اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات کی جانب رہنمائی کی کہ جسے جمائی آئے اور وہ سستی یا شکم سیری وغیرہ کی وجہ سے اپنا منہ کھولے، وہ اپنا ہاتھ منہ پر رکھ کر اسے بند کر لے۔ ایسا اس لیے کہ منہ کھلا چھوڑ دینے پر شیطان اندر داخل ہو جاتا ہے اور ہاتھ رکھ دینے کے بعد اس کے لیے یہ ممکن نہیں رہ جاتا۔
- جسے جمائی آئے وہ جہاں تک ہو سکے روکنے کی کوشش کرے، اپنے منہ کو بند رکھے اور کھلنے نہ دے۔ لیکن اگر بند نہ رکھ سکے، تو منہ پر اپنا ہاتھ رکھ لے اور اسے اپنے ہاتھ سے ڈھانپ دے۔
- ہر حال میں اسلامی آدب کا پاس و لحاظ رکھنا چاہیے، کیوں کہ یہ کمال اور اخلاق مندی کی علامت ہے۔
- انسان کے اندر شیطان کے داخل ہونے کے تمام راستوں کے بارے میں خبردار رہنا چاہیے۔
صحيح مسلم (4/ 2293) (2995). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 151). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 436). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص529). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 679).