ایک صحابی نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے گزارش کی کہ ان کو کوئی ایسی بات بتائيں، جو ان کے لیے سودمند ثابت ہو۔ لہذا آپ نے ان سے کہا کہ وہ غصہ نہ کیا کریں۔ یعنی ایک تو غصہ دلانے والی چیزوں سے بچیں اور دوسرا جب غصہ آجائے، تو اپنے اوپر قابو رکھیں۔ ایسا نہ ہو کہ غصے میں آکر قتل کر دیں، مار دیں یا گالی گلوج وغیرہ کرنے لگیں۔ اس صحابی نے کئی بار اپنی بات دہرائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ہر بار بس اتنا کہا کہ تم غصہ نہ کیا کرو۔
- اس حدیث میں غصہ اور غصہ دلانے والی چیزوں سے خبردار کیا گیا ہے۔ کیوں کہ غصہ ساری برائیوں کی جڑ ہے اور اس سے بچے رہنا تمام بھلائیوں کا سرچشمہ ہے۔
- اللہ کے لیے غصہ آنا، جیسے اللہ کے احکام کی پامالی پر غصہ آنا قابل تعریف چیز ہے۔
- ضرورت پڑنے پر بات کو دہرانا چاہیے، تاکہ سننے والا سمجھ جائے اور بات کی اہمیت ذہن میں بیٹھ جائے۔
- عالم سے وصیت کی گزارش کرنے کی فضیلت۔
صحيح البخاري (8/ 28) (6116). التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية (ص36). شرح الأربعين النووية، لابن عثيمين (ص181). فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، للعباد (ص64). المعجم الوسيط، (2/ 1038). تاج العروس من جواهر القاموس، للزبيدي (3/ 485).