بے شک تمہارا ان گروہوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے۔
عن أبي ثَعْلَبَة الخُشَني رضي الله عنه قال: كان الناس إذا نزلوا منزلًا تفرقوا في الشِّعابِ والأَوْدِيَةِ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن تَفَرُّقَكم في هذه الشِّعاب والأَوْدِية إنما ذلكم من الشيطان». فلم ينزلوا بعد ذلك منزلاً إلا انضم بعضهم إلى بعض.
ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ لوگ جب سفر میں کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو مختلف گروہوں اور وادیوں میں بکھر جاتے۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تمہارا ان گروہوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے“۔ اس کے بعد جب بھی پڑاؤ ڈالتے تو سب ایک دوسرے سے مل جل کر اکٹھے رہتے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
لوگ جب سفر میں کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو مختلف گروہوں اور وادیوں میں بکھر جاتے ۔ تو نبئ کریم ﷺ نے انھیں بتلایا کہ ان کا یوں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، کہ وہ اللہ کے دوستوں کو ڈرائے اور اس کے دشمنوں کو بھڑکائے پھر اس کے بعد وہ جب بھی کہیں پڑاؤ ڈالتے تو سب ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر اکٹھے رہتے، یہاں تک کہ اگر ان پر چادر ڈال دی جائے تو ان کی شدید قربت کی بناء پر چادر بھی کشادہ ہو جائے۔
حوالہ
- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه.
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ.
- سنن أبي داود، لأبي داود السجستاني، تحقيق محمد محيي الدين، المكتبة العصرية.
- كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه.
- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان بن إبراهيم البكري الصديقي الشافعي اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة.
- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
- صحيح أبي داود – الأم -محمد ناصر الدين، الألباني -مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الكويت الطبعة: الأولى، 1423 هـ - 2002 م.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com