سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

غصہ مت کیا کرو

عن أبي هريرة رضي الله عنه: أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي، قَالَ: «لَا تَغْضَبْ» فَرَدَّدَ مِرَارًا قَالَ: «لَا تَغْضَبْ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : ایک شخص نے اللہ کے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت کریں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”غصہ مت کیا کرو“۔ اس نے یہ سوال بار بار دہرایا اور آپ ﷺ ہر بار یہی فرماتے رہے کہ غصہ مت کیا کرو۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

ایک صحابی نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے گزارش کی کہ ان کو کوئی ایسی بات بتائيں، جو ان کے لیے سودمند ثابت ہو۔ لہذا آپ نے ان سے کہا کہ وہ غصہ نہ کیا کریں۔ یعنی ایک تو غصہ دلانے والی چیزوں سے بچیں اور دوسرا جب غصہ آجائے، تو اپنے اوپر قابو رکھیں۔ ایسا نہ ہو کہ غصے میں آکر قتل کر دیں، مار دیں یا گالی گلوج وغیرہ کرنے لگیں۔ اس صحابی نے کئی بار اپنی بات دہرائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ہر بار بس اتنا کہا کہ تم غصہ نہ کیا کرو۔

فوائد
  1. اس حدیث میں غصہ اور غصہ دلانے والی چیزوں سے خبردار کیا گیا ہے۔ کیوں کہ غصہ ساری برائیوں کی جڑ ہے اور اس سے بچے رہنا تمام بھلائیوں کا سرچشمہ ہے۔
  2. اللہ کے لیے غصہ آنا، جیسے اللہ کے احکام کی پامالی پر غصہ آنا قابل تعریف چیز ہے۔
  3. ضرورت پڑنے پر بات کو دہرانا چاہیے، تاکہ سننے والا سمجھ جائے اور بات کی اہمیت ذہن میں بیٹھ جائے۔
  4. عالم سے وصیت کی گزارش کرنے کی فضیلت۔
حوالہ

صحيح البخاري (8/ 28) (6116). التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية (ص36). شرح الأربعين النووية، لابن عثيمين (ص181). فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، للعباد (ص64). المعجم الوسيط، (2/ 1038). تاج العروس من جواهر القاموس، للزبيدي (3/ 485).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com