سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو اپنا ہاتھ منہ پر رکھ کر اُسے روکے۔ کیوں کہ شیطان اندر داخل ہو جاتا ہے“۔

عَن أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ بِيَدِهِ عَلَى فِيهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو اپنا ہاتھ منہ پر رکھ کر اُسے روکے۔ کیوں کہ شیطان اندر داخل ہو جاتا ہے“۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات کی جانب رہنمائی کی کہ جسے جمائی آئے اور وہ سستی یا شکم سیری وغیرہ کی وجہ سے اپنا منہ کھولے، وہ اپنا ہاتھ منہ پر رکھ کر اسے بند کر لے۔ ایسا اس لیے کہ منہ کھلا چھوڑ دینے پر شیطان اندر داخل ہو جاتا ہے اور ہاتھ رکھ دینے کے بعد اس کے لیے یہ ممکن نہیں رہ جاتا۔

فوائد
  1. جسے جمائی آئے وہ جہاں تک ہو سکے روکنے کی کوشش کرے، اپنے منہ کو بند رکھے اور کھلنے نہ دے۔ لیکن اگر بند نہ رکھ سکے، تو منہ پر اپنا ہاتھ رکھ لے اور اسے اپنے ہاتھ سے ڈھانپ دے۔
  2. ہر حال میں اسلامی آدب کا پاس و لحاظ رکھنا چاہیے، کیوں کہ یہ کمال اور اخلاق مندی کی علامت ہے۔
  3. انسان کے اندر شیطان کے داخل ہونے کے تمام راستوں کے بارے میں خبردار رہنا چاہیے۔
حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2293) (2995). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 151). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 436). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص529). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 679).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
چھینک اور جمائی لینے کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com