (اِس میں پڑے رہو)، تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسے دیکھو اور اس پر عمل کرو اور جس سے منع کیا گیا ہے اس رک جاؤ۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

صحابہ کی ایک جماعت نبی کریم ﷺ کے دروازے کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ ان کا کسی مسئلہ میں اختلاف ہو گیا اور بعض روایات کے مطابق ان کا تقدیر کے کسی مسئلہ پر اختلاف ہوگیا۔ بعض نے اپنے قول پر کتاب اللہ کی آیت کو بطور استدلال پیش کیا اور دوسروں نے اپنے استدلال پر کتاب اللہ کی آیت کو پیش کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ سنا تو غصے کی حالت میں باہر نکلے اور آپ ﷺ کا چہرۂ انور غصے سے سرخ تھا مانو آپ ﷺ کے چہرے پر انار کے دانوں کا جوس نچوڑا دیا گیا ہو۔ آپﷺ نے ان سے فرمایا کہ یہ اختلاف، جھگڑا اور قرآن میں تنازع اور قرآن کے بعض کو بعض سے متنازع کرنا، کیا تمہاری تخلیق کا مقصد یہی ہے؟یا اس کا اللہ نے حکم دیا ہے؟ ان کی مراد یہ تھی کہ ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ ان کو بتایا کہ سابقہ امتوں کی گمراہی کا سبب بھی اسی طرح کے معاملات تھے۔ پھر ان کی اس طرف رہنمائی فرمائی جس میں ان کی اصلاح اور فائدہ ہے۔ فرمایا کہ جو اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے وہ کرو اور جس سے روکا ہے اس سے باز آ جاؤ۔ یہ کام ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اور جس میں تمہارے لیے فائدہ اور اصلاح ہے۔

حوالہ

- مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. - سنن ابن ماجه، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي. - السنة، لابن أبي عاصم، ومعه ظلال الجنة، تحقيق: محمد ناصر الدين الألباني، نشر: المكتب الإسلامي – بيروت، الطبعة: الأولى، 1400ه. - مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م. - مشارق الأنوار الوهاجة ومطالع الأسرار البهاجة في شرح سنن الإمام ابن ماجه, محمد بن علي بن آدم بن موسى, دار المغني، الرياض - المملكة العربية السعودية, الطبعة: الأولى، 1427 هـ - 2006 م. - حاشية السندي على سنن ابن ماجه: كفاية الحاجة في شرح سنن ابن ماجه, محمد بن عبد الهادي التتوي، أبو الحسن، نور الدين السندي, دار الجيل - بيروت، بدون طبعة.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس آیتیں پڑھتے اور اس سے آگے اس وقت تک نہیں بڑھتے، جب تک کہ ان آیتوں میں موجود علم اور عمل کو سیکھ نہ لیتے

عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمي رحمه الله قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْ كَانَ يُقْرِئُنَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقْتَرِئُونَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ، فَلَا يَأْخُذُونَ فِي الْعَشْرِ الْأُخْرَى حَتَّى يَعْلَمُوا مَا فِي هَذِهِ مِنَ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ، قَالُوا: فَعَلِمْنَا الْعِلْمَ وَالْعَمَلَ.
ابو عبد الرحمن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم سے ان صحابۂ کرام نے بیان کیا، جو ہمیں پڑھاتے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس آیتیں پڑھتے اور اس سے آگے اس وقت تک نہیں بڑھتے، جب تک کہ ان آیتوں میں موجود علم اور عمل کو سیکھ نہ لیتے۔ وہ کہتے کہ اس طرح ہم نے علم اور عمل ایک ساتھ سیکھا۔
رواه أحمددرجہحسن
تشریح

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کی دس آیتیں اخذ کرتے اور ان سے آگے اس وقت تک نہیں بڑھتے، جب تک ان دس آیتوں میں موجود علم کو سیکھ نہ لیتے اور اس پر عمل نہ کر لیتے۔ چناں چہ انہوں نے علم اور عمل ایک ساتھ سیکھا۔

فوائد
  1. صحابہ رضی اللہ عنہم کی فضیلت اور قرآن سیکھنے کی تئیں ان کی حرص و رغبت۔
  2. قرآن سیکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کا علم حاصل کیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے، نہ یہ کہ صرف اس کی تلاوت کی جائے اور اسے یاد کیا جائے۔
  3. قول وعمل سے پہلے علم حاصل کرنا ضروری ہے۔
حوالہ

مسند أحمد (38/ 466) (23482).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم مضبوط وتونگر نوجوان لڑکے تھے۔ چنانچہ ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا جس سے ہمارے ایمان میں مزید اضافہ ہوا۔

عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضيَ اللهُ عنهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِتْيَانٌ حَزَاوِرَةٌ، فَتَعَلَّمْنَا الإِيمَانَ قَبْلَ أَنْ نَتَعَلَّمَ القُرْآنَ، ثُمَّ تَعَلَّمْنَا القُرْآنَ، فَازْدَدْنَا بِهِ إِيمَانًا.
جُندُب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم مضبوط وتونگر نوجوان لڑکے تھے۔ چنانچہ ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا جس سے ہمارے ایمان میں مزید اضافہ ہوا۔
رواه ابن ماجهدرجہصحيح
تشریح

جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم طاقت ور اور مضبوط، قریب البلوغ نوجوان تھے۔ چنانچہ ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے نبی ﷺ سے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا تو اس سے ہمارے ایمان میں اور اضافہ ہو گیا۔

فوائد
  1. ایمان میں کمی و زیادتی کا بیان
  2. نوجوان نسل کی تربیت کے وقت ترجیحات کا تعین، اور اس بات کی کوشش کہ ان کے دلوں کو ایمان سے آباد کیا جائے۔
  3. قرآن ایمان میں اضافہ کرتا ہے، اس سے دل منور اور سینہ کشادہ ہوتا ہے۔
حوالہ

سنن ابن ماجه (1/ 42) (61). مشارق الأنوار الوهاجة ومطالع الأسرار البهاجة في شرح سنن الإمام ابن ماجه (2/ 255). مرشد ذوي الحجا والحاجة إلى سنن ابن ماجه والقول المكتفى على سنن المصطفى (1/ 227).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ ہمیں ہر حال میں قرآن پڑھایا کرتے تھے، سوائے اس کے کہ آپ جنبی ہوتے۔

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُنَا القُرْآنَ عَلَى كُلِّ حَالٍ مَا لَمْ يَكُنْ جُنُبًا.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمیں ہر حال میں قرآن پڑھایا کرتے تھے، سوائے اس کے کہ آپ جنبی ہوتے۔
رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمددرجہحسن
تشریح

نبی ﷺ اپنے صحابہ کو ہر حال میں قرآن کی تعلیم دیتے اور پڑھاتے تھے، سوائے اس کے کہ آپ اپنی اہلیہ سے جماع کی وجہ سے حالتِ جنابت میں ہوتے۔

فوائد
  1. جنبی کے لیے غسل کیے بغیر قرآن پڑھنا جائز نہیں ہے۔
  2. عمل کے ذریعہ تعلیم۔
حوالہ

سنن الترمذي (1/ 214) (146). سنن أبي داود (1/ 164) (229). سنن النسائي (1/ 144) (265). سنن ابن ماجه (1/ 375) (594). مسند أحمد (2/ 61) (627). النهاية في غريب الحديث والأثر (917-167).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com