سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اکیلا سوار ایک شیطان ہے، دو سوار دو شیطان ہیں اور تین سوار ہوں تو قافلہ بنتا ہے۔

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما مرفوعًا: «الراكب شيطان، والراكبان شيطانان، والثلاثة رَكْب».
عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اکیلا سوار ایک شیطان ہے ، دو سوار دو شیطان ہیں اور تین سوار ہوں تب قافلہ بنتا ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

اس حدیث میں اکیلے ایک شخص کو اور دو اشخاص کو سفر پر جانے سے ڈرایا گیا ہے ۔ تاہم اس کا تعلق اس سفر سے ہے جہاں کسی کا گزر نہ ہو۔ اس حدیث میں کسی کے ساتھ یا پھر گروہ کی شکل میں سفر کرنے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ انسان شیطان کی چالوں سے محفوظ رہے۔ جہاں تک تنہا سفر نہ کرنے کی بات ہے تو یہ جگ ظاہر ہے، بوقتِ ضرورت انسان کو دوسرے کی مدد در پیش ہوتی ہے، یا ہوسکتا ہے کہ راستے ہی میں اس کا انتقال ہوجائے (اور وہ بے یارومددگار ہوجائے) نیز تاکہ وہ شیطان کی چالبازی کا شکار نہ ہوجائے۔ جہاں تک صرف دو لوگوں کے سفر پر نکلنے کی ممانعت ہے تو اس میں علت یہ ہوسکتی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اُن میں سے کوئی راستے میں کام آجائے (یا بیمار ہوجائے) تو دوسرا شخص تنہا ہوسکتا ہے۔ تاہم موجودہ دور میں کسی (شخص کا تنہا) موٹر کار میں سفر کرنا ایسے راستوں (روٹس) پر جو چالو ہو (بیابان نہ ہو) تو وہ تنہا سفر کرنے کی ممانعت میں شامل نہیں نہ ہی اُس اکیلے سوار مسافر کو شیطان کہا جائے گا، اس لیے کہ اپنی اپنی گاڑیوں میں سفر کرنے والے گویا قافلے کی شکل میں ہوتے ہیں، مثال کے طور پر جیسے مکہ اور ریاض یا مکہ اور جدہ کے مابین کے راستے ہیں، تاہم ایسے راستے جو غیر آباد (چالو نہ) ہوں، اُن پر گاڑی میں بھی سفر کرنا اکیلے سفر کرنے کی ممانعت کے ضمن میں آئے گا اور وہ سوار اِس حدیث کے حکم میں داخل ہوگا۔

حوالہ

- سنن الترمذي - محمد بن عيسى ، الترمذي، تحقيق وتعليق:أحمد محمد شاكر ومحمد فؤاد عبد الباقي وإبراهيم عطوة عوض -شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر الطبعة: الثانية، 1395 هـ - 1975 م. - مسند الإمام أحمد بن حنبل المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي مؤسسة الرسالة الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م. - سنن أبي داود - سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد: المكتبة العصرية. صيدا – بيروت. - صحيح أبي داود – الأم -محمد ناصر الدين، الألباني - مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الكويت الطبعة: الأولى، 1423 هـ - 2002 م. - موطأ الإمام مالك- المؤلف: مالك بن أنس بن مالك الأصبحي-صححه ورقمه وخرج أحاديثه وعلق عليه: محمد فؤاد عبد الباقي-دار إحياء التراث العربي، بيروت – لبنان-1406 هـ - 1985 م. - نيل الأوطار- محمد بن علي الشوكاني -تحقيق: عصام الدين الصبابطي- دار الحديث، مصر- الطبعة: الأولى 1413هـ - 1993م عون المعبود شرح سنن أبي داود، ومعه حاشية ابن القيم: تهذيب سنن أبي داود وإيضاح علله ومشكلاته / محمد أشرف بن أمير بن علي بن حيدر، ، العظيم آبادي: دار الكتب العلمية -بيروت الطبعة: الثانية، 1415 هـ. - الاستذكار: أبو عمر بن عبد البر بن عاصم النمري القرطبي -تحقيق: سالم محمد عطا، محمد علي معوض-دار الكتب العلمية – بيروت-الطبعة: الأولى، 1421 - 2000م. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين/محمد علي بن محمد بن علان بن إبراهيم البكري الصديقي الشافعي -اعتنى بها: خليل مأمون شيحا- دار المعرفة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت – لبنان- الطبعة: الرابعة، 1425 هـ - 2004 م. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
سفر کے آداب اور احکام

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com