اس حدیث شریف میں اچھے انداز سے باہمی معاملہ کرنے کے آداب میں سے ایک ادب کی تعلیم دی گئی ہے۔ نبی ﷺ قرض دار کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ اچھے انداز میں قرض کی ادائیگی کرے اور قرض خواہ کو تلقین فرما رہے ہیں کہ وہ اچھے انداز میں قرض کا مطالبہ کرے۔ نبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ قرض خواہ جب قرض کا مطالبہ کرے یا پھر اشارے کنائے یا قرینہ سے معلوم ہو کہ وہ قرض کی ادائیگی چاہ رہا ہے تو اس صورت میں اس مالدار شخص کا ٹال مٹول کرنا جو قرض کی ادائیگی کی قدرت رکھتا ہے سرا سر اس قرض خواہ کے ساتھ ظلم ہے اور بلا عذر اس کی حق کی ادائیگی میں آڑے آنا ہے۔ یہ ظلم اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب قرض دار، اپنے قرض خواہ کو کسی ایسے مال دار آدمی کی طرف منتقل کر دے جس سے اپنا حق وصول کرنا اس کے لیے آسان ہو۔ اس صورت میں قرض خواہ کو چاہیے کہ وہ اس منتقلی کو قبول کر لے۔ یہ اس کی طرف سے حسن تقاضا ہے اور اس میں قرض کی ادائیگی میں بھی آسانی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس سے وہ ظلم بھی دور ہو رہا ہے جو ٹال مٹول کرنے والے قرض دار کے ذمہ قرض باقی رہنے کی وجہ سے ہوتا۔
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ. تسهيل الالمام، للشيخ الفوزان، طبعة الرسالة، الطبعة الأولى 1427 – 2006م. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ. صحيح البخاري, تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر, دار طوق النجاة ترقيم محمد فؤاد عبدالباقي, ط 1422هـ. صحيح مسلم, تحقيق: محمد فؤاد عبدالباقي, دار إحياء التراث العربي.