عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَطْعِمُوا الجَائِعَ، وَعُودُوا المَرِيضَ، وَفُكُّوا العَانِيَ».
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "بھوکے کو کھانا کھلاؤ، مریض کی عیادت کرو اور قیدی کو آزاد کراؤ"۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر یہ حق ہے کہ بھوکے کو کھانا کھلائے، مریض کی عیادت کرے اور قیدی کو رہا کرائے۔
فوائد
- مسلمانوں کے درمیان باہمی تعاون کی ترغیب۔
- بھوکے محتاج کو کھانا کھلانے کی ترغیب، کیونکہ اسے کھانا کھلانے کا حکم دیا گیا ہے۔
- مریض کی بیمار پرسی، اس کی دل جوئی، اس کے لیے دعا، اجر کے حصول اور دیگر امور کی خاطر مشروع ہے۔
- قیدی کو جب کفار قید کرلیں تو اسے چھڑانے کا اہتمام کرنا، چاہے یہ ان سے چھڑانے کے لیے کوئی معاوضہ دے کر ہو، یا پھر کفار کے کسی قیدی کے ساتھ اس کا تبادلہ کرکے ہو۔
حوالہ
صحيح البخاري (7/ 67) (5373). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 468). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 685).