سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے، جو اپنے لیے کرتا ہے“۔

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قالَ: «لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے، جو اپنے لیے کرتا ہے“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ کسی شخص کو ایمان کامل کی دولت اس وقت تک نصیب نہیں ہو سکتی، جب تک اپنے بھائی کے لیے بھی دین اور دنیا کی وہی چیزیں پسند نہ کرے، جو اپنے لیے کرتا ہو اور اس کے لیے انھیں چيزوں کو ناپسند نہ کرے، جنھیں اپنے لیے ناپسند کرتا ہو۔ اگر اپنے بھائی کے اندر دین کی کوئی کمی دیکھے، تو اس کی اصلاح کی کوشش کرے اور اچھائی دیکھے تو اسے اور جلا دے اور اس میں مدد کرے۔ دین اور دنیا سے متعلق تمام امور میں اس کی خیرخواہی کرے۔

فوائد
  1. انسان پر یہ واجب ہے کہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو۔ کیوں کہ جو اپنے لیے پسند ہو اسے اپنے بھائی کے لیے پسند نہ کرنے والے کے ایمان کی نفی یہی بتاتی ہے۔
  2. دینی اخوت کا درجہ نسبی اخوت سے اوپر ہے۔ لہذا اس کا حق بھی زیادہ واجب ہے۔
  3. ایسے تمام اقوال و افعال حرام ہیں جو اس اخوت کے منافی ہوں جیسے دھوکہ، غیبت، حسد اور مسلمان کی جان، مال یا عزت و آبرو پر حملہ وغیرہ۔
  4. مہمیز کا کام کرنے والے الفاظ کا استعمال۔ کیوں کہ آپ نے "اپنے بھائی" کا لفظ استعمال کیا ہے۔
  5. کرمانی رحمہ اللہ کہتے ہيں: ایمان کا تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان اپنے بھائی کے لیے بھی وہ ناپسند کرے، جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہو۔ لیکن اس کا ذکر آپ نے نہیں کیا۔ کیوں کہ کسی چيز سے محبت سے اس کی ضد سے نفرت لازم آتی ہے۔ لہذا اسے الگ سے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 12) (13). صحيح مسلم (1/ 67) (45). التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية، مطبعة دار نشر الثقافة، الإسكندرية، الطبعة: الأولى، 1380 هـ. شرح الأربعين النووية، للشيخ ابن عثيمين، دار الثريا للنشر. فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، دار ابن القيم، الدمام المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى، 1424هـ/2003م. الفوائد المستنبطة من الأربعين النووية، للشيخ عبد الرحمن البراك، دار التوحيد للنشر، الرياض. الأحاديث الأربعون النووية وعليها الشرح الموجز المفيد، لعبد الله بن صالح المحسن، نشر: الجامعة الإسلامية، المدينة المنورة، الطبعة: الثالثة، 404هـ/1984م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com