میرے نزدیک تم میں سے (دنیا میں) سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ نزدیک بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو تم میں بہترین اخلاق والے ہیں اور میرے نزدیک تم میں (دنیا میں) سب سے زیادہ قابل نفرت اور قیامت کے دن مجھ سے دور بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو باتونی، بلااحتیاط بولنے والے، زبان دراز اور تکبر کرنے والے ہیں۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے نزدیک تم میں سے (دنیا میں) سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو تم میں بہترین اخلاق والے ہیں، اور میرے نزدیک تم میں (دنیا میں) سب سے زیادہ قابل نفرت اور قیامت کے دن مجھ سے دور بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو باتونی، بلا احتیاط بولنے والے، زبان دراز اور”متفيهقون“ ہیں“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے ”ثرثارون“ (باتونی) اور ”متشدقون“ (بلااحتیاط بولنے والے) کو تو جان لیا لیکن یہ ”متفیھقون“ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ”تکبر کرنے والے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
آپ ﷺ کے فرمان ”إن مِن“ میں ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، تم میں سب سے محبوب اور قیامت کے دن مجلس کے اعتبار سے قریب تر وہ شخص ہوگا جو خالق اور مخلوق دونوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئے۔ آگے (إن من) میں بھی ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے۔ چنانچہ ”أبغضكم“ کا معنی ہوا تم میں سے سب سے ناپسندیدہ اور قیامت کے دن مرتبے کے لحاظ سے مجھ سے بعید تر وہ شخص ہوگا جو زیادہ تکلّف سے باتیں کرتا ہے، ”المتشدق“ وہ شخص جو لوگوں میں بڑائی اور عظمت کے لیے لمبی لمبی باتیں کرتا (ہانکتا) ہو اور جو اپنی گفتگو میں تکبّر کرے اور دوسروں پر اپنی فوقیت ظاہر کرے۔
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com